کراچی چیمبر کا کھوپرے کو بارٹر فہرست میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ

کراچی چیمبر کا کھوپرے کو بارٹر فہرست میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ

 کراچی (اے پی پی) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار احمد وہرہ نے کراس لائن آف کنٹرول ٹریڈ کے تحت مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر کھوپرے کی ترسیل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے آئٹمز کی فہرست میں کھوپرے کو شامل نہ کرنے اورمقامی تاجروں کو خطیر نقصانات سے بچانے کے لئے جنگی بنیادوں پراقدامات عمل میں لانے کی درخواست کی ہے۔ کراچی چیمبر سے جمعہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو ارسال کئے گئے خط میں کے سی سی آئی کے صدرنے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان کراس لائن آف کنٹرول ٹریڈ کے تحت مال کے بدلے مال کا معاہدہ ہے جس میں ایسی اشیاء کی تجارت کی اجازت دی گئی جن کی پیدوار مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیرمیں ہوتی ہے مگر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ خط میں اس حوالے سے نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کھوپرے کی پیداوار نہ تو مقبوضہ کشمیر میں ہوتی ہے اور نہ ہی آزاد کشمیر میں البتہ جنوبی بھارت کی ریاست کیرالہ میں اس کھوپرے کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ کھوپرا بارٹر معاہدے کے تحت مرتب کی گئی فہرست میں شامل نہیں اس کے برعکس کیرالہ سے کھوپرا پہلے مقبوضہ کشمیر لایا جاتا ہے جہاں سے بارٹر معاہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے معاہدے کی فہرست میں شامل نہ ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پرکھوپرا آزاد کشمیر لایا جاتا ہے اور پھر پاکستان کے شہر راولپنڈی میں بڑی مقدار میں کھوپرا لا کر کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں کی مارکیٹوں میں فروخت کیا جاتا ہے جس سے پاکستانی درآمد کنندگان اور تاجر وں کا کاروبار متاثر ہورہا ہے اور انہیں مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ افتخار احمد وہرہ نے وزیرخزانہ سے تعاون طلب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر میں کھوپرے کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لئے مؤثراقدامات اٹھانے کی درخواست کرتے ہوئے استدعا کی کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان کراس لائن آف کنٹرول ٹریڈ معاہدے کے تحت فہرست میں کھوپرے کوکسی صورت شامل نہ کیا جائے۔

مزید : کامرس