کشمیری چوپائے نہیں کہ انہیں ہانکا جائے‘ سید علی گیلانی

کشمیری چوپائے نہیں کہ انہیں ہانکا جائے‘ سید علی گیلانی

 سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیئر مین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ حریت صرف اس مذاکراتی عمل کی حمایت کرے گی، جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کا حل یہاں کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق نکالنا ہو اور جس میں ان کی قربانیوں کا احترام ملحوظ نظر رکھا جاتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے مابین کوئی دوطرفہ سرحدی تنازعہ نہیں ہے، جس کو وہ مل بیٹھ کر نپٹا سکیں یا ہمیشہ کے لیے طے کرسکیں۔گیلانی نے کہا کہ حریت اصولی طور بات چیت کے سلسلے کی مخالف نہیں ہے، البتہ وہ اس بات کو واضح کرنا چاہتی ہے کہ کشمیری عوام کے بغیر کسی بھی طرح کا مذاکراتی عمل ماضی میں بھی ایک لایعنی عمل ثابت ہوا ہے اور مستقبل میں بھی اس کے نتیجہ خیز ہونے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کوئی زمین کا تنازعہ ہی نہیں ہے، بلکہ اس خطے میں اسکاٹ لینڈ سے تین گنا اضافی انسانی آبادی بودوباش رکھتی ہے، جس میں سے بھاری اکثریت بھارت کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتی ہے اور وہ پچھلی تقریبا سات دہائیوں سے یہاں ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کرتی ہے، اس عرصے کے دوران میں یہاں لاکھوں کی تعداد میں انسانی زندگیوں کا اتلاف ہوا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی برابر جاری ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ کشمیری عوام چوپائے نہیں بلکہ انسان ہیں اورانہیں زور زبردستی کی بنیاد پر ہمیشہ کے لیے ہانکا نہیں جاسکتا ہے۔گیلانی نے بھارت اور پاکستان کے مابین مذاکراتی عمل کی بحالی کو بین الاقوامی دباو کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اسطرح کا عمل تاریخ کے ہر دور میں وقوع پذیر ہوتا رہا ہے۔ البتہ یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بات چیت کا سلسلہ محض سفارتی مجبوریوں کے تحت شروع کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد محض وقت گزاری ہوتا ہے۔ جموں کشمیر کی اسمبلی میں گورنر این این وہرا کی تقریر میں بات چیت کے سلسلے کو شروع کرنے کے عندئیے پر تبصرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ مذاکرات چاہے بھارت اور پاکستان کے مابین ہوں یا دلی اور سرینگر کے درمیان ہوں تب تک ان سے کسی بیک تھرو کی توقع نہیں کی جاسکتی ، جب تک کہ بھارتی حکمران روائتی لکیر پیٹنے کے بجائے حقیقتِ کشمیر کو تسلیم نہیں کرتے

مزید : عالمی منظر