ہندوؤں نے ایک مرتبہ پھر مسلم ثقافت پر حملے شروع کر دیے،ڈاکٹر صدف علی

ہندوؤں نے ایک مرتبہ پھر مسلم ثقافت پر حملے شروع کر دیے،ڈاکٹر صدف علی

لاہور ( پ ر ) ادارہ قو می تشخص کے صدر ڈاکٹر صدف علی نے کہا ہے کہ جنگ آزادی کے بعد مسلم اکا برین نے 1940 میں پا کستان حاصل کرنیکا مطالبہ پورے غور و فکر کے بعد کیا تھا تمام رہنما مسلمانوں کو ہندو مت کے غلبہ سے محفو ظ کرنا چاہتے تھے جبکہ ہندو ؤ ں کے رہنما مسلسل اسلام کو دیگر مذاہب کی طر ح اپنے اندرجذب کرنے کے درپے تھے اگر متحدہ بر صغیر آ زاد ہو تا تو جدید جمہور ی نظام جو اکثر یت کے بل بوتے پر ہندو اقتدار کی ہی ایک شکل ہو تی ۔ قا ئد ا عظم ؒ نے ہندوؤ ں کے غلبہ سے نجات کیلئے ہی بر صغیر میں مسلما نو ں کیلئے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا تھا ۔ادارہ قومی تشخص کے مرکزی دفتر میں اظہار خیا ل کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کے آج کل ہند وؤں نے ایک با ر پھر مسلم ثقافت اور اسلامی رویات پر حملے شروع کر رکھے ہیں جنہیں روکنے کی ضرورت ہے ۔

قا ئداعظم ؒ نے قر ار داد پا کستان کے مو قع پر خطاب میں واضح کر دیا تھا کہ مسلما ن ایک علیحدہ قو م ہیں ‘کیونکہ ان کے رسم و رواج ‘روایا ت تہذ یب و ثقا فت اور سب سے بڑھ کر ان کا مذہب الگ ہے جو صدیوں سے ساتھ ساتھ رہنے کے با وجو د اپنا جدا گانہ تشخص رکھتے ہیں اور اگر بر صغیر متحدہ صورت میں آزاد ہوا تو مسلمانوں کے حقوق کی کبھی حفاظت نہ ہو سکے گی ۔ڈاکٹر صدف علی نے مزید کہا کہ قر ارداد پا کستان کے موقع پر پو رے شعو ر سے اپنے تمام ساتھیو ں کے ساتھ انگریزو ں اور ہند وؤں سے الگ لباس استعما ل کر کے پا کستان کے الگ قومی تشخص کی بنیا د رکھی اور حصول پا کستان کے بعد انہوں نے غلا ما نہ ذہنیت کے لباس کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا تھا مگر قا ئدا عظم ؒ کے بعد کی حکومتوں نے بیو رو کریسی کے اشارے پر اپنے تشخص کو بھلا کر پھر مغربی لباس کا استعمال شروع کردیا۔انہو ں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ قا ئداعظم ؒ کی خوا ہشات کے مطا بق ملک میں قومی لباس اور قومی زبان کو فروغ دیا جائے نئی نسل کے گلوں سے طو قِ غلا می نیکٹا ئی کا خاتمہ کیا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4