یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!

بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں تو پورے جسم میں جُھر جُھری سی پیدا ہو جاتی ہے۔ بچپن کے دن بھی خوب ہوتے ہیں، نہ کوئی فکر اور نہ فاقہ۔ بہت سال پہلے ایک معروف فلمی ہفت روزہ میں شان کی والدہ فلم سٹار نیلو کا انٹرویو پڑھا تھا جس میں انہوں نے کہا ’’کاش! میرا بچپن مجھ سے جُدا نہ ہوتا‘‘۔ اس انٹرویو میں کافی چیزیں چُھپی ہوئی تھیں۔ اُ ن کے کہے جملوں سے یہ احساس بھی پیدا ہوتا تھا کہ انسان کا بچپن کتنا خوبصورت اور ’’ٹینشن فری‘‘ ہوتا ہے اور جیسے ہی انسان شعور یا عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے پتہ نہیں کتنے ہی مسئلے اور ڈراؤنے سپنے اُس کے تعاقب میں لگ جاتے ہیں۔ وہ ’’ٹینشن فری‘‘ نہیں رہتا۔ بے شمار تفکرات سے گزرتا ہے اور صدمات سے بھی اور آنے والے زمانوں میں ان گزرے ہوئے ماضی کے لمحوں کو یاد کرتا ہے تو بقول شاعر ’’یادِ ماضی عذاب ہے یا رب! چھین لے مجھ سے حافظہ میرا‘‘ کی مصداق وہ سوچ اور فکر کی اِن اتھاہ گہرائیوں میں اپنے آپ کو گُم پاتا ہے۔ یعنی وہ ’’گمشدہ پرسن‘‘ بن جاتا ہے۔ نہ وہ خود اپنے آپ کو تلاش کر پاتا ہے، نہ دوسرے اُس کی تلاش میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ماضی، حال اور مستقبل کا یہ سفر ازل سے جاری ہے اور تا قیامت یونہی جاری رہے گا، جو ماضی میں تھے وہ اپنے ماضی کو یاد کر کے روتے ہیں اور ہم جو آج ہیں اپنے کل میں، اپنے ماضی کو یاد کر کے روئیں گے اور ہمارے بعد آنے والی نسلیں بھی اپنے ماضی پر اِسی طرح کا ردِعمل ظاہر کریں گی۔

ہمارا ماضی کیوں اچھا نہیں ہو سکتا۔ ہمارا ماضی جو آج ہے کتنا اچھا یا بُرا ہو گا، ہمیں اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں ماضی کی بہت ہی تلخ اور شیریں یادیں ہوتی ہیں،جو دونوں ہی یاد رہ جاتی ہیں۔ یادیں تلخ ہوں تو انسان ایسی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور اس کے اثرات کو زندگی یا زندگی کے کسی بھی پہلو سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

انسان کی زندگی میں ایسے واقعات یا سانحات پیش آئے ہوں جو بُھلائے نہ جا سکتے ہوں تو وہ اور کچھ نہیں تو کم از کم نفسیاتی مریض ضرور بن جاتا ہے۔ اُس کی زندگی میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو اُسے بظاہر مریض ظاہر نہیں کرتیں، لیکن درحقیقت وہ مریض ہی بن جاتا ہے۔ یعنی نفسیاتی مریض، جس کا علاج عام بیماریوں سے بہت مختلف اور مشکل ہوتا ہے۔

