رنگ گورا کرنے والی ناقص کریمیں جلد کونقصان پہنچاتی ہیں،ڈاکٹر ناجیہ اشرف

رنگ گورا کرنے والی ناقص کریمیں جلد کونقصان پہنچاتی ہیں،ڈاکٹر ناجیہ اشرف

 لاہور(پ ر) معروف ماہر امراض جلد ڈاکٹر ناجیہ اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 5سالوں کے دوران مارکیٹوں میں رنگ گورا کرنے والی ناقص کریموں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ ناقص معیار کی کاسمیٹکس بشمول رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پارے کے استعمال سے جلد اور دماغ کو شدید نقصان پہنچتا ہے ، طبعیت میں اضطراب سمیت دماغی طور پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ صارفین بالخصوص خواتین کے اندر صحت کے حوالے سے آگہی میں کمی ہے ، وہ لان کا مہنگا سوٹ ضرور لیں گی لیکن صحت کے حوالے سے علاج کے لئے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری نہیں سمجھیں گی ، جہاں پیسے وقت پر خرچ کرنے ہوں وہاں خرچ نہیں کرتے جس کی وجہ سے بعد میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے علاج کے لئے لاکھوں روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں سماجی تنظیم ہیلپ لائن ٹرسٹ کے زیر اہتمام صارفین کے حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے ہونے والے سیمینار کے دوران کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ناجیہ اشرف نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں یہ رجحان آگیا ہے کہ ہم رنگ گورا کرنے کے حوالے سے 25سے 30روپے والی سستی کریمیں استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو آگے بھی استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں، اسی طرح میڈیا میں بعض لوگ پرجوش طور پر بتاتے ہیں کہ وہ فارمولہ کریم ہے جس کے ذریعے رنگ گورا ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ان کا رنگ فوری طور پر تو گورا ہوجاتا ہے لیکن پھر ان کا رنگ کالا ہونے لگتا ہے اور پھنسیاں بھی نکل آتی ہیں ۔ ہمیں لوگوں کو شعور دینا ہوگا کہ وہ صحیح اشیاء استعمال کریں ۔ بہت سی مصنوعات 20سال کی عمر والے افراد کے لئے الگ ہوتی ہیں جبکہ 30سال کی عمر والوں کے لئے الگ ہوتی ہیں۔ اب ہسپتالوں میں ماہر امراض جلد موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غیرمعیار ی مصنوعات کو فروغ دینے کی ضرورت نہیں ، نہ ہم خود استعمال کریں اور نہ کسی کو تجویز کریں اور ناقص اشیاء کے حوالے سے صحت پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1