مےر ہزار خاںکھوسو کے نام پر اتفاق رائے کا امکان

مےر ہزار خاںکھوسو کے نام پر اتفاق رائے کا امکان

                        تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

نگران وزیراعظم کا فیصلہ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کا ایک اور اجلاس جمعرات کو بے نتیجہ ختم ہوگیا، اجلاس میں بحث تو بہت ہوئی، کئی سوالات بھی اٹھائے گئے لیکن فیصلہ کوئی نہ ہوسکا، اجلاس کی صدارت مسلم لیگ (ن) کے رُکن سردار یعقوب ناصر نے کی، بدھ کو کمیٹی کا جو پہلا اجلاس ہوا تھا اس کی صدارت حاجی غلام احمد بلور (اے این پی) نے کی تھی، آج یعنی جمعة المبارک کو کمیٹی کے دو سیشن ہوں گے، اس حوالے سے اہم سوالات یہ ہیں کہ آج کے دونوں سیشن نتیجہ خیز ثابت ہوں گے ، یا پہلے جیسے اجلاسوں کی طرح بے نتیجہ، لیکن آج اگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا، جو کوئی بھی فیصلہ کرسکتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیٹی کے روبرو مسلم لیگ (ن) کے جو دو نام زیر بحث ہیں، پیپلزپارٹی نے دونوں پر اپنے تحفظات ظاہر کردیئے ہیں ، بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے ان دونوں میں سے کسی نام کے حق میں فیصلہ دے دیا تو یہ نہیں مانا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی اگر کوئی فیصلہ ہی نہیں کرپاتی، تو الیکشن کمیشن کو تو بہرحال فیصلہ کرنا ہے اور اسے یہ اختیار آئین کے تحت حاصل ہے۔ معلوم نہیں پیپلزپارٹی نے ایسا کیوں کہا ہے کیا اس کے رہنما قمر زمان کائرہ آئینی پوزیشن سے لا علم ہیں۔ ایسا تو نہیں ہوگا، اگر الیکشن کمیشن تک معاملہ پہنچا تو اسے فیصلہ کرنے کا اختیار ہے ایسی صورت میں یہ فیصلہ ماننا بھی پڑے گا تو کیا یہ بہتر نہیں کہ کسی آزمائش میں پڑنے کی بجائے کمیٹی ہی فیصلہ کرلے، اور یہ کمیٹی کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔ کمیٹی کے رکن چودھری شجاعت حسین نے کہا بھی ہے کہ فیصلہ کمیٹی کو ہی کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کے نام پر مسلم لیگ (ن) نے اعتراض کیا کہ وہ پاکستانی سفیر خلیل کے بہت قریبی دوست ہیں ، جن کے قریبی تعلقات ایوان صدر سے ہیں۔ اسی طرح باقی ناموں پر بھی سوالات کئے گئے اور ان کے جوابات دیئے گئے۔ فیصلہ پھر بھی نہ ہوسکا بہرحال فیصلے کے لئے صرف آج کا دن ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کمیٹی میں آخری لمحات میں کوئی فیصلہ ہوجائے۔ خورشید شاہ کے بقول کمیٹی اچانک کوئی سرپرائز بھی دے سکتی ہے، اگرچہ مجموعی طور پر یہ تاثر تو ابھر رہا ہے کہ کمیٹی کے ارکان کو احساس ہے کہ فیصلہ سیاستدانوں کو خود ہی کرنا چاہیے اور چودھری شجاعت حسین نے کہا بھی ہے کہ اگر سیاستدانوں نے کوئی فیصلہ نہ کیا اور معاملہ اُن کے ہاتھ سے غیر سیاسی لوگوں (الیکشن کمیشن) کے پاس چلا گیا تو یہ بدنصیبی کی بات ہوگی، لیکن اگر یہ احساس موجود ہے تو فیصلہ کیوں نہیں ہورہا، یہ سیاستدانوں کے سوچنے کی بات ہے لیکن سیاستدانوں کے پاس وقت بہرحال کم ہے۔ ان کے پاس لامحدود وقت نہیں، اگر آج بھی وہ اندیشہ ہائے دور دراز میں الجھے رہے تو پھر ظاہر ہے معاملے کو الیکشن کمیشن کے پاس جانے سے تو نہیں روکا جاسکتا۔ حاجی غلام احمد بلور نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کمیٹی آج (جمعة المبارک) کو کسی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔

اگرچہ کمیٹی کے ارکان اس سلسلے میں مُہر بلب ہیں اور کوئی بات بتانے کے لئے تیار نہیں، تاہم ذرائع نے خیال ظاہر کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت میں رابطہ ہوا ہے جس میں جسٹس میر ہزار خان کھوسو کے نام پر تبادلہ خیال ہوا، امکان ہے کہ اس نام پر اتفاق رائے ہو جائے، تاہم ممتاز شاعر اعجاز رحمانی نے فی البد یہہ کہا‘

لوگو! سراغِ منزل، منزل سے ہی ملے گا

نگراں وزیراعظم مشکل سے ہی ملے گا

مزید : صفحہ اول