تو بچو ! یہ تھی آج کی کہانی

تو بچو ! یہ تھی آج کی کہانی
تو بچو ! یہ تھی آج کی کہانی

  

اگر کوئی کہے کہ اسے ریڈیو سننے اور کھانا پکانے کے عمل میں مشابہت دکھائی دیتی ہے تو آپ کو یہ بات عجیب لگے گی۔ میرے لئے اس میں حیرت کا کوئی سامان نہیں، اور اس کی ایک وجہ ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں اب ریڈیو گھروں، دوکانوں اور ہوٹلوں پر نہیں، صرف موٹر گاڑیوں کے اندر سنا جاتا ہے۔کبھی ریڈیو سیٹ خریدنے جاؤ تو الیکٹرانکس کی مارکیٹ سے مایوس ہونے کے بعد پتا ہی نہیں چلتا کہ ماضی کا یہ دل پسند آلہ کیا اب جوتوں کی دکان سے ملے گا یا میڈیکل سٹور سے یوں ریڈیو سننا اور کار کی ملکیت لازم و ملزوم ہو گئے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے میرے نزدیک کوئی بھی سالن پکانا ہانڈی میں آلو ڈالنے سے لازمی طور پہ مشروط ہے، ورنہ اپنی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ دیگر غذائی اجزا میں سے کون سی چیز پہلے ڈالی جائے، کون سی بعد میں اور بیچ میں کتنا وقفہ ہو۔

پکوائی کے شعبہ میں میرے اس طبع زاد اصول کی ہر وہ شخص داد دے گا جس نے بیرون ملک طالب علمی کے دوران پہلی بار ہمت کر کے انڈوں کے آملیٹ میں باریک باریک آلو اضافی طور پہ ڈالے۔ پھر اس کامیابی سے شہہ پا کر اگلے مرحلہ میں ڈبے کے پیک شدہ مٹر بھی اس ملغوبے میں انڈیل دئیے۔ پلک جھپکتے ہی پکوائی کے سامنے (یہ لفظ ’پکوائی‘ کا ہندی اسم فاعل ہے) ہرے رنگ کے شوربے میں مٹروں کی جگہ کچھ ایسے چھوٹے بڑے ذرات تیر رہے تھے جنہیں فنی طور پر بہر حال خوراک ہی کہا جائے گا۔ اس نیم کامیاب تجربے کی روشنی میں آلو کی مرکزیت کا اصول طے پا گیا، یعنی کونسی سبزی آلو سے پہلے ڈالی جائے اور کونسی بعد میں۔ اس وقت ہاسٹل کے مشترکہ کچن میں میرے کیسٹ پلئیر پر استاد برکت علی خاں کی آواز میں فیض کا یہ مقطع گونج رہا تھا کہ ’مت پوچھ ولولے دل نا کردہ کار کے۔

اولین پکوائی سے بہت پہلے، ابتدائی عمر میں پہلی بار ریڈیو سننے کا تجربہ ذرا خوابناک سا ہے۔ ریڈیو کی سوئی بڑی سی سرخ آنکھ والے گول ڈائل پر گھوم رہی ہے۔ اس کا نام بتایا گیا ’میجک آئی‘، لیکن سمجھ میں آیا ’میجے کائی‘۔ ایک تین سالہ بچے کے لئے اتنا ہی کافی تھا۔ ساتھ ہی ریڈیو پر مسلسل کھڑر، کھڑر۔ ۔۔۔ کھڑ کھڑ کھڑ۔ ۔۔ بوندا باندی، ہلکی ہلکی سردی، اوپر سے شمشاد بیگم کی غن غنی سی آواز میں ’کاہے جادو کیا، مجھ کو اتنا بتا، جادو گر بالما!‘ گانے کی تاثیر سے دائیں ٹانگ میں درد محسوس ہونے لگا، جیسے ہوا لگ گئی ہو۔ تب سے اب تک یہی معمول ہے کہ آواز غن غنی لگے تو ٹانگ میں درد۔ اگلا گانا تھا ’میرے سجناں دی ڈاچی‘۔ ۔۔ کھڑر، کھڑر۔ ۔۔ بدامی رنگ دی ‘۔ یہ ’ڈاچی‘ کیا ہے ؟ ننھے سے دماغ نے سوچا ’لپٹن‘ کی چمکتی پنی والے چھوٹے پیکٹ کو ’ڈاچی‘ کہتے ہوں گے۔

