’’احسان بن دانش‘‘ سے ’’سراپا دانش‘‘ تک!(1)

’’احسان بن دانش‘‘ سے ’’سراپا دانش‘‘ تک!(1)
’’احسان بن دانش‘‘ سے ’’سراپا دانش‘‘ تک!(1)

  

حضرت احسان دانش کون تھے؟ کیا تھے؟ نئی نسل کو یہ بتانے ، جتانے کے لئے ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو‘‘ کہنا پڑ رہاہے۔۔۔ احسان دانش شاعر تھے، ادیب تھے، محقق تھے، نقاد تھے، لُغت نویس تھے، ماہرِ لسانیات تھے، صاحبِ فن تھے عروض پر خصوصی دسترس رکھتے تھے۔ مدیر تھے، فقیر تھے مگر حقیر ہر گز نہیں تھے کہ ان تمام صفات کے ہوتے ہوئے کوئی حقیر ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ استادوں کے استاد تھے۔ شاعری میں متعدد شاگرد بنائے سینکڑوں کو شاگرد بنائے بغیر لکھ لکھ کے دیا اور مشاعروں میں ان شاعروں کو خوش الحانی کے ساتھ اچھی ادائیگی کے سبب خود سے زیادہ داد لیتے دیکھا اور بعض کو خود استادی کے منصب پر فائز ہوتے اور اپنی شاگردی سے افضل منہاس کے اس شعر کے مصداق منحرف ہوتے دیکھا:

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں

جب بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے

پھر ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا دیکھ کر انہیں یہ بھی کہنا پڑا:

مشاعروں میں یہ اکثر ہوا ہے اے دانش

ہمارا شعر ہو اور مرحبا کسی کو ملے

اور یہ بھی کہ:

شاعر اگر کوئی سرِ بزمِ مشاعرہ

دانش! کلام آپ کا گالے تو چُپ رہو

احسان دانش طویل طویل غزلیں کہتے، کوئی قافیہ ان سے بچ نہ پاتا طویل غزل میں سے بہترین اشعار چُن کر سات، نو ، گیارہ ،سترہ یا زیادہ اشعار کی غزل اپنے لئے رہنے دیتے، باقی قلم زد اشعارکو حاجت مندوں میں تقسیم کر دیتے۔ہر طلب گار حسبِ حیثیت و استطاعت من کی مراد پاتا اور ان کی منڈلی میں شامل ہو کرمشاعرے کماتا۔ احسان دانش بعض اوقات اپنے حریفوں کو نیچا دکھانے کے لئے ’’لڑا دے ممولے کو شہباز سے‘‘ کا حربہ بھی استعمال کرتے۔ ایسے ہی ایک عظیم الشان کل پاکستان مشاعرے میں جس کی نظامت میں کررہا تھا،جب کئی بڑے بڑے شاعر مثلاً قتیل شفائی اور ظہیر کاشمیری تک پڑھوائے جا چکے تو احسان دانش صاحب نے ایک باوزن چٹ مجھے تھما دی:

’’اب رشک خلیلی کو پڑھواؤ‘‘

میں تھوڑی دیر کے لئے بھونچکا سا ہو کر رہ گیا کہ یہ نام تو مدعو فہرستِ شعراء میں شامل نہ تھا۔ پڑھواؤں تو اتنے سینئر شعراء کے بعد کیسے پڑھواؤں؟ نہ پڑھواؤں تو استاد کی حکم عدولی ہوتی ہے۔ بہرحال میں نے ایک حل نکالا، تمہید باندھی کہ ’’جناب رشک خلیلی بہ وجوہ انتہائی تاخیر سے تشریف لا سکے ہیں۔ان کا یہ مقام تو نہیں لیکن حضرت احسان دانش کا حکم ہے، سو بجا لا رہا ہوں۔ تشریف لاتے ہیں جناب رشک خلیلی‘‘۔۔۔ اس تمہیدی تعارف پر رشک خلیلی آخر تک اکڑوں بیٹھے، اُکھڑے اُکھڑے سے غزل سنا کر بلکہ گھاس کاٹ کر بغیر داد لئے رخصت ہوئے تو جناب احمد ندیم قاسمی کو دعوتِ سخن دی گئی۔ یوں مشاعرہ عروج سے گر کر پھر سنبھلا۔۔۔

