مشرف سے ملوں یا نواز شریف سے, کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے :شاہد آفریدی

مشرف سے ملوں یا نواز شریف سے, کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے :شاہد آفریدی
مشرف سے ملوں یا نواز شریف سے, کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے :شاہد آفریدی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سڈنی(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی کرکٹر شاہد خان آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے ملیں یا نواز شریف  سے ، کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، وہ اپنے فیصلوں میں مکمل آزاد ہیں، کوارٹرفائنل سے باہر ہونے پر دکھ ہوا۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں شاہدخان آفریدی کاکہناتھاکہ   کوارٹر فائنل ہارنے کا افسوس ہے اوروہ اس کے لیے قوم سے معافی مانگتے ہیں،  کواٹر فائنل میں جس شاٹ پر آؤٹ ہوئے ، اس پر اُنہیں پچھتاوا ضرور ہے لیکن وہ اب بھی سمجھتے ہیں  کہ  وقت کا تقاضا یہی تھا کیونکہ جو کھلاڑی روک رہے تھے وہ بھی آؤٹ ہو رہے تھے ، اس لیے  شا ٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا تاکہ سکور بھی بڑھاسکیں ۔

اُن کاکہناتھاکہ فیلڈنگ اہم شعبہ ہے اور کیچ ڈراپ کی وجہ سے ہارنے لگے ، وہ سمجھتے ہیں کہ 80میچوں کا انحصار  فیلڈنگ پر ہے ۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کے اگلے کپتان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے دیں ،جلد ہی نئے کپتان کے بارے میں بتادیں گے ، دوچار دن بچوں میں رہیں گے ، ذہن پرسکون ہوگا  کون ہوگا۔

مصباح کا پیدا کردہ خلا پُر کرنا مشکل ہو گا: مائیکل ہولڈنگ

کرکٹ سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لینے سے متعلق سوال پر  شاہد خان آفریدی کاکہناتھاکہ ابھی تک نہیں سوچا ، فلاحی کام ترجیح ہیں تاہم  کسی سے ملاقات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوناچاہیے ، جوباتیں کرتے ہٰیں ، اُنہیں خود سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کرتے رہیں ؟ خود مختار پاکستانی ہیں اور قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے فیصلے اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں  ۔

مزید : Cricket World Cup 2015