زیر کاشت رقبے کے 3.1 فیصد پر سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں،نوید عصمت ملتان

زیر کاشت رقبے کے 3.1 فیصد پر سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں،نوید عصمت ملتان

 اے پی پی)پاکستان میں مجموعی زیر کاشت رقبے کے صرف 3.1 فیصد پر سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں، صوبہ پنجاب میں ملک کی 67 فیصد سبزیاں پیدا ہوتی ہیں اور آلو کی پیداوار کا 95.4 فیصد صوبہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں نے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو ایک غیر رسمی ملاقات کے دوران بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ سبزیوں کے زیر کاشت رقبے میں اضافہ کے لئے کافی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان میں سبزیوں کا فی کس استعمال بھی بہت کم ہے۔ ہم تقریباً 100 گرام فی کس سبزیاں استعمال کرتے ہیں جبکہ سبزیوں کے استعمال کی سفارش کردہ مقدار 285 گرام فی کس ہے۔ صوبہ پنجاب سبزیوں کی پیداوار کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ سے ہم فی کس سبزیوں کے استعمال میں اضافہ کر سکتے ہیں جس سے صحت عامہ کی بہتری میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ سبزیوں کی برآمدات میں اضافہ سے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے آلو، پیاز، ٹماٹر اور دیگر سبزیاں بیرون ملک برآمد کی جاتی ہیں۔ صوبہ پنجاب کی آب و ہوا ان تمام سبزیوں کی کاشت کے لئے نہائت ہی موزوں اور سازگار ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے مزیدبتایا کہ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ حکومت پنجاب نے سبزیوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے 410.87 ملین روپے سے ایک منصوبہ کا آغاز کیا ہے جس پر عملدرآمد جاری ہے اور محکمہ زراعت پنجاب اس منصوبہ کی کامیابی کے لئے پرعزم ہے۔ امید ہے کہ اس منصوبہ کی تکمیل سے صوبہ پنجاب میں سبزیوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ سبزیوں کی کاشت میں اضافہ اور ان کی برآمدات کو فروغ دینے کے ساتھ سبزیوں کے ضیاع کو بھی روکنے کی ضرورت ہے، اس ضمن میں سبزیوں کی پراسیسنگ، ٹرانسپورٹ اور ویلیو ایڈیشن کے جدید طریقوں پر عمل ناگزیر ہے۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کا شعبہ فوڈ ٹیکنالوجی اور پوسٹ ہارویسٹ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت سبزیوں کے بعد از برداشت نقصانات کا تخمینہ 25 تا 40 فیصد تک ہے۔ ان نقصانات کو کم کرنے کے لئے زرعی سائنسدانوں نے جدید ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس پر عمل کر کے ان نقصانات کو بہت کم کیا جا سکتا ہے۔ توقع ہے کہ ہمارے کاشتکار سبزیوں کی بعد از برداشت ٹیکنالوجی پر عمل اور ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کے ذریعے سبزیوں کی برآمدات بڑھانے پر بھی توجہ دیں گے جس سے کاشتکار خوشحال اور ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔

مزید : کامرس