کرپٹ قیادت سے نجات کیلئے قومی قرارداد منظور کرنا ہو گی،خدیجہ فاروقی

کرپٹ قیادت سے نجات کیلئے قومی قرارداد منظور کرنا ہو گی،خدیجہ فاروقی

 لاہور(پ ر)مسلم لیگ ق کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی صدر پاکستان مسلم لیگ شعبہ خواتین پنجاب نے کہا ہے کہ 23 مارچ 1940 کے دن انگریزوں سے آزادی کیلئے قرارداد پاکستان منظور ہوئی، آج کرپٹ اور نااہل قیادت سے نجات اور جمہوریت کو آزاد کروانے کیلئے قومی قرارداد منظور کرنے کی ضرورت ہے۔ برصغیر کو چند ہزار انگریزوں نے یرغمال بنارکھا تھا آج چند سو خاندانوں نے 18 کروڑ عوام کو یرغمال بنارکھا ہے۔ 23 مارچ کے تاریخی دن کے موقع پر دہشت گردوں کے خلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کرنے اور کامیابیاں حاصل کرنے پر پاک فوج بالخصوص اس کے پر عزم، باصلاحیت سپہ سالار کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے درجات کی بلندی کی دعا کرنے کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان ،رینجرز کے ان جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک و قوم کیلئے شہادتیں قبول کیں اور کر رہے ہیں ۔ہم پرامید ہیں کہ عوام اور اس کی فورسز کی یہ لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔آج کے دن یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرب عضب کو کامیاب کرے اور وطن عزیز کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرے۔ 23 مارچ 1940 کے دن مسلم اکثریتی علاقوں کی آزادی کی بات کی گئی تھی ان کے سیاسی ،معاشی حقوق کو تحفظ دینے کی بات کی گئی تھی۔ یعنی تحریک پاکستان کی ابتداء ہر طرح کی غلامی سے نجات کیلئے تھی، آج بھی پاکستان کے گراس روٹ کے عوام وفاقی اور صوبائی سول آمروں کی غلامی کا شکار ہیں۔ یہ سول آمر گراس روٹ کے عوام کو آئین کے تحت ملنے والے حقوق نہیں دے رہے، آئین کا آرٹیکل 140-A کہتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کا قیام اور ان کی انتظامی و معاشی خودمختاری ناگزیر ہے مگر انگریزوں اور آمروں کے سیاسی وارثوں نے عام آدمی کا یہ بنیادی حق سلب کررکھا ہے اور 8سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے۔ آج کے دن 23 مارچ سے سپریم کورٹ کے کہنے پر کنٹونمنٹ میں انتخابی عمل کا آغاز ہوا ہے اس کا کریڈٹ سپریم کورٹ جاتا ہے ورنہ سول آمروں نے رکاوٹیں کھڑی کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی۔خدیجہ فاروقی نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 125-A کہتا ہے کہ 5سے 16سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر سول آمر اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں بلکہ 19 مارچ 2015 کے دن لاہور کے 147تعلیمی ادارے ایک این جی او کے حوالے کر دئیے گئے، حکمرانوں کے پاس میٹرو بس کیلئے 70ارب ہیں، لاہور ایکسپریس وے کیلئے 50ارب ہیں کینال چیئر لفٹ کیلئے 20ارب ہیں مگر ہسپتالوں کو دوائیاں اور سکولوں کو بنیادی سہولتیں دینے کیلئے پیسے نہیں صوبوں اور اس کے عوام کو حقوق دینے میں پہلے وفاق رکاوٹ تھا اب 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد اب نااہل صوبائی قیادت رکاوٹ ہے، 23 مارچ 1940 کی قرارداد تب تک نا مکمل رہے گی جب تک پاکستان کے ہر صوبہ، ہر ضلع، ہر تحصیل ہر گاؤں اور ہر گلی کے عوام کو آئینی حقوق نہیں مل جاتے۔اختیارات کی مرکزیت ختم نہیں ہو جاتی اور قانون، میرٹ کی حکمرانی قائم نہیں ہو جاتی موجودہ حکمرانوں نے بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر آئین اور عوام کا مذاق اڑایاتعلیم ،صحت،کی سہولتیں نہ دیکر عوام کا مذاق اڑایا

مزید : میٹروپولیٹن 1