پنگریو سمیت زیریں سندھ بھر میں نئی زرعی فصلوں کی بوائی شروع ہوگئی

پنگریو سمیت زیریں سندھ بھر میں نئی زرعی فصلوں کی بوائی شروع ہوگئی

 پنگریو( این این آئی) پنگریو سمیت زیریں سندھ بھر میں نئی زرعی فصلوں کی بوائی شروع ہوگئی ہے مگر محکمہ زراعت کی جانب سے کاشت کاروں کو معیاری اور بہتر اوسط دینے والے زرعی بیجوں کی فراہمی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے کاشت کار پھٹی، سورج مکھی، سبزیوں اور دیگر زرعی فصلوں کے غیر معیاری بیج خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں زیریں سندھ کے علاقوں میں سب سے بڑی فصل کی حیثیت اختیار کر جانے والی پھٹی کے معیاری بیجوں کی عدم دستیابی کے باعث کم پیداوار دینے والے غیر معیاری بیج فروخت کئے جا رہے ہیں اس ضمن میں پنگریو ، شادی لارج ،نندو، کھوسکی، نوکوٹ، جھڈو، تلہار، راجو خانانی، کڈھن، لواری شریف، سیرانی، ٹنڈو باگو اور زیریں سندھ کے دیگر علاقوں میں بڑی اور اہم زرعی فصلوں کی بوائی شروع ہوگئی ہے مگر محکمہ زراعت سندھ کی جانب سے کاشت کاروں کو زرعی فصلوں کے تصدیق شدہ اور اچھی کوالٹی کے بیج فراہم نہیں کئے جارہے جس کی وجہ سے کاشت کار مختلف کمپنیوں کے غیر معیاری زرعی بیج خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں زرعی فصلوں کی بوائی شروع ہوتے ہی دکانوں اور پیسٹیسائید فرنچائز پر غیر معیاری اور کم اوسط دینے والے بیج انتہائی مہنگے نرخوں پر فروخت کئے جارہے ہیں۔ اور کاشت کاروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے حکومت سندھ کی جانب سے کسانوں کو زرعی بیج فراہم کر نے والے ادارے ساسو کو ختم کئے جانے کے بعد کوئی بھی سرکاری محکمہ کاشت کاروں کو معیاری اور بہتر اوسط دینے والے زرعی بیج فراہم نہیں کر رہا اور کاشت کاروں کو نجی کمپنیوں کے غیر معیاری اور کم اوسط دینے والے بیج خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ان غیر معیاری زرعی بیجوں کے استعمال کے باعث فی ایکڑ پیداوار کم اترتی ہے جس کی وجہ سے کاشت کاروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس بارے کاشت کار تنظیموں سندھ آبادگار تنظیم، لاڑ آبادگار فورم، اسمال گروئرز ایسوسی ایشن، ایوان زراعت اور سندھ آبادگار بورڈ کے رہنماؤں نے رابطہ کر نے پر بتایا کہ سندھ میں پھٹی اور دیگر بڑی زرعی فصلوں کی بوائی شروع ہو چکی ہے اور کاشت کاروں کو بہتر فی ایکڑ پیداوار دینے والے زرعی بیجوں کی ضرورت ہے مگر محکمہ زراعت کی جانب سے کسانوں کو تصدیق شدہ زرعی بیج فراہم نہیں کئے جارہے جس کی وجہ سے کسان بازار سے غیر معیاری بیج خریدنے پر مجبور ہیں جن کی فی ایکڑ پیداوار کم ہے جبکہ ایسے زرعی بیجوں میں سے بعض کمپنیوں کے بیج غیر معیاری ہو نے کے باعث اُگتے ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے کسانوں کو دوہرا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ان رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر زراعت سے اپیل کی ہے کہ سندھ میں بوائی کی جانے والی زرعی فصلوں کے تصدیق شدہ اور بہتر اوسط پیداوار کے حامل بیجوں کی فراہمی کے لئے گشتی ٹیمیں مقرر کی جائیں اور محکمہ زراعت کے دفاتر میں بھی ان بیجوں کی فروخت کے اسٹال قائم کئے جائیں تاکہ کاشت کار غیر معیاری کمپنیوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ سکیں۔

مزید : کامرس