کیا ذوالفقار مرزا بھی زرداری کے خلاف عزیر بلوچ کی تائید کریں گے؟

کیا ذوالفقار مرزا بھی زرداری کے خلاف عزیر بلوچ کی تائید کریں گے؟
کیا ذوالفقار مرزا بھی زرداری کے خلاف عزیر بلوچ کی تائید کریں گے؟

  

تجریہ: چودھری خادم حسین

  قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے ایوان میں نکتہ اعتراض پر بڑی جذباتی تقریر کی جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ بُرا وقت سب پر آ سکتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ صولت مرزا کے بعد ذوالفقار مرزا بھی آ سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نوازشریف سے ہماری ملاقات اٹک جیل میں ہو۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر کے اس پہلو پر تو بات کرنے کی ضرورت نہیں کہ سبھی لکھ اور کہہ رہے ہیں، تاہم جو بات ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ کہ کوئی ذوالفقار مرزا بھی آ سکتا ہے تو ان کو خبر ہو گی کہ وہ تو پہلے ہی آچکا اور پہلے ایم کیو ایم ہی کے لئے آیا اور لندن تک چلا گیا تھا اب یہ ذوالفقار مرزا کچھ عرصہ سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف بول رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ (زرداری) دوست ہیں، ان ذوالفقار مرزا کو موقع تو عزیر بلوچ مہیا کرے گا جو اس وقت دوبئی میں ہے اور اسے انٹرپول نے گرفتار کیا پاکستان سے ایک ٹیم ان کو لینے کے لئے گئی ہوئی ہے۔ عزیز بلوچ نے تو وہاں ہی کہہ دیا کہ آصف علی زرداری اور دوسرے راہنما ان سے قتل جیسے جرائم کراتے تھے۔ یہ صولت مرزا جیسا ہی سٹائل ہے، عزیر بلوچ نے ذوالفقار مرزا کو بھی شامل کیا ہے تو کیا یہ ذوالفقار مرزا تسلیم کر لیں گے؟ کہ وہ عزیر بلوچ کو آصف علی زرداری کے کہنے پر قتل کے لئے ہدف دیتے رہے ہیں، اس اقبالی بیان کے بعد خود دونوں حضرات کی کیا پوزیشن ہو گی یہ تو ماہرین آئین و قانون ہی بتائیں گے لیکن ایک امر بالکل واضح ہے کہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز (سندھ) نے بلا امتیاز جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے لئے کہا ہے۔ اس میں ایم کیو ایم کے لوگ آتے ہیں تو پیپلزپارٹی کے پیروں تلے پناہ گزین بھی سامنے آ جائیں گے اور دوسرے دھڑوں اور جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بھی! اگر ایسا نہ ہوا اور آپریشن کی غیر جانبداری مجروح کی گئی تو پھر الزام تراشی ہو گی۔ بہر حال اضطراب تو موجود ہے آنے والا وقت بتائے گا کہ کس کے لئے کیا صورت بنتی ہے۔ بات کرتے ہیں عمران خان کی، دیر آید درست آید ہی سہی بہر حال مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ان کا معاہدہ تو ہو ہی گیا اور جو ڈیشل کمیشن بنانے پر رضا مندی کی تحریر لکھ لی گئی۔ یہ بہتر فیصلہ ہے۔ ان سطور میں اصرار کے ساتھ کہا گیا کہ عمران خان کو پارلیمینٹ میں جا کر انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کہ جو وہ چاہتے ہیں وہ آئین اور قوانین میں ترامیم یا نئے قوانین کی تدوین سے ہی ممکن ہے جو ایوان ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ اب وہ اسمبلیوں میں واپسی کا فیصلہ بھی کر لیں گے تویقیناًانتخابی اصلاحات والی پارلیمینٹ کی 33رکنی کمیٹی بھی فعال ہو جائے گی اور کام شروع ہو سکے گا اب تک بغیر کام جو تنخواہیں اور مراعات وصول کیں وہ اس اچھے کام کی بدولت معاف ہو سکتی ہیں؟ حکومت نے بھی بہتر اقدام اٹھایا تحریک انصاف لاہور میں کنٹینر پروگرام کا اعلان کر چکی تھی اور یہ کنٹینر گورنر ہاؤس کے سامنے شاہراہ قائد اعظم پر کھڑا کیا جانا تھا۔ اس سے پورا لاہور بند ہو جاتا ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے اور خدشہ یہ تھا کہ یہاں جھگڑے ہوتے اور عوام ہی ایک دوسرے سے لڑتے اب صورت حال تبدیل ہو گئی ہے، جو ہونا ہے وہ پارلیمینٹ کے اندر ہوگا جو ہوا وہ بہتر ہوا۔

مزید : تجزیہ