آئین ہند کے دفعہ356کا اطلاق جموں وکشمیر میں براہ راست نہیں ہوسکتا

آئین ہند کے دفعہ356کا اطلاق جموں وکشمیر میں براہ راست نہیں ہوسکتا

 جموں (کے پی آئی) وزیرا علی مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ ریاست میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ افسپا کو مرحلہ وار طریقے سے ہٹانے کیلئے ریاستی حکومت نے من بنالیا ہے ہم آہستہ آہستہ افسپا کی منسوخی کا عمل شروع کریں گے۔۔ اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کو ریاست میں فوج کو جوابدہ بنانے ، انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بڈگام جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں نافذ افسپا کو ہٹانے کا فیصلہ وزارت دفاع کو کرنا ہے ۔ وزیرا علی نے کہاکہ افسپا ہٹانے سے پہلے ریاست میں تعینات فوجی آفیسر اہلکاروں کو جوابدہ بنانے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جائینگے ۔ بڈگام واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہاکہ فوج کی جانب سے دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد اگر چہ ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی تاہم مستقبل میں اس طرح کے واقعات پر قابو پانے کیلئے فوج کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دیرپامسئلہ کشمیرکے حل کے لئے نئی دہلی کو اسلام آباد سے مذاکرات شروع کرنے کو کہتے ہوئے مفتی نے کہاکشمیر میں سازگار ماحول کے لئے حکومت ہند کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئے، پاکستان کے ساتھ تعلقات مسئلہ ہے، ہندوستان ایک عظیم ملک بن جائے گا۔ اور یہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے داخلی اور خارجہ سطح پر مذاکراتی عمل شروع کیاتھا۔ واجپئی نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کئے اور پاکستان کے ساتھ مفاہمتی عمل شروع کیا۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے پاس ہندوستان کے لوگوں کا منڈیٹ ہے، ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ واجپئی کے مشن کو آگے لے جائیں۔ اسمبلی انتخابی مفتی نے اسمبلی انتخابات2014کے نتائج کو جموں اور کشمیر کے دونوں خطوں کے عوام کو آپس میں ملنے کا ایک سنہری موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ جموں میں لوگوں نے بی جے پی اور کشمیر میں پی ڈی پی کے حق میں ووٹ ڈالا۔ یہ ہمارے پاس ایک موقعہ تھا کہ لوگوں کو جوڑا جائے۔ مفتی نے سوال کیاکہ اگر ہم جموں اور کشمیر کے لوگوں کو ایکساتھ نہیں لاسکتے تو پھر کیسے کشمیر ی عوام کو ہندوستان کے ساتھ جوڑیں گے۔ میر ا مقصد کشمیر اور جموں کے لوگوں کو باقی ہندوستان کے ساتھ یکجاکرنا ہے۔ مفتی نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ اگر ہم اکھٹا ہوئے ہیں تو اس سے ریاست کے تنوع اتحاد میں اضافہ ہوگا۔ دفعہ370 وزیر اعلی نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو آئین ہند میں خصوصی درجہ حاصل ہے، میں چاہتا ہوں کہ جموں اور لداخ کے لوگ بھی اس خصوصی پوزیشن کا فائدہ اٹھائیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ جموں وکشمیر کی آئین ہند میں خصوصی پوزیشن ہے جس کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو Erodeکیاگیاہے۔ صدر ریاست سے گورنر ، وزیر اعظم سے وزیر اعلی کردیاگیا۔ آئین ہند کے دفعہ356کا اطلاق جموں وکشمیر میں براہ راست نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ اسی کے تحت انسداد دل بدلی قانون، زرعی اصلاحات جیسے قوانین پاس کئے گئے ۔ مفتی نے کہاکہ آئین ہند کی 73 ویں اور74ویں ترامیم کی بات کی جارہی ہے۔ ہمارے پاس اختیار ہے کہ ہم اسمبلی میں اپنا قانون لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش رہے گی کہ ریاست کو حاصل خصوصی اختیار ات کا استعمال کر کے اپنی پوزیشن کو مضبوط ومستحکم بنایاجائے۔ پی ایس اے اور سیکورٹی صورتحال وزیر اعلی نے کہاکہ جموں وکشمیر میں امن وقانون کی صورتحال بہتر ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت صرف37افراد ہی نظر بند ہیں، ان میں 20غیر ملکی جبکہ باقی ریاستی باشندے ہیں جن میں6منشیات سمگلر ،2سنگ باز اور ایک سیاسی قیدی شامل ہے۔مفتی محمد سعید نے فوج کے زیر قبضہ اراضی جائز مالکان کو واپس لوٹانے کے وعدہ کو دوہراتے ہوئے کہاکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 8لاکھ 7000کنال اراضی جموں وکشمیر ریاست میں فوج کے قبضہ میں ہے جبکہ فوج کا یہ دعوی ہے کہ ان کے قبضہ میں صرف5لاکھ اور8000کنال اراضی ہے۔ ۔ رفیوجیوں کا مسئلہ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے 1947,65اور1971کے رفیوجیوں کی یکمشت بحالی کو جلد یقینی بنایاجائے گا۔ اس کے لئے نائب وزیر اعلی ڈاکٹر نرمل سنگھ کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی جوکہ اس کو دیکھے گی۔۔ انہوں نے کہاکہ مغربی پاکستان رفیوجیوں کو سٹیٹ سبجیکٹ تو نہیں دی جاسکتی لیکن اس بات کو یقینی بنایاجائے گاکہ نجی سیکٹر میں انہیں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقعے فراہم کئے جائیں۔کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کشمیری پنڈتوں کی باعزت گھر واپسی کو یقینی بنانے کے اقدام اٹھائے جائیں گے۔ جموں کی طرز پر کشمیر میں مائیگرینٹوں کے لئے ٹاون شپ تعمیر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سابق کانگریس حکومت میں جب جموں میں کشمیری مائیگرینٹ پنڈتوں کے لئے ٹاون شپ بنایاگیا تو ہم نے کہاکہ کشمیر میں ایسا ہونا چاہئے لیکن پتہ نہیں اس مطالبہ پر عمل کیوں نہیں ہوا۔

مزید : عالمی منظر