اکثر شاگرد صبح و شام احسان دانش کی ادبی بیٹھک یعنی انار کلی بازار کی بہت بڑی کئی منزلہ متروکہ بلڈنگ ’’دانش کدہ‘‘ بعدازاں ’’دانش آباد‘‘ کی پہلی منزل پر پڑاؤ ڈالے رکھتے۔ ایسے بعض شاگردوں کی وہ طرح طرح کے حیلے بہانوں سے مدد بھی کرتے رہتے۔ شفیق کوٹی بھی روز کے حاضر باشوں میں سے ایک تھے جو بہ زعمِ خود استاد تھے۔ بعض نوواردوں کو احسان دانش صاحب، شفیق کوٹی کے سپرد کر دیتے کہ :

تُو دانی حسابِ کم و بیش را

انار کلی بازار کے اکثر تاجر جب اپنے یا اپنے بیٹے کا سہرا لکھوانے کی خواہش لے کر احسان دانش کی خدمت میں کورٹش بجا لاتے تو وہ بصد احترام کہتے ’’لکھ تو میں دوں گا ،مگر جس کسی کا لکھا بچا نہیں‘‘ یہ سُن کر آنے والا کانوں کو ہاتھ لگا کر واپس جانے کے لئے پر تولتا تو کہتے: ’’ٹھہرو! اب آہی گئے ہو تو ناکام و نامراد مت لوٹو۔۔۔ میرے پاس ایک بڑا صاحب فن، عمدہ شاعر موجود ہے جو ملتان سے آیا ہوا ہے، دن بھر تو فلمی اسٹوڈیو میں شباب کیرانوی کے ساتھ ہوتا ہے، رات کو میرے ہاں آکر سو جاتا ہے، اس سے سہرا لکھوا دوں گا مگر وہ پانچ سو روپے سے کم نہیں لے گا،وہ دے جاؤ اور ایک کاغذ پر دولہا دلہن کے نام کے ساتھ عزیزوں رشتے داروں کے وہ سب نام بھی لکھ دو جو سہرے میں فٹ کرانا چاہتے ہو‘‘۔۔۔ چنانچہ مرتا کیا نہ کرتا ، لکھ پتی تاجر کو پانچ سو روپے نکالتے ہی بن پڑتی، حالانکہ وہ کنجوس، مکھی چُوس مفت میں سہرا لکھوانے اور احسان دانش کا قیمتی وقت ضائع کرانے کی نیت سے آیا ہوتا تھا، یوں ملتان کے باکمال صاحب فن شاعر حزیں صدیقی کی اچھی خاصی دہاڑی آدھو آدھ میں لگ جاتی۔ مکمل ہونے پر ایک نظر استاد سہرے پر ڈال لیتے اور حتمی شکل میں حاجت مند کے سپرد کر دیتے۔۔۔!اس حکمت عملی کی مجھ سے ایک بار اس طرح وضاحت کی:

’’دیکھو بھئی! اس بازار یعنی انار کلی کے اکثر دکاندار روزانہ لاکھوں کماتے ہیں، جعلی کھاتوں کی خانہ پُری کے لئے جزوقتی منشی مقرر کر رکھے ہیں اور ٹیکس چوری کے تیر بہدف حربوں کے لئے خطیر رقم کے معاوضے پر وکیل یا مشیر مقرر کئے ہوئے ہیں۔ یہ تاجر لوگ شادی بیاہ پر، ولیمے پر، حتیٰ کہ ختنوں تک کی تقاریب میں بے تحاشا لٹاتے ہیں۔ شامیانوں ،تمبو، قناتوں، صوفوں، کرسیوں اور آرائش والوں سے لے کر بھانڈ، مراثی تک کو ہزاروں روپے دے دیتے ہیں۔ نہیں دیتے تو شاعر کو حق خدمت نہیں دیتے اور چاہتے ہیں کہ مفت میں حسبِ منشا سہرا لکھوا کر چمپت ہو جائیں اور سہرا فریم کراکے اپنے ڈرائنگ روم میں سجا کر آنے جانے والوں کو فخریہ دکھائیں کہ میرا یا میرے بیٹے کا سہرا احسان دانش نے لکھا تھا۔۔۔! میں ان سرمایہ داروں کو اپنا نام نہیں بیچتا اور کہتا ہوں کہ:

