10عام انتخابات میں صرف مئی 2013کے الیکشن پر جوڈیشل کمیشن بنا

10عام انتخابات میں صرف مئی 2013کے الیکشن پر جوڈیشل کمیشن بنا

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل)پاکستان میں1970سے ابتک ہونے والے 10 عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے ہر الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیالیکن کسی بھی الیکشن میں مجموعی طورپر دھاندلی کی تحقیقات کی گئیں نہ ہی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاگیا۔ یہ کامیابی صرف تحریک انصاف کے حصے میں آئی۔معلوم ہواہے کہ 1970سے2013تک پاکستان میں 10عام انتخابات1970،1977، 1985، 1988، 1990، 1993، 1997، 2002اور 2008کے بعد 11مئی 2013کو منعقد ہوچکے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان کا کوئی ایک بھی عام الیکشن دھاندلی کے الزامات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ہر الیکشن سے قبل اور الیکشن کے بعدہارنے والے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا شور مچایا۔لیکن یہ شور ، شور ہی رہا اور کسی بھی الیکشن میں مجموعی طورپر دھاندلی کی تحقیقات کے لیے نہ تو کبھی کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔نہ ہی جوڈیشل کمیشن بنایا گیا۔یہ کامیابی صرف تحریک انصاف کے حصے میں آئی کہ حکومت نے تحریک انصاف کے مطالبے پر 11مئی 2013کو ہونے والے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی چھان بین کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ماضی میں ہونے والے ہر عام الیکشن سے قبل اور الیکشن کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور شکست خوردہ امیدواروں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے۔لیکن یہ الزامات اور احتجاج بے سود رہا ۔ 1970کے عام انتخابات کے دوران ملک کے مشرقی حصے میں عوامی لیگ نے 160اور مغربی حصے میں پیپلز پارٹی نے 81سیٹیں لیں۔مذکورہ الیکشن میں مسلم لیگ قیوم ،مسلم لیگ کنوینشنل ، مرکزی جمعیت علمائے اسلام،اور نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں اور امیدواروں نے عام انتخابات میں دھاندلی کا شور مچایا۔تاہم ان کا یہ شور ملک کے سیاسی بحران میں دب گیا۔اس کے بعد 1977کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مد مقابل کثیر جماعتی الائنس’’نیشنل الائنس ‘‘وجود میںآیا۔ لیکن عام الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کامیابی ملی تونیشنل الائنس نے دھاندلی کے الزامات لگائے۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابات میں ملک کے مختلف حصوں سے شکست کھانے والے متعدد امیدواروں نے دھاندلی کا شور مچایا۔ 1988کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تومیاں نواز شریف اور ان کے اتحادیوں کی اسلامی جمہوری اتحاد نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا۔پھر 1990کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد نے کامیابی سمیٹی تو پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں پر مشتمل پیپلز ڈیموکریٹک الائنس نے دھاندلی کا شور مچایا۔ 1993کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ٹھہری تومسلم لیگ نواز اور چھوٹی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے۔1997کے الیکشن میں مسلم لیگ ن بھاری مینڈیٹ کے ساتھ کامیاب ہوئی تو پیپلز پارٹی اوردیگر جماعتوں نے دھاندلی کا واویلہ کیا۔ پھر 2002کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے مسلم لیگ ق کے خلاف دھاندلی کے الزامات عائد کئے۔2008کے عام انتخابات سے قبل ہی پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے مسلم لیگ ق کے خلاف دھاندلی کے الزامات عائد کرنا شروع کردیئے اور انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کرنے کے باجود دھاندلی کے الزامات عائد کئے ۔ اب 11مئی 2013کے عام انتخابات بھی دھاندلی کی زد میں ہیں۔ کراچی میں دھاندلی پر تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، مہاجر قومی موومنٹ اور اے این پی نے انتخابی بائیکاٹ کیا تو الیکشن کمیشن نے بھی تسلیم کیا کہ کراچی میں شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا جبکہ لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور چھوٹی جماعتوں کے علاوہ امیدواروں نے اپنے طورپر بھی جیتنے والے امیدواروں کے خلاف دھاندلی کے الزامات عائد کئے۔ 11مئی 2013کے الیکشن کے بعدتحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی ،مہاجر قومی موومنٹ اور ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ شکست خوردہ امیدواروں اور نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائدکئے ۔کراچی میں ایم کیو ایم ،لاہور اور دیگر شہروں میں ن لیگ جیسی جماعتوں پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی اور بلآخر حکومت کو دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

مزید : علاقائی