حکیم سعید کی شہادت پر گورنر راج لگایا اب بھی سمجھوتہ نہیں کرینگے ،نوازشریف

حکیم سعید کی شہادت پر گورنر راج لگایا اب بھی سمجھوتہ نہیں کرینگے ،نوازشریف

 سیالکوٹ(بیورو رپورٹ ،اے این این، این این آ ئی ، آ ن لا ئن )وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،بندوق کلچر ختم کر کے دم لیں گے،حکیم سعید کی شہادت کے بعد بھی ہم نے اپنی سندھ حکومت ختم کرکے گورنر راج لگایا تھا،اب بھی سمجھوتہ نہیں ہو گا،عوام نے خرابیوں کے خاتمے کا مینیڈیٹ دیا ہے،شہر قائد میں ٹارگٹڈ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہو رہا ہے،جس کا فیصلہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کیا گیا تھا، کراچی سمیت پورے ملک کو دہشتگردی اور جرائم سے نجات دلانا ہماری ذمہ داری ہے،اپنی مدت میں ہی دہشتگردی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیں گے،بڑے چیلنجز پر ہاتھ ڈالا ہے قوم کامیابی کی دعا کرے،فرقہ واریت اور فتنہ پھیلانے والوں کو بھی ملک میں جگہ نہیں ملے گی،دہشتگردوں پر بھی ہم نے ہاتھ ڈالا ہے اس سے پہلے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی،آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے،دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے،1999میں جو مسائل نہیں تھے آج ان پر90فیصد وقت صرف کرنا پڑ رہا ہے،تنقید سیاست دانوں پر ہوتی ہے آمروں نے ملک کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا،آج مشرف کا7نکاتی ترقیاتی ایجنڈا کہاں ہے ،ملک کو درپیش چیلنجز کے تصور سے بھی خوف آتا ہے،ہم نعروں پر نہیں عملی کام پر یقین رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سیالکوٹ میں ایوان صنعت و تجارت کی تقریب اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ(ن) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر خواجہ محمد آصف،زاہد حامد،پروفیسر ساجد میر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کی تقریب سے اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ سیالکوٹ مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے ، خواجہ آصف کے والد نے سیالکوٹ کے عوام کی بڑی خدمت کی، اصولی زندگی گزارکر دنیا سے رخصت ہوئے ، خواجہ آصف بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کی خدمت کررہے ہیں ،میں نے سیالکوٹ آنا ضروری سمجھا ، خواجہ آصف کا اسرار تھا کہ آپ سیالکوٹ آئیں ، اور میر ا بھی شوق تھا کہ سیالکوٹ جاؤں ، سیالکوٹ کا پاکستان میں ایک منفرد مقام ہے اتفاق کرتاہوں کہ سیالکوٹ میں سرمایہ کاری کی جائے جس سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچے گا ، سیالکوٹ میں سرمایہ کاری روپے میں ، واپسی زرمبادلہ کی صورت میں ہو گی پاکستان کے معاشی اعشاریے مثبت سمت جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ توانائی بحران بڑا چلنچ ہے حل کرنے میں وقت لگے گا ہماری کوشش ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قلت ختم کریں ، بجلی کی قلت معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے لیکن یہ مسئلہ ہم نے پیدا نہیں کیا ، یہ ماضی کی حکومتوں کا پیدا کردہ ہے ، 1999میں ہماری حکومت تھی جس کو غیر قانونی طریقے سے ختم کیا گیا ، 1999میں بجلی وافر موجود تھی اس وقت ہم بجلی ملک سے باہر برآمد کرنے کی پوزیشن میں تھے ، 2013میں تو صورتحال بہتری ہونی چاہئے تھی جنوبی کوریا بالکل پسماندہ اور پاکستان ترقی یافتہ نظر آتا تھا آج جنوبی کوریا اور پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو ہمارے ملک میں ترقی نہیں ہو سکی ، کہا جاتا ہے کہ سیاستدانوں نے کچھ نہیں کیا حالانکہ ترقی ہمیشہ جمہوری دور میں ہو ئی ، آمریت میں پاکستان ہمیشہ پیچھے گا ،ڈکٹیٹرز نے پاکستان کی ترقی کے لئے کوئی کام نہیں کیا ، مشرف کا سات نکا تی ایجنڈا کہا ں ہے جس کا انہوں نے اعلان کیا ، پاکستان میں موٹروے مارشل لاء کے دور میں نہیں بنی وہ جمہوری و سیاسی دور میں بنی، ملک میں خوشحالی تھی ،لوڈشیڈنگ اور گیس کی قلت اور نہ دہشتگردی تھی ، وہ دور آگے چلتا رہتا تو آج پاکستان کہا ں ہوتا یہ باتیں سوچنے والی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آئے دن نئے خاکے پیش کرنے والوں نے قوم کو سوائے دھوکے کے کچھ نہیں دیا ، 1999کے مقابلے میں آج کا پاکستان بہت مختلف اور بڑے چیلنجز درپیش ہیں کہ ان کے تصور سے بھی خوف آتا ہے جب ملک میں توانائی نہیں ہو گی تو ملک کیا ترقی کرے گا ، اللہ نہ کرے سیالکوٹ میں بجلی کی کمی ہو جائے تو سیالکوٹ کی انڈسٹر ی نہیں چلے گی ، ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمار ے پاس بجلی موجود ہونی چاہئے ، سرمایہ کاروں کو پتا ہونا چاہئے کہ ہم انڈسٹری لگائیں گے تو ہمیں بجلی ملے گی ،پہلے بینکوں سے سارا پیسہ حکومت لے جایا کرتی تھی اب اس طرح نہیں ہو رہا کیوں بزنس کمیونٹی کو قرض ملے ،صنعتی شعبے کے لئے شرح سود کم کر دی ، حکومتی قرضوں میں بھی کمی کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی ترقی کے حوالے سے پر امید ہیں اپنے سے میاں مٹھو نہیں بننا چاہتے ، یقیناً پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے ، ایل این جی سے 3600میگا واٹ بجلی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور پی ایس ڈی پی سے پیسے دے رہے ہیں ، اس میں ہم کو رسک نہیں لینا چاہتے ، پرائیویٹ سیکٹر میں وقت پر کام مکمل نہ کر سکے تو ہمارے وعدے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ، ہم نے اپنے وسائل سے کارخانے لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر کام شروع ہو سکا ہے ، چائنہ سے 4000میگا واٹ بجلی خرید رہے ہیں ، 2017کے اآخر تک 10ہزار میگا واٹ بجلی سٹیم میں شامل کرینگے ، ہماری کوشش ہے کہ بجلی کی قیمت کو کم کیا جائے ، مہنگی بجلی سے صنعتکار گھریلو صارفین بھی خوش نہیں ہوتے ، آئل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، 28روپے سے 16روپے فی یو نٹ قیمت ہو گئی ،ایل این جی اور کوئلے سے بجلی مزید سستی ہو گی ، ہماری کوشش ہے کہ گیس کو سستا اور کمی کو پورا کیا جائے ، بجلی اور گیس کی کمی پوری کرنے پر توجہ نہیں دی گئی اگر پچھلی حکومتوں نے توجہ دی ہوتی تو ہمیں یہ چیلنجز درپیش نہ ہو تے ، میں 1997میں وزیر اعظم تھا ، سب ادارے بالکل ٹھیک چل رہے تھے ، بجلی گیس کا بحران نہیں تھا ، دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہیں تھی ، آج میرا بہت سارا وقت ان چیزوں پر خرچ ہوتا ہے میں کہہ سکتا تھا کہ تین مہینے میں لوڈشیڈنگ ختم کر دینگے ، لیکن میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی ، میں نے صرف اتنا کہا کہ ہمارے دور میں بجلی کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا ، اس چیلنج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اس کو دیکھا پھر ڈٹ گئے اب ہم پر امید ہیں کہ مسئلہ دو تین سال کے اندر حل ہو جائے گا ،گیس بحران کے خاتمے کے لئے بھی اقدامات کررہے ہیں ، ،گواردر سے نوابشاہ تک گیس پائپ لائنز بچھائیں گے ، ایران کی گیس بڑے منصوبے ہے اور اس پر کام ہو رہا ہے تا کہ مقررہ مدت میں کام مکمل ہو جائے ، سسٹم میں