چھٹی سنگھ پورہ سکھوں کیقتل عام کے15برس مکمل ہوگئے

چھٹی سنگھ پورہ سکھوں کیقتل عام کے15برس مکمل ہوگئے

 سری نگر (کے پی آئی) جنوبی کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں چھٹی سنگھ پورہ میں35 سکھوں کو قتل کو 15برس مکمل ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے موقع پر بھارتی فوج نے سکھوں کی بستی پر حملہ کر کے 35 سکھوں کو قتل کر دیا تھا اور الزام پاکستان کے عسکریت پسندوں پر لگایا تھا۔ اننت ناگ ضلع کے شانگس علاقہ کے اس خوبصورت گاؤں میں مارچ2000کے قتل عام کی دردناک یادیں لوگوں کا پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں۔ 20 مارچ 2000 کو ہولی کے موقعہ پر اس گاؤں میں سکھ اقلیتی فرقہ کے35لوگوں کو شام کے وقت گولیوں سے بھون ڈالاگیا تھا۔اس سانحہ میں واحد بچنے والے58سالہ نانک سنگھ ،جنہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ میں اپنے 16سالہ بیٹے گرمیت سنگھ ،25سالہ بھائی دلبیر سنگھ اور تین چچیرے بھائیوں کو کھویا ،اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیںیہ ہولی کا تہوار تھا ،شام کے پونے آٹھ بجے فوجی وردی میں ملبوس افراد آئے اوریہ کہہ کر لوگوں کو مکانوں سے باہر آکر ایک جگہ جمع ہونے کیلئے کہا کہ انہیں علاقہ میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔انہوں نے کہا کہ گوردوارہ میں موجود دیہاتیوں کو بھی ایک جگہ جمع ہونے کیلئے کہاگیا۔نانک سنگھ نے کہاکچھ کو شیخ پورہ محلہ میں جمع کیاگیا تو کچھ کو گوردوارہ کے نزدیک قطار میں کھڑا کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ فوجی وردی میں ملبوس مسلح افراد ،جو ہندی میں بات کررہے تھے ،نے انہیں شراب کی پیشکش کی جو انہوں نے ٹھکرائی۔نانک سنگھ نے کہابعد میں انہوں نے لوگوں پر گولیاں برسائیں ،میرے ارد گرد جون میں لت پت لاشیں بکھری بڑی تھیں اور میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیا ہورہا ہے ،ایک گولی میری پنڈلی پر جالگی مگر میں بچ گیا تاہم میرے کنبہ کے پانچ لوگ مارے گئے ۔نانک نے کہا کہ یہ پورے گاؤں کیلئے قیامت کا دن تھا اور پورا گاؤں ماتم کدہ میں تبدیل ہوگیا تھا۔ سنگھ نے کہانہ صرف سکھ بلکہ ہمارے گاؤں کے مسلم بھائی میں ماتم میں تھے تاہم وہ ہماری دلجوئی کررہے تھے۔نانک تاہم حکومت کی جانب سے انکوائری نہ کرنے پر نالاں ہیں۔ان کا کہناتھاانصاف کو چھوڑ دیجئے ،میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ریاستی اورمرکزی حکومت کو کم از کم اس سانحہ کی انکوائری کرنے سے کس نے روکا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے معاملہ میں اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں انکوائری کی اجازت نہیں ملی تاہم ہم کم ازکم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ غیبی ہاتھ کون تھے جنہوں نے یہ قتل عام کیا۔انہوں نے چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کی مکمل انکوائری اور پتھری بل و براکپورہ ہلاکتوں کی سرنو تحقیقات کا مطالبہ کیا کیونکہ بقول ان کے یہ آپس میں جڑے ہیں۔نریندر کور ،جس کے کنبے کے سارے4 مرد اس سانحہ میں مارے گئے ،آج بھی گوردروارہ میں محو عبادت ہے۔وہ کہتی ہیمیں وہ شام نہیں بھول سکتی،فوجی وردی میں ملبوس مسلح افرد نے مردوں کو گھروں سے باہر نکل کر ایک جگہ جمع ہونے کیلئے کہا تاکہ وہ تلاشی کارروائی عمل میں لاسکیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کا شوہر ،دیور اور دو بیٹے بھی گھر سے باہر نکلے ۔