سٹیٹ بینک نے مکاناتی مالکاری کی پراڈنشل ریگولیشنز میں ترامیم کردیں

سٹیٹ بینک نے مکاناتی مالکاری کی پراڈنشل ریگولیشنز میں ترامیم کردیں

 کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان میں توانائی کے موجودہ بحران کے پیش نظر اور مناسب فنانس پر متبادل توانائی کے حل کی ترویج کے لیے اسٹیٹ بینک نے مکاناتی مالکاری کی پراڈنشل ریگولیشنز میں ترامیم کی ہیں تاکہ بینک رہائشی استعمال کے شمسی توانائی کے حل کے لیے افراد کو قرضے دے سکیں جو مکانات کے قرضوں کا حصہ ہوں گے۔ اس سے قبل مالی ادارے زیادہ سے زیادہ پانچ برس کی مدت کے لیے ذاتی قرضوں کی مد میں شمسی توانائی کے لیے قرضے جاری کررہے تھے۔ تاہم مکاناتی مالکاری کی پراڈنشل ریگولیشنز میں اس ترمیم کے بعد بینک ڈی ایف آئیز زیادہ سے زیادہ دس سال کے لیے شمسی توانائی کے نظام کے لیے افراد کو قرضے دے سکتے ہیں جس سے قرض لینے والوں کے لیے مالکاری سستی ہوجائے گی۔سٹیٹ بینک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس سہولت سے گھریلو سطح پر شمسی توانائی کا استعمال بڑھے گا اور پاکستان میں مکاناتی مالکاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں آمدنی کے گروپوں اور جغرافیہ کے لحاظ سے مکاناتی مالکاری کی رسائی بہت محدود ہے۔لگ بھگ 50 صنعتیں اور 70 فیصد غیر ہنر مند لیبر تعمیرات کے شعبے سے منسلک ہے۔ طویل مدتی معاشی نمو میں مکاناتی مالکاری کا بڑا حصہ ہے کیونکہ اس سے روزگار پیدا ہوتا ہے، معاشی روابط بڑھتے ہیں اور عوام کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے۔

مزید : کامرس