پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے پھڈے نے جمہوریت سے ریاست اہم بنا دی ، سیاستدان ناکام ، نگران وزیراعظم کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد ، اجلاس طلب

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے پھڈے نے جمہوریت سے ریاست اہم بنا دی ، سیاستدان ناکام ...
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے پھڈے نے جمہوریت سے ریاست اہم بنا دی ، سیاستدان ناکام ، نگران وزیراعظم کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد ، اجلاس طلب

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمانی کمیٹی نگران وزیراعظم کافیصلہ نہیں کر سکی اور اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے چیئرمین غلام احمد بلور نے دکھ کا اظہار کیا کہ کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ قابل قبول ہو گا، سخت مایوسی ہوئی، اگر فیصلہ نہیں کرنا تھا تو کمیٹی کیوں بنائی۔ کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ معاملات افہام و تفہیم سے دیکھے گئے ، سب نام معتبر ہیں ، ہم آنے والی پارلیمنٹ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اس میں مناسب ترمیم کرے تاکہ وہ صورتحال پیدا نہ ہو جس کا کمیٹی کو سامنا کرنا پڑا۔ اب الیکشن کمیشن چاروں ناموں کا جائزاہ لیکر جو بھی فیصلہ کرے گا وہ سب کو منظور ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے کل ہفتے کو اجلاس طلب کرلیا جس میں ان چاروں ناموں میں سے کسی ایک کو نگران وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس مقصد کیلئے چیف الیکشن کمشنر ہفتہ کی صبح کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور انہوں نے الیکشن کمیشن کے تمام اراکین کو بھی اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن یہ فیصلہ پیر تک کرنے کا پابند ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ن لیگ کے دونوں ناموں پر اعتراضات الیکشن کمیشن کو بھجوانے کافیصلہ کیا ہے۔ یہاں یہ امر قالِ ذکر ہے کہ اب تک دو صوبوں میں بننے والے نگران وزیراعظم کا تقرر بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاچکا ہے جبکہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے تقرر کا معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ قرائن بتاتے ہیں کہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ بھی پارلیمانی کمیٹی حل نہیں کر پائے گی یہاں بھی ن لیگ اور پیپلزپارپی کا پھڈہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجواتا نظر آ رہا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ کمیٹی نے بڑی ایمانداری کے ساتھ کوشش لیکن بدقسمتی سے ہم کامیاب نہیں ہو سکے اور اب یہ فیصلہ الیکشن کمیشن میں جائے گا اور نگران وزیراعظم کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔ مہتاب عباسی کا کہنا تھا کہ چاروں نام پاکستان کے بڑے معتبر نام تھے،دونوں طرف سے اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو سیاسی فیصلہ کرنے کا موقع ملا تھا، تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی فیصلے میں کامیاب نہ ہو سکے۔اپوزیشن لیڈر چودھری نثار کا کہنا تھا کہ جسٹس ناصر اسلم زاہد نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا وہ معتبر نام ہیں۔ میں نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا، اب الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا وہ سب کیلئے قابل قبول ہو گا۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ سیاستدان ناکام نہیں ہوئے اور نہ ہی یہ کمیٹی قائم ہوئی یہ پہلا تجربہ تھا اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئینی ترمیم میں مزید ضرورت ہے۔ کمیٹی انہی ناموں پر غور کی پابندی تھی جو اس کے سامنے زیر غور تھے اور وہ اس میں کوئی کم یا زیادہ نہیں کر سکتی تھی اور یہ ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ کمیٹی کے پاس ایسا کوئی اختیار ہونا چاہئے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تمام امور جمہوری انداز میں خوشگوار ماحول میں ہوئے۔ سابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آنے والی پارلیمینٹ کو آئین کے اس حصے پر غور کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں نگران وزیراعظم کا فیصلہ کرتے وقت پارلیمانی کمیٹی کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کا سامنا اس کمیٹی نے کیا ہے۔

مزید : اسلام آباد /Headlines