این اے 115نارووال راجپوت اور سلہری برادری کاراج ،کشمیر ی مہاجرین امیدوارکی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

این اے 115نارووال راجپوت اور سلہری برادری کاراج ،کشمیر ی مہاجرین امیدوارکی ...
این اے 115نارووال راجپوت اور سلہری برادری کاراج ،کشمیر ی مہاجرین امیدوارکی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

  

لاہور(شہباز اکمل جندران،معاونت انعام اللہ بٹ نامہ نگار)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 115نارووال میں الیکشن میلہ لگ گیا۔ علاقے میں جگہ جگہ سیاسی رہنماوں کے قد آدم ہورڈنگز اور سائن بورڈز نظر آنے لگے ۔ووٹروں میں بھی جوش خروش پایا جانے لگا۔حلقہ این اے 115میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 243924 ہے جن میں مرد ووٹوں کی تعداد 142596اور خواتین ووٹ کی تعداد 101328 ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں 114946 ووٹ کاسٹ ہوئے جس کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ڈاکٹر سمیرا ناز کامیاب ہوئی تھیں جو کہ علاقہ کے مشہور بزرگ سیاستدان میاں محمد رشید آف درمان کی بہو ہیں جنہوں نے 59687 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے محمد نصیر خان نے 40205 ووٹ حاصل کئے۔ اسی حلقہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے طارق اشرف کاہلوں 11060 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ میاں محمد رشید متعدد بار آزاد کشمیر دستور ساز اسمبلی کے ممبر اور وزیر رہ چکے ہیں جبکہ ایک بار تو وہ ممبر آزاد کشمیر دستور ساز اسمبلی ایم ایل اے کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی کے ایم پی اے بھی رہے جو کہ ایک منفرد اعزاز ہے۔ گزشتہ الیکشن میں بی اے کی شرط کے باعث میاں محمد رشید نے اپنی بہو ڈاکٹر سمیرا ناز کو کھڑا کیا اور وہ اکثریتی ووٹوں سے ایم این اے منتخب ہوگئیں۔ حلقہ این اے 115 میں برادریوں کا ذکر کیا جائے تو اس حلقہ میں راجپوت اور سلہری برادری کا راج ہے‘ جٹ اور گجر برادری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حلقہ میں آزاد جموں و کشمیر کے مہاجرین بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے الیکشن اور پاکستان میں عام انتخابات کے وقت دونوں دفعہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ میاں محمد رشید کی کامیابی میں مہاجرین جموں و کشمیر کا بڑا ہاتھ ہے۔ سابق ایم این اے ڈاکٹر سمیرا ناز نے اپنے سسر میاں محمد رشید کی معرفت حلقہ میں بہت زیادہ ترقیاتی منصوبہ جات مکمل کرائے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کا نام روشن کیا ہے۔ حلقہ پی پی 132 کا ذکر کیا جائے تو یہاں سے گزشتہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر چوہدری اویس قاسم خان 33382 ووٹ لے کر ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل 2002ءکے الیکشن میں کامیاب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سید سعیدالحسن شاہ آف مراڑہ شریف نے 28732 ووٹ حاصل کئے اور دوسرے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے ضیغم مشتاق 5887ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ 2013ءکے عام انتخابات کے لئے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے میاں محمد رشید آف درمان کا نام بطور امیدوار ایم این اے سرفہرست لیا جا رہا ہے جبکہ حلقہ پی پی 132 سے سابق ایم پی اے چوہدری اویس قاسم خان بھی حلقہ این اے 115 سے مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور اگر انہیں ٹکٹ نہ ملی تو وہ بدستور صوبائی حلقہ پی پی 132 سے ہی امیدوار ہوں گے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ کے لئے سابق چیئرمین پبلک سیفٹی کمیشن چوہدری عرفان عابد بھی کوشاں ہیں ۔ گزشتہ چند ماہ سے پاکستان تحریک انصاف نے عوام میں کافی مقبولیت حاصل کرلی ہے اور خاص کر نوجوانوں میں عمران خان کو کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ حلقہ این اے 115 میں تحریک انصاف کا ذکر کیا جائے تو یہاں پر تحریک انصاف سنٹرل ریجن پنجاب کے صدر بیرسٹر منصور سرور خان کا تعلق بھی اسی حلقہ سے ہے۔ چوہدری اویس قاسم خان کے تایا زاد بھائی بیرسٹر منصور سرور خان جو 2002ءکے الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں اور مخالف امیدواروں کو کافی ٹف ٹائم دیتے ہیں وہ بھی حالیہ الیکشن میں اپنی بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور مختلف دیہاتوں میں اپنی الیکشن کمپین کر رہے ہیں ۔ مسلم لیگی رہنما مرحوم چوہدری محمد سرور آف روپو چک سابق صدابہار ایم این اے کے بڑے صاحبزادے بیرسٹر چوہدری منصور سرور خان پی ٹی آئی کی جانب سے اس حلقہ سے امیدوار ہوں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے ابھی تک اس حلقہ میں کوئی بھی نام سامنے نہیں آیا جبکہ مسلم لیگ (ق) کا تو ضلع بھر میں اللہ ہی حافظ ہے۔ 2002ءکے الیکشن میں مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم سے اس حلقہ میں منتخب ہونے والے نمائندگان اب تتر بتر ہو چکے ہیں اور اپنی سیاسی وفاداریاں بھی تبدیل کر چکے ہیں ۔ بعض سیاسی قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ کے لئے کوشاں ہیں مگر تاحال انہیں قیادت کی طرف سے اطمینان بخش جواب نہ مل سکا۔ جماعت اسلامی کا ذکر کیا جائے تو اس حلقہ سے جماعت اسلامی نے حلقہ این اے 115 سے ڈاکٹر محمد عبداللہ کو اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے جبکہ صوبائی حلقہ پی پی 132 میں افتخار احمد چوہدری بھی جماعت اسلامی کے امیدوار ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تاحال سابق ایم پی اے چوہدری اویس قاسم خان ہی پی پی 132 سے امیدوار ہیں جنہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواست بھی جمع کرا رکھی ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر چوہدری اویس قاسم خان آزاد امیدوار حلقہ این اے 115 ہوئے تو ان کا پینل کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر دستور ساز اسمبلی کے رکن چوہدری محمد حسین سرگالہ کے صاحبزادے و مشیر وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری اکمل سرگالہ امیدوار حلقہ پی پی 132 ہو سکتے ہیں ۔حلقہ این اے 115 پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اس حلقہ پر روپوچک کے چوہدری محمد سرور خاں مرحوم اور ان کے بھائی چوہدری غلام احمد مرحوم کے علاوہ درمان سے میاں محمد رشید ہی سیاست کے افق پر چھائے رہے ہیں ۔ مرحوم چوہدری محمد سرور کو صدابہار ایم این اے اور چوہدری غلام احمد کو صدابہار ایم پی اے کے القاب سے بھی یاد کیا جاتا تھا جن کا تعلق شروع سے ہی مسلم لیگ سے رہا ہے اور اس کے علاوہ میاں محمد رشید متعدد بار ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں ۔ 2008ءکے الیکشن میں جب چوہدری اویس قاسم خان نے اپنی الیکشن مہم شروع کی تو عوام کو ”ظفروال کو تحصیل بنایا جائے“ ایک نعرہ دیا جس پر عوام میں انہیں بھرپور پذیرائی ملی اور وہ حلقہ سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ چوہدری اویس قاسم خان نے حلقہ میں جہاں دیگر بہت سارے ترقیاتی کام کرائے وہیں پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے ظفروال کو تحصیل کا درجہ دلانے کے لئے منظوری حاصل کی اور 2010ءمیں ظفروال کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا جس سے لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہونے لگے اور اس کا سارا سہرا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے چوہدری اویس قاسم خان کو جاتا ہے۔ آئندہ انتخابات کے لئے انتخابی جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ میاں محمد رشید‘ چوہدری اویس قاسم خان اور بیرسٹر منصور سرور خان اپنی بھرپور مہم چلا رہے ہیں ‘ برادریوں کے جوڑ توڑ شروع اور دھڑوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے تگ و دو جاری ہے۔ تحصیل ظفروال کے عوام اب کی بار کس کے سر پگ رکھتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن امیدواران اپنی کامیابی کے لئے پرامید ہیں ۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