اس زمانے میں سیالکوٹ کے مکینوں کے لئے جغرافیائی قربت کے باعث ڈوگری لہجے میں بولنے والا ’ریڈیو کشمیر دا جموں کیندر‘ یا کبھی کبھار جالندھر کیچ کر لینا آسان تھا۔ اس کے مقابلے میں چھت کے بلند ترین مقام پر اونچے بانسوں والے ایرئیل کے باوجود ریڈیو پاکستان لاہور کے کمزور اسٹیشن سے مصطفےٰ علی ہمدانی اور اخلاق احمد دہلوی کے اعلان ناموں کی کھنک ذرا مدھم سنائی دیتی۔ عبوری دارالحکومت کے نواح میں ہماری منتقلی کے بعد راولپنڈی اسٹیشن کا دو سو ساٹھ اعشاریہ ایک نو میٹر بینڈ ذہنی تفریح کا ایک بڑا وسیلہ بننے لگا تھا۔ ٹرانسمیشن سے پہلے سارنگی کا ’غایوں۔۔۔ غایوں۔ ۔۔ غایوں‘ والا طویل سازینہ، ایک گمبھیر ’السلا م علیکم ‘ اور ابتدائی اعلان کے آخر میں دو مانوس نام۔ ’ اس مجلس میں آپ کے اناؤنسر ہیں شبر حسن اور بادشاہ گر زیدی۔

یہ تعارف ہے دوسری مجلس کا، وگرنہ صبح کی نشریات میں، جو ساڑھے چھ بجے شروع ہو جاتیں ، پہلا اعلان تھا ’قرآن حکیم اور ہماری زندگی۔ تقریروں کے اس سلسلے میں آج۔ ۔۔ اور یہ سلسلہ سیدھا سادہ، عام فہم اور کانوں کو بھلا لگنے والا تھا، جسے سن کر دلوں میں اطمینان سا محسوس ہوتا۔ یہ شعور بھی ملتا کہ اسلامی تعلیمات پیچیدگی سے عاری، منشائے فطرت کے مطابق اور انتہائی قابل عمل ہیں۔ سات بجے کی خبریں پاکستان کے ابتدائی دور میں پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ہوتیں، بعد میں یہ ’ترتیب نزولی‘ بدل دی گئی اور اردو کے ساتھ بنگلہ خبریں بھی نشر ہونے لگیں۔ ساٹھ کی دہائی کے انگریزی نیوز ریڈرز میں ایرک وارنر، جہاں آراء سعید، انیتہ غلام علی کے علاوہ اسلم اظہر، رضوان واسطی، ایڈورڈ کیریپیئٹ اور ریاض احمد خان کے نام یاد پڑتے ہیں۔ اسی طرح اردو خبروں کا ذکر شکیل احمد، انور بہزاد، مشہود احمد، وراثت مرزا اور شمیم اعجاز کے بغیر نامکمل رہے گا۔

شکیل احمد کی مقبولیت کا گراف 1965 کی جنگ کے دوران اپنے عروج پہ تھا۔ ان دنوں صبح کے بلیٹن کا آغاز بارہا اس انداز سے ہوا ’کل ہماری فضائیہ کے طیاروں نے ہلواڑہ، آدم پور، جام نگر، جودھپور اور پٹھانکوٹ کے ہوائی اڈوں پر شدید بمباری کی اور ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔ جب ہمارے شاہین صفت ہوا باز بمباری کر کے لوٹے تو دور آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دئیے ‘۔ شکیل احمد ایک بلند آہنگ نیوز ریڈر تھے مگر خبریں پڑھتے ہوئے صوتی ادائیگی میں تانیں اور پلٹے، سر کے اندر سرتیاں اور اچھی خاصی ’گھمک‘ اس تناسب سے ملا دیتے کہ اگر ہانڈی میں آلو ڈالنے والا استعارہ استعمال کروں تو بنیادی غذائی اجزاء کی زمانی ترتیب خراب نہ ہونے پاتی۔ گھر گھر جانے گئے ریڈیو پاکستان کے ’شکیل دادا‘ آج کی دنیا میں واپس آ جائیں تو شائد انہیں یہ کہہ کر نجی ٹی وی پہ خبریں پڑھنے سے روک دیا جائے کہ آپ کی روائتی تعلیم کم ہے اور شکل واجبی سی۔

تفریحی اور معلوماتی پروگرام تو آج بھی ہوتے ہیں لیکن پاکستانیوں کی ایک پوری نسل ہے جس نے ریڈیو پاکستان لاہور سے ہر شام موہنی حمید کو بڑے چاؤ سے سنا، جن کی بات ہمیشہ اس پہ ختم ہوتی ’تو بچوِ، یہ تھی آج کی کہانی۔ اس کے بعد کورس کی شکل میں علامہ اقبال کی منظوم ’دعا‘ شروع ہو جاتی جسے سب بچے ’لب پہ آتی ‘ بلکہ ’لپے آتی‘ کہتے۔ راولپنڈی اسٹیشن کی بات کریں تو اتوار کی صبح مضطر اکبر آبادی والا ’گہوارہ‘ لاہور میں بچوں کے بھائی جان ابو الحسن نغمی کے پروگرام سے کم نہ ہوتا، خاص طور پہ ڈرامے، نغمے اور پہلیلیاں۔ جیسے ’مجھ سے باجی جان خفا ہیں ‘، ’او بی بی سیما، بھیا سے کٹی کیوں ہو گئی‘ اور کئی مرتبہ نشر ہونے والا کھیل ’آندھی‘ جس میں مزے مزے کی چیزیں لانے والی طلسمی بوری اصغر نامی کردار کے لالچ اور حرص سے تنگ آکر اس کی یہ خواہش پوری نہیں کرتی کہ

پیاری بوری، کھول دے ڈوری

لادے مجھ کو بوری رانی!

اچھا کھانا، میٹھا پانی!

جمشید مارکر اور عمر قریشی کی آوازوں میں کرکٹ کمنٹری کا اپنا ہی لطف تھا . جس نے کئی لوگوں کو انگریزی سکھا دی یا کم از کم ٹیسٹ کرکٹ کی لذت سے آشنا کر دیا۔ پھر منگل اور جمعرات کو لاہور اور بدھ کی شب نو بجے راولپنڈی سے فرمائشی پروگرام۔ پہلے سننے والوں کے نام ہوتے اور پھر ان کی پسند کے فلمی گیت۔ جب بھارتی فلمی نغمے ہمارے اسٹیشنوں سے نشر کرنے کا سلسلہ بند ہو گیا تو کئی اہل دل اپنی فرمائشیں دہلی بھیجنے لگے، جہاں سے مخصوص لہجہ میں اعلان ہوتا ’یہ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس ہے۔ اب آپ زاہد علی خان سے خبروں کا خلاصہ سنئیے‘۔ خان صاحب جس طرح جملے کے ٹکڑے کر کے بولتے اس میں بھی ایک لذت تھی، لیکن کئی دفعہ لگتا کہ کوئی ایتھلیٹ ’ہوپ، سٹیپ اینڈ جمپ‘ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایک زیادہ دل چسپ میڈیم کے طور پر ٹیلی ویژن کی مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ تصویر ی خدوخال اور دلکش رنگوں سے ہٹ کر ریڈیو معلومات کا تیز تر اور کم خرچ وسیلہ ہے۔ پھر اس کے سنجیدہ پروگراموں کی بدولت یہ بھی ممکن ہو جاتا ہے کہ سننے والا کسی کی ٹائی، دوپٹے یا بالوں میں الجھے بغیر حقائق و دلائل کی جزئیات میں اتر ے اور گرد و پیش پہ گہرائی میں جا کر غور کرے۔ یوں سننے والے کے لئے فکری پختگی، زبان و بیان کی باریکیاں سیکھنے اور بامعنی مکالمے کے کلچر کو اپنانے کا موقع ملتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ تمدنی رچاؤ کے حامل معاشروں میں ذرائع ابلاغ کا یہ رول ختم نہیں ہوا، ورنہ السٹئیر برنیٹ، ٹریور میکڈونلڈ اور مارک ٹلی جیسے محض قبول صورت مگر صحافیانہ بصیرت کے حامل پریزینٹر ’سر‘ کا خطاب کبھی حاصل نہ کر سکتے۔ ۔ ۔ باقی باتیں پھر سہی۔ اس وقت تو موہنی حمید کی یاد میں یہ کہہ کر اجازت چاہوں گا کہ ’بچو، یہ تھی آج کی کہانی۔

مزید : کالم