اگر ہم پوری سوسائٹی کا جائزہ لیں تو ہر دوسرا یا تیسرا شخص اس انتہائی خطرناک عارضے میں مبتلا ہے۔ یعنی وہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ عام آدمی کے نزدیک یہ کوئی مرض یا بیماری نہیں ہے، لیکن یہ کتنی مہلک ہے؟ اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جو اس سے کماحقہ واقف ہیں۔ بدقسمتی سے نفسیاتی مرض یاعارضے کو آج تک مرض یا بیماری تصور نہیں کیا گیا۔ یہ کم علمی کا نتیجہ ہے۔ یا لوگ خود ہی اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتے۔ اس پر طویل بحث ہو سکتی ہے، لیکن ہمیں اب تسلیم کر لینا چاہیے کہ پوری سوسائٹی کو اس ’’مرض ‘‘کے تصور سے چھٹکارا پانا ہے یا اس سے نجات دلانی ہے تو اس کو مرض تسلیم کر لینا چاہیے جو دائمی بھی ہے اور پوری سوسائٹی میں اس قدر سرایت بھی کر چکا ہے کہ جس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ اب اس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ ہم نفسیاتی معالج کے پاس جائیں اور علاج کی غرض سے اپنا مسئلہ بیان کریں جو کسی نہ کسی شخص میں کسی نہ کسی صورت میں ضرور موجود ہے۔اس کا شکار مرد بھی ہیں اور خواتین بھی۔ شعبوں کی بھی کوئی قید نہیں۔ پڑھا لکھا ہونا یا پڑھا لکھا نہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس کے لیے امیر اور غریب کی بھی کوئی شرط نہیں۔ یہ ’’مرض‘‘ کسی کو بھی، کسی وقت پیش آ سکتا ہے۔ وہ جتنی قوت کے ساتھ حملہ آور ہو گا اتنی ہی شدت کے ساتھ اس کے اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

نفسیاتی مریض عموماً اس سے چھٹکارا پانے کے لیے بہت ہی آسان راستہ تلاش کر لیتے ہیں یعنی ڈرگ کا استعمال کرتے ہیں جو بذاتِ خود ایک بہت بڑی بیماری ہے۔ اس لت کا شکار ہو کر وہ نہ اپنے رہتے ہیں نہ فیملی اور معاشرے کے لیے کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ بلکہ اس ’’لت‘‘ کے ساتھ ساتھ ذلت، رسوائی اور شکست خوردگی کا بھی شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خاندان، قریبی رشتوں اور معاشرے سے اس طرح سے کٹتے ہیں کہ پھر اُن کی کوئی جائے پناہ نہیں رہتی۔ وہ اپنے سکون کے لیے یا فرسٹریشن سے نکلنے کے لیے ہر طرح کی منشیات استعمال کرتے ہیں اور یہ بآسانی شہر کے ہر میڈیکل سٹورز سے مل بھی جاتی ہیں۔ یہ اتنی خطرناک ہوتی ہیں کہ نشہ کرنے والا ان میں دھنستا چلا جاتا ہے اور کسی موقع پر نکلنا بھی چاہے یا اس کا ارادہ بھی کر لے تو یہ منشیات اُس کے اندر اس قدر مضبوط پنجے گاڑ چکی ہوتی ہیں کہ وہ ان سے باہر نہیں نکل پاتا۔ یعنی انسان کے آگے یہ منشیات زیادہ مضبوط اور طاقت ور ثابت ہوتی ہیں۔

نفسیاتی عارضے یا معاشرے کو لاحق اس کے اثرات نے ہمیں پوری طرح جکڑ لیا ہے۔ اس کے علاج کے ادارے بھی ملک میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو ہیں وہ صرف بڑے شہروں تک محدود ہیں اور ان میں ڈاکٹرز کی فیسیں اس قدر زیادہ ہیں کہ عام فیملی اسے ’’افورڈ‘‘ نہیں کر پاتی۔ اس سے متعلقہ فرد علاج سے محروم رہتا ہے۔ لیکن ان کی تعداد لاہور کی آبادی کے برعکس آٹے میں نمک کے برابر ہے اور عام آدمی کی رسائی ان تک ممکن نہیں کیونکہ یہاں علاج ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہوتا ہے۔ البتہ فاؤنٹین ہاؤس میں اس کے علاج کی ممکنہ تمام سہولتیں مناسب پیکیج پر دستیاب ہیں۔ ایک طرح سے یہ ادارہ ڈرگ میں ڈوبے ہوئے خواتین و حضرات کے لیے ’’کارِ خیر‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس جیسے اور ادارے بھی قائم ہونے چاہئیں جو حکومتی سرپرستی میں قائم ہوں تاکہ لوگوں کا علاج سستا اور انتہائی آسان طریقے سے ہو سکے۔ لوگوں کا ’’حال‘‘ واقعی اتنا بُرا ہے جیسے وہ آنے والے اپنے کل میں اپنے گزرے ہوئے کل کے بارے اپنے حال کے بارے میں سوچیں تو انہیں اطمینان حاصل ہو کہ اُن کا ماضی واقعی تسلی بخش تھا اور وہ اپنے ماضی کے آگے قطعی شرمندہ نہیں ہیں۔

مزید : کالم