خرابی ہے اگربجلی زیادہ بنائی جائے تو سسٹم بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ، اس کو ٹھیک کرنا ہے اس کے لئے اربوں روپے درکار ہیں ، روس بھی پاکستان میں گیس پائپ لائن بچھانے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ سے لاہور ایکسپریس بنا یاجائے گا ، دکھ اس بات کا ہے کہ آج جو ایکسپریس وے بنے گی اس کو بیس سال پہلے بننا چاہئے تھا ہم بہت پیچھے رہ گئے ، ہم اپنے ہمسایوں سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں ایک زمانے میں ہمارا روپیہ ان سے زیادہ مضبوط ہوتا تھا اب ان کے مقابلے میں ہمار ا روپیہ کمزور ہو گیا ، اس خرابی کو ڈھونڈنا چاہئے ہم ترقی کی دوڑ میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں ، ہماری حکومت پر کوئی کرپشن کا سیکنڈل نہیں ، سیالکوٹ میں کولڈ سٹوریج بنانا پرائیویٹ سیکٹر کاکام ہے پرائیویٹ سیکٹر آئے ہم سہولتیں فراہم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اآپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ، ضرب عضب کامیابی سے چل رہا ہے ، دہشتگردی کے خلاف ہم نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ،پشاور سکول کے چھوٹے بچے بھی دہشتگردی کی زد میں آگئے ، کراچی آپریشن کے بھی اچھے نتائج نکلے ہیں ہم کسی پارٹی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کر رہے ، جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری رہے گا ، کراچی کو پرامن بنانا اس ملک کو پرامن بنانا ہے ہمار ی ذمہ دار ی ہے ، بندوق اٹھا کر پھرنے والے کلچر کو ختم کر یں گے ، ہمارا مصمم ارادہ ہے کہ کراچی کاامن بحال کریں گے ، باہر کے سرمایہ کار کہتے ہیں کہ کراچی نہیں آئیں گے ، دبئی آ کر مل لو ، کراچی کا امن آہستہ آہستہ بہتر ہو رہا ہے ، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں کمی آئی ہے ،کراچی آپریشن کو انجام تک پہنچائیں گے ، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم قوم کو مایوس نہیں کر یں گے ۔خواجہ آصف کی رہائش گاہ پر پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ مجھے زندگی میں وفا کا پہلو سب سے زیادہ پسند ہے یہ انسان کی بہت بڑی خوبی ہوتی ہے جس میں وفا نہیں اس میں کچھ نہیں ، انہوں نے کہا کہ وفادار پارٹی کارکنان ہر سیاسی جماعت کا اثاثہ ہوتے ہیں سیالکوٹ میں مسلم لیگ ن کے کارکنان نے ہر مشکل کی گھڑی میں پارٹی کا ساتھ دیا اور وفا نبھائی ہے ۔ میں وفادار کارکنان اور عوام کا عقیدت مند ہوں ۔ سیالکوٹ سے ہمیشہ ہماری پارٹی کو ووٹ ملے ہیں، ہماری حکومت جب بھی آئی ہے عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کو عروج پر لے کر جاتی ہے ، غربت کاخاتمہ اور معیشت کو ٹھیک کرنا ہماری ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے پنجاب کے عوام کی بے پناہ خدمت کی ہے ہم آئندہ بھی عوام کو مایوس نہیں کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو درپیش بڑے مسائل پر ہاتھ ڈالا ہے ۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ کامیابی کیلئے دعا کریں ۔ پاکستان میں دہشتگردی بڑا چیلنج ہے جس پر ہم نے ہاتھ ڈالا اور دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ۔ آپریشن ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں اب جو واقعات ہو رہے ہیں وہ بھی جلد بند ہو جائیں گے ۔ دہشتگرد بھاگ رہے ہیں ان کے نیٹ ورک اور انفراسٹریکچر کا خاتمہ کردیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1999میں جب ہماری حکومت کا خاتمہ کیاگیا تو اس وقت ملک میں دہشتگردی ، فرقہ واریت ، بجلی کی قلت ، لوڈ شیڈنگ اور گیس کی کمی جیسے مسائل نہیں تھے ۔ ملک ترقی کر رہا تھااور قوم کا سر فخر سے بلند ہورہا تھا اسی دور میں پاکستان ایٹمی قوت بنا موٹروے بنائی گئی ۔ اس وقت پاکستان کی کرنسی خطے کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مضبوط تھی اور آج سب سے کمزور ہے ۔ آج سولہ سال بعد عوام کو بجلی گیس اور پانی جیسی سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ دہشتگردی اور فرقہ واریت ہے ، ترقی کا پہیہ جام ہے اور یہ سارے مسائل ہمیں ورثے میں دیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کراچی میں دہشتگردی کیوں شروع ہوئی کس طرح وہاں دہشتگرد گھسے ہیں ، اغواہ برائے تاوان اور ٹاگٹڈ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا اس سے پہلے کراچی روشنیوں کاشہر تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پچھلے دور میں جب کراچی میں حکیم سعید کو شہید کیاگیا تواس وقت سندھ میں ہماری حکومت تھی اور ہم نے اپنے اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ مجرم ہمارے حوالے کرو جب ایسا نہیں کیاگیاتو ہم نے اپنی حکومت ختم کر کے گورنر راج نافذ کیااور کہا کہ دہشتگردی اور خون خرابہ برداشت نہیں کریں گے۔ میں اب بھی قوم کو یقین دلاتاہوں کہ اس معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،قوم نے ہمیں خرابیوں کے خاتمے ، امن وامان کی بحالی ،ترقی ، خوشحالی اور لوڈشیڈنگ و دہشتگردی جیسے مسائل کے خاتمے کامینڈیٹ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1991اور 1999میں جو مسائل موجود نہیں تھے آج ہمارا 90فیصد وقت ان مسائل کو حل کرنے پر خرچ ہو رہاہے ۔ ترقیاتی کاموں کیلئے وقت نہیں مل پا رہا ، انہوں نے کہا کہ میں بیان بازی اور لوگوں کو سبزباغ دکھانے پر یقین نہیں رکھتا اگر ایسا کرنا ہوتا تو الیکشن میں ووٹ لینے کیلئے یہ کہہ سکتا تھا کہ بجلی بحران کا خاتمہ ایک سال میں کر دینگے ۔ اس قسم کے مسائل کو حل کرنے میں وقت لگے گا ۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دن رات کام کررہے ہیں ہم اپنی مدت میں ہی لوڈ شیڈنگ ہمشیہ کیلئے ختم کردیں گے ۔ اور دہشتگردی کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بجلی کا مسئلہ حل ہو گا تو ملک ترقی کرے گا ۔ صنعت کا پہیہ چلے گا ،ر وز گار میں اضافہ ہو گا۔ ابھی حالات ٹھیک ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ معاشی اعشاریوں میں بہتری آ رہی ہے ۔ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہاہے ۔ بجلی کو سستا کرنا بھی ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے ۔ جب پانچ سال مکمل ہوں گے تو قوم کی تصویر اور حالات بدل چکے ہوں گے ہم سرخرو ہوکر پھر عوام کے پاس جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ سے لاہور ایکسپریس وے تین سال میں مکمل کرنے کی کوشش کریں گے اور سیالکوٹ میں نوجوانوں کیلئے ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر دفاع اور پانی و بجلی خواجہ محمد آصف ،صدر ایوان صنعت و تجاورت فضل جیلانی، اراکین اسمبلی رانا شمیم احمد خان،چوہدری ارمغان سبحانی، زاہد حامد خان، افتخار الحسن ظاہرے شاہ، محمد منشاء اللہ بٹ، چوہدری محمد اکرام، رانا لیاقت علی،چوہدری ارشد جاوید وڑائچ، چوہدری محسن اشرف ،سینٹر پروفیسر ساجد میر، ایگزیکٹو ممبر سیالکوٹ چیمبر راجہ ثاقب اشفاق ، محمد رفیق ، ساجد علی مغل ، چئیرمین ورک گروپ چوہدری چوہدری یعقوب ورک سمیت کثیر تعداد میں صنعتکار، تاجر اور پارٹی کارکن بھی موجود تھے۔

مزید : صفحہ اول