کور نے کہاکچھ دیر بعدہم نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں اور شور بپاہوا ،میں اور دیگر پڑوسی اس جانب دوڑ پڑے جہاں ہم نے خون میں لت پت لاشیں بکھری پڑی دیکھیں۔کور کا شوہر اس سانحہ میں مارا گیا تھا جو اپنے پیچھے دو بیٹیاں اور معمر والد چھوڑ گیا تھا۔کور کا دیور اتم سنگھ اور اس کے دو بیٹے اجیت سنگھ اور گردیپ سنگھ بھی فائرنگ میں مارے گئے تھے۔کور نے روتے بلکتے کہایہ ہمارے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھا،میں اپنوں کی لاشوں کی تلاش میں بے ہوش ہوگئی تھی اور جب سے اس سانحہ کا درد لئے جی رہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کو گزرے پندرہ برس ہوگئے لیکن کسی بھی حکومت نے اس کی انکوائری کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔انہوں نے ایک شفاف انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سچائی سامنے آئی اور ملوثین بے نقاب ہونگے۔کور وہ واحد خاتون نہیں جس نے اس واقعہ میں گھر کے ایک سے زیادہ افراد نہیں کھوئے ۔دوبہنیں ،شیشندر کور اور پرکاش کور ،جو اس وقت گوردوارہ گئے تھے ،بھی اس واقعہ میں گھر کے پانچ مرد وں سے محروم ہوگئے ۔ان کے والد فقیر سنگھ ،اس کے دو بیٹے کرنیل سنگھ اور سیتل سنگھ ،اس کے پوتے جتندر سنگھ اور سونار سنگھ بھی مارے گئے۔تمام متاثرہ کنبے یک زبان ہوکر انکوائری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا کہناہیگوکہ پتھری بل اور براک پورہ میں مارے گئے لوگوں کے لواحقین کو انصاف نہیں ملا ہے تاہم سچائی سامنے آنی چاہئے کہ اس واقعہ کیلئے فوج اور پولیس ذمہ دار تھی ،اس معاملہ میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر سچائی چھپائی گئی اور کوئی انکوائری نہیں کی گئی۔سکھ انجمنیں بھی واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کررہی ہیں۔آل پارٹیز سکھ کار ڈی نیشن کمیٹی نے بھی واقعہ کی معیاد بند انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔کمیٹی کے سربراہ جگموہن سنگھ رینہ کا کہناہیہم ہمیشہ سے یہ کہتے آئے ہیں کہ چھٹی سنگھ پورہ ،پتھری بل اور براک پورہ واقعات کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں اورانہیں علیحدہ طور دیکھا نہیں جاسکتا ہے لہذا ہم چھٹی سنگھ پورہ واقعہ کی بھی انکوائری کا مطالبہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ براک پورہ واقعہ کی تحقیقات کرنے والے پانڈیاں کمیشن نے بھی تینوں واقعات کی انکوائری کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ باہم مربوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے دورہ کے موقعہ پر ہوئی یہ ہلاکتیں اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ یہ منصوبہ بند تھیں،اس واقعہ کے بعد سکھ برادری میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور اشتعال انگیزی کے باجود کسی نے بھی وادی نہیں چھوڑی۔رینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی چھٹی سنگھ پورہ سانحہ کی جوڈیشنل تحقیقات کا مشورہ دیاتھا۔انہوں نے وزیراعلی مفتی محمد سعید سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعہ کی معیاد بند انکوایری کرائیں۔

مزید : عالمی منظر