یہ سب کیوں؟

یہ سب کیوں؟
یہ سب کیوں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 میں بہت پریشان تھا ۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کراچی اپریشن میں ایک دم تیزی ۔ نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ۔ صولت مرز ا کا بیان۔ سب میری سمجھ سے با لا تر ہے ۔ کہ اوپر سے تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بھی معاہدہ ہو گیا۔ اور جیوڈیشل کمیشن بھی بن گیا۔ کتنا عجیب و غریب معاہدہ ہے کہ کوئی بھی اس کی تفصیلات بتانے کو تیار نہیں۔ فریقین نے معاہدے کے مندرجات عوام سے خفیہ رکھنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ تا ہم دونوں نے اس معاہدے پر عوام کو مبارکباد دی ہے۔ اگر میں خود کو بھی عوام میں شامل کر لوں تو مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کس بات کی مبارکباد دی گئی ہے۔ لگتا ہے کہ اسحاق ڈار کے ایک فقرے میں ہی ساری داستان ہے کہ تحریک انصاف نے بہت لچک دکھائی ہے۔ شائد یہی وہ تبدیلی تھی جس کے لئے عمران خان جدو جہد کر رہے تھے۔ تا ہم میں نے وسیع تر ملکی مفاد میں مبارکباد قبول کر لی ہے۔ اب عمران خان واپس اسمبلیوں میں آجائیں گے۔ جہانگیر ترین اور اسحاق ڈار دونوں نے الگ الگ فون کر کے سراج الحق کو جیوڈیشل کمیشن بننے پر مبار کباد دی ہے۔ امید ہے کہ فریقین نے معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے معاہدہ کے مندرجات سراج الحق کو نہیں بتائے ہونگے۔ ماحول ہی بدل گیا ہے عمران خان اور میاں نواز شریف دونوں ہی ایک بات کر رہے ہیں کہ ملک کا سسٹم خراب ہے۔ اس کو ٹھیک کرنا ہے ۔لگتا ہے اب دونوں نے مل کر ٹھیک کرنا ہے۔ سوال پھر وہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ اتنا سب کچھ ٹھیک ٹھیک کیوں ہو رہا ہے۔ چند ماہ قبل پارلیمنٹ کا گھیراؤ تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ تھا ۔ پارلیمنٹ میں ارکان ایونِ صدر کے راستہ سے آرہے تھے۔ ایم کیو ایم فوج کی سیاسی ترجمان بنی ہو ئی تھی۔ روز امپائر کی انگلی اٹھنے کی بات ہو رہی تھی۔ لیکن اب سارا منظر نامہ ہی بدل گیا ہے۔ غیر ملکی سربراہ مملکت پاکستان کے دورے منسوخ کر رہے تھے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے اس میں ہر وقت منظر بدلنے کی گنجائش رہتی ہے۔لیکن جب سب کچھ غلط تھا تو اب سب کچھ ٹھیک کیوں ہو رہا ہے۔ یہ سوال بہت لوگوں سے کیا۔ لیکن جواب نہیں ملا۔ ایک دوست جو بہت ذمہ دار پوزیشن پر کام کر رہے ہیں نے سب سے الگ تھیوری پیش کی ہے جو پیش کر رہا ہوں۔ اس نے کہا کہ سب چین کروا رہا ہے۔ میں نے کہا کہ چین؟ اس نے کہا کہ ہاں چین۔ میں نے پوچھا کیسے۔ اس نے کہا کہ یہ بات سب کو پتہ ہے کہ چین نے پاکستان میں چالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ چالیس بلین ڈالر کتنے ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں ۔ کہ یہ پاکستان کے کل زرمبادلہ کے ذخائر سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اور اس بات کا اندازہ اس طرح بھی لگا لیں کہ آئی ایم ایف سے دو بلین ڈالر کے لئے ہم اس کی ہر شرط ماننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ عوامی مفاد کے خلاف فیصلے بھی قبول کرتے ہیں۔ مہنگائی بھی قبول کرتے ہیں۔اس کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ چند کروڑ امریکی ڈالر کی امداد کے لئے بھی ہم کس کس طرح کی شرائط قبول کرتے ہیں۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چین پاکستان میں چالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے اور اس کی کوئی شرائط نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین کی کیا شرائط ہیں۔ پہلی شرط تو یہی ہو گی کہ ان کا سرمایہ محفوظ ہو ۔ سرمایہ محفوظ ہونے کے لئے پاکستان کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔ اسی لئے ضرب عضب کراچی اپریشن اور بلوچستان میں جاری اپریشن کو اسی تناظر میں دیکھیں۔ بدلتے پاک افغان تعلقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھیں۔ چین کی جانب سے افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کو اسی تناظر میں دیکھیں نئے افغان صدر اشرف غنی منتخب ہونے کے بعد بھی امریکہ سے پہلے چین گئے۔ اس وقت خطہ میں چین کا ایجنڈا چل رہا ہے ۔ امریکہ کا نہیں۔ اسی لئے امریکی صدر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا کیونکہ اس وقت پاکستان میں امریکی مفادات محدود ہو گئے ہیں۔ اور چین کے مفادات وسییع ہو گئے ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کراچی کیوں۔چین نے تو گوادر لیا ہے۔ اس لئے بلوچستان اور ضرب عضب کی سمجھ آتی ہے۔ لیکن کراچی کیوں۔ یہ کیا تھیوری ہے کہ کراچی میں جو کچھ ہوا ہے اس میں بھی چین شامل ہیں۔ اس نے کہا کہ چین تھر میں کئی بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ تھر میں کوئلہ نکالنے کا ٹھیکہ بھی چین کے پاس ہیں۔ اور اس کوئلہ سے بجلی بنانے کے ٹھیکے بھی چین کے پاس ہیں۔ تھر میں پانی ہو یا نہ ہو۔ خبر یہ ہے کہ وہا ں ہوائی اڈہ بن چکا ہے۔ تا کہ چینی آجا سکیں۔ کراچی سے تھر تک تو سڑک خراب ہے ۔ لیکن تھر کے اندر تو ایسی سڑکیں بن گئی ہیں کہ وہ دبئی لگتا ہے۔ لیکن جب تک کراچی میں امن نہیں ہو گا ۔ چینی خود کو تھر میں محفوظ نہیں سمجھ سکتے۔ ایک اندازے کے مطابق دو ہزار سے زائد چینی انجینئر صرف تھر میں آکر رہیں گے۔ اسی لئے تھر کے قصبہ سلام کوٹ میں سڑک کنارے ایکڑ کی قیمت تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس لئے چینی شرط تھی کہ جب تک کراچی میں امن نہ ہو ۔ تھر شروع نہیں ہو سکتا۔ اس لئے فوج اور حکومت کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ کراچی کو صاف کرنا ہو گا۔ اس لئے کراچی میں آپریشن کلین چل رہا ہے۔ اس میں ایم کیو ایم کو استثنا نہیں مل سکتا تھا۔ جیسا کہ پہلے مل جا تا تھا۔ تا ہم کراچی میں صرف ایم کیو ایم نہیں سب کے خلاف اپریشن شروع کیاگیا ہے۔ اس زد میں تو پیپلز پارٹی بھی آگئی ہے۔ اس لئے ریاست پاکستان کا فیصلہ ہے۔ اور اس میں کوئی لچک ممکن نہیں۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان میں التوا بھی اسی لئے ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام اہداف حاصل ہو جائیں تو وہ پاکستان جائیں۔ اس لئے جو کچھ ہو رہا چین کے کہنے پر ہو رہا۔جیسے کہ پہلے جو ہوتا تھا ۔امریکہ کہنے پر ہو تا تھا۔ اب چین کے کہنے پرہو رہا ہے۔

مزید : کالم