مشرف کو ”دوستوں“ کی مہربانی سے وطن واپسی کا محفوظ راستہ مل گیا

مشرف کو ”دوستوں“ کی مہربانی سے وطن واپسی کا محفوظ راستہ مل گیا

 لاہور(جنرل رپورٹر) انتخابی عمل شروع ہونے اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی کے لئے پاکستان کے قریبی دوست ملک سعودی عرب کے حکمران اہم کردار ادا کررہے ہیں اور ان ہم دوستوں کی ”مہربانی“ سے انہیں پاکستان کا محفوظ راستہ مل گیا ہے جس کے تحت انہیں کسی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنائے جانے کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے تاہم عدالتی معاملات میں انہیں قانونی صورتحال کا سامناکرنا پڑے گا۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق پاکستان کے قریبی دوست ملک سعودی عرب کے فرمانروا نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی وطن واپسی کے لئے سیاسی وعسکری قیادت سے باقاعدہ گارنٹی بھی حاصل کی ہے۔ باخبرذرائع نے ”پاکستان“ کو بتایا ہے کہ پاکستان واپسی سے صرف دو روز قبل جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سعودی فرمانروا سے تفصیلی ملاقات کی اور وطن واپسی کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا اور مدد مانگی جبکہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی عمرہ کی حالیہ سعادت کے دوران سعودی فرمانروا سے ملاقات کی ۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کا حالیہ غیر ملکی دوسرہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اس کی تائید ان کی ایک روز قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران پرویز مشرف کے خلاف کسی ایکشن کے بارے میں مبہم بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور قانون اپنا راستہ دیکھ سکتے ہیں لیکن ہم کسی کو زبردستی ملک سے باہر بھیجنے کے حق میں نہیں کیونکہ ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ذرائع کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی وطن واپسی کے حوالے سے درپردہ تمام معاملات طے پاچکے ہیں اور اب وہ ہر طرح سے خود کو محفوظ سمجھ کر پاک سرزمین پر لینڈ کریں گے۔ پاکستانی وقت کے مطابق شام چھ بجے ہونے والی اس ملاقات کے دوران سعودی حکمران خاندان نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے اس امر کی یقین دہانی حاصل کی کہ سابق صدر کی وطن واپسی کے حوالے سے ان کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی تاہم پاکستانی مقتدر حکام نے سعودی عرب کو باور کرایا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف حکومتی وانتظامی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا تاہم عدلیہ اگر قانون کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کوئی اقدام کرے گی تو پرویز مشرف کو اس کا سامنا کرنا کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ میاں نوازشریف کا تختہ الٹنے کے بعد ان کے خلاف ہونے والے اقدامات کے موقع پر بھی پاکستان کے اہم دوست کے فرمانرواﺅں نے اہم کردار ادا کیاتھا اور ان کو تحفظ فراہم کیا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وطن واپسی سے قبل سابق صدر کی بیٹی نے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے سندھ ہائیکورٹ سے بھی رجوع کرلیا ہے۔ دوسری جانب 24 مارچ کو وطن واپسی کے لئے سابق صدر نے پاکستان کے معروف ٹی وی اینکرز اور سینئر اخبار نویسوں کو بھی دبئی بلایا ہے جو وطن واپسی پر ان کے ہمسفر ہوں گے۔

مزید : صفحہ اول