میرے افلاس نے کھائی نہیں دولت سے شکست

اور اس ملک کے فنکار سے کیا چاہتے ہو؟

اپنی اس حکمت عملی سے، جسے بعض حریفانِ تیرہ باطن چالبازی سمجھتے ہیں، مَیں دراصل غریب، نادار ضرورت مند مگر صاحبانِ فن محنت کش شاعروں کی مالی مدد بھی کر دیتا ہوں اور ان زرپرست دکانداروں، تاجروں، سرمایہ داروں سے جان بھی چھڑا لیتا ہوں‘‘۔ یہاں مجھے یاد آیا کہ حیدرآباد [سندھ] کے ایک گمشدہ مفلس شاعر ساغر دہلوی نے بھی،سہرے لکھوانے والے احباب کے لئے کہا تھا:

سہرے کے واسطے بڑے چکر لگائیں دوست

کھانے کا وقت ہو تو ہمیں بھول جائیں دوست

(جاری ہے)

احسان دانش عام معنوں میں تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر بے حد پڑھے لکھے صاحب علم ادیب اور شاعر تھے۔ان کے پاس کسی تعلیمی ادارے کی کوئی سند، کوئی ڈپلوما،کوئی سرٹیفکیٹ، کوئی اصلی یا جعلی ڈگری نہیں تھی مگر بے شمار اصلی ڈگریوں والے انہوں نے پی ایچ ڈی کرا دیئے، ماہر تعلیم بنوا دیئے۔۔۔جناب احسان دانش کے فن اور شخصیت کے حوالے سے ایم اے، ایم فِل اور پی ایچ ڈی کے متعدد مقالے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لکھوائے گئے، جس پنجاب یونیورسٹی کی دیواروں میں ایک راج مزدور کی حیثیت سے انہوں نے اینٹیں چُنیں اسی یونیورسٹی کے وہ تحقیقی مقالوں کے ممتحن ٹھہرے۔ایسے نابغہ روزگار شاعر، ادیب، زبان دان، عُرفِ عام میں اَن پڑھ، غیر تعلیم یافتہ مگرعالم و فاضل ’’سیلف میڈ‘‘ اشخاص احسان دانش سمیت ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ، ابوالاثر حفیظ جالندھری اور شورش کاشمیری بھی شامل ہیں۔احسان دانش ایک مفلس و نادار مگر با وقار مخلص قلمکار تھے جنہوں نے اردو ادب کو اقلیمِ سخن بخش دی اور خدائے سخن میر تقی میر کی طرح یہ شکوہ نہ کیا:

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس مفلسی میں عزتِ سادات بھی گئی

احسان دانش کے پاس’’ عزت سادات‘‘ تو نہیں تھی کہ وہ قاضی دانش علی کے بیٹے تھے۔ میر سید محمد متقی کے نہیں۔ قاضی اور دانش کے لا حقے کو شروع میں قاضی احسان بن دانش کے طور پر استعمال بھی کیا مگر جب منٹو پارک( حال مینار پاکستان پارک) کے عظیم الشان’’ علیؑ ڈے‘‘ کے موقع پر انڈیا سے آئے ہوئے پنڈت گوپی ناتھ امن جیسے مقتدر شعراء سے پہلے احسان بن دانش کو’’ مولا علیؑ ‘‘ پر نظم سنانے کے لیے اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی تو ادیب شہیر، خطیب اعظم مولانا سید اظہر حسن زیدی مرحوم و مغفور نے یوں تعارفی کلمات ادا کیے:

’’ عام لوگ انہیں حسان بن دانش کہتے ہیں حالانکہ یہ دانش ہی دانش ہیں، سراپا دانش ہیں گویا احسان دانش ہیں‘‘ بس پھر کیا تھا، چل سوچل وہ دن اور آج کا دن احسان بن دانش طاقِ نسیاں کی نذر ہو گئے’’ بِن‘‘ کے بغیر اب وہ چار دانگِ عالم پر چھائے ہوئے ہیں اور احسان دانش کی حیثیت سے ادبی افق پر درخشاں و تابندہ ہیں، اور مر کر بھی زندہ ہیں کہ شعور و فکر و آ گہی اور علم و دانش کے حوالوں سے وہ فیض رساں ہیں اور رہیں گے۔

جب احسان دانش بہت شدید بیمار ہو کر میو ہسپتال کے البرٹ وکٹر وارڈ میں زیر علاج تھے اور میں اپنے عزیز ڈاکٹر سید صفدر حسین زیدی ( ڈی پی آئی پنجاب)کو ہمراہ لے کر عیادت کے لیے گیا تو واپس گاڑی تک آنے کے لیے انارکلی کے بیرونی سمت والے گیٹ کی طرف پہنچنے کو ڈھلوان سے پیدل اترتے ہوئے ڈاکٹر صفدر حسین کے