2022تک جموں وکشمیر میں 9000میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی:وزیراعلی

2022تک جموں وکشمیر میں 9000میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی:وزیراعلی

جموں (کے پی آئی) وزیراعلی مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے پاس 2022تک اضافی9000میگا واٹ بجلی ہوگی جبکہ ریاست میں سولر پروجیکٹ کے ذریعے 7500میگا واٹ بجلی کی پیداوار کیلئے معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں ۔ اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر اعلی نے کہا کہ جموں وکشمیر کے پاس کچھ بھی نہیں، صرف ایک آبی وسائل ہیں جس سے ہم مالامال ہیں بشرطیکہ اس کا اگر بہتر استعمال کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ این ایچ پی سی سے ڈول ہستی اور اوڑی پاور پروجیکٹ واپس لئے جائیں گے جوکہ ہمارا حق ہے۔ بھارتی حکومت کے ساتھ یہ مدعا بھی اٹھایاجائے گاکہ سند ھ طاس آبی معاہدہ سے جموں وکشمیر کو ہورہے نقصان کے ازالہ کی کوئی راہ نکالی جائے۔ اس کے علاوہ ریاست میں این ایچ پی سی کے زیر اہتمام چل رہے پروجیکٹوں سے حصہ حاصل کرنا، چناب ویلی پروجیکٹ کو مزید مستحکم بنانا اور تھرمل پاور پروجیکٹ کاقیام بھی حکومت کا ایجنڈا ہے۔ ایوان اسمبلی میں این سی ممبر اسمبلی عیدگاہ مبارک گل کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیراعلی نے کہاکہ جموں وکشمیر میں بجلی کی موجودہ پیداوار ی صلاحیت 2813.40میگاواٹ ہے جس میں9000میگاواٹ اضافہ کیلئے12اور13ویں منصوبہ (2022)کے دوران ایک روڈ میپ تیار کیا جارہا ہے ۔جواب میں کہا گیا کہ اسکے علاوہ وزارت نئی توانائی نے حکومت جموں وکشمیر کے ساتھ سولر بجلی پروجیکٹ کیلئے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں ۔ ۔تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ترسیلی خسارے کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔بجلی کی ترسیل و تقسیم کے دوران خسارے کو 2011-12کے6.31فیصد سے 2013-14میں 4.62فیصد تک کم کیا گیا ہے اور مرکزی الیکٹرسٹی اتھارٹی(سی ای اے) کے رہنما خطوط کے مطاطق اس خسارے کو 4 فیصد تک لانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس کیلئے میٹروں کی سو فیصد تنصیب کا پروگرام ہاتھ میں لیا گیا ہے ۔وزیراعلی نے کہاکہ کشمیر میں متواتر بجلی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔میٹروں کی تنصیب کے بارے میں کہا گیا کہ سو فیصد میٹر نصب کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ۔ابھی تک کشمیر میں صرف47فیصد صارف ہی میٹروں کا استعمال کرتے ہیں ۔مختلف سطحوں پر اس غیر منصفانہ بجلی کے استعمال کو روکنے کیلئے جائزہ لیا جارہا ہے ۔وزیر اعلی نے مزید کہا کہ بجلی کی تقسیم کاری کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

مزید : کامرس