برطانوی حکومت نے پیش کردہ بجٹ میں عوام کیلئے سہولیات دینے کا اعلان کر دیا

برطانوی حکومت نے پیش کردہ بجٹ میں عوام کیلئے سہولیات دینے کا اعلان کر دیا

 لندن (بیورورپورٹ )برطانوی حکومت نے پیش کردہ بجٹ میں عوام پر اخراجات کرنے کے ساتھ سہولیات دینے کا اعلان کر دیا برطانوی چانسلر نے اس بجٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں ایک ماضی کی افراتفری کا شکار ہو جائیں اور دوسرا یہ کہ ایک نئے منصوبے پر کام شروع کیا جائے جس سے عوام براہ راست مستفید ہوں اوسبورن نے پینشنرز کیلئے خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پہلی ایک ہزار پانڈ کی سیونگ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گی صارفین کو دی جانے والی چھوٹ کی کل مالیت 3 ارب پانڈ ہے۔ جبکہ پبلک سروسز کے شعبے کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی حکومت اس بجٹ کو انتخابی تیاری کے طور پر لے رہی ہے مگر اپوزیشن کا خیال ہے کہ بجٹ سے حکومتی جماعت کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔ بجٹ میں بیئر پر ڈیوٹی میں ایک فیصد کمی کی گئی پٹرول پر ڈیوٹی کو فریز کر دیا گیا انہوں نے ذاتی ٹیکس الاونس ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے اس بجٹ کے بعد حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ حکومت نے افراط زر کے حساب سے انکم ٹیکس کو ایڈجسٹ نہیں کیا اور اپنے دور میں 13 لاکھ مزید افراد کو ہائیر ٹیکس بینڈ میں گھسیٹ لیا ہے اپوزیشن کی جانب سے بھی معیار زندگی میں بہتری کیلئے اقدامات نہ کئے جانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا مگر اب پارلیمنٹ میں 900 یورو کے اضافے کے ساتھ یہ اعتراض ختم ہوجائیگا گزشتہ برس کے آخر میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے اثرات بھی آئیں گے اور اس کے نتیجے میں افراظ زر میں کمی اور شرح نمو میں بہتری آئے گی اس بجٹ میں سب سے زیادہ نقصان میں بینک رہے ہیں کیونکہ بینک لیوی عائد کرتے ہوئے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کر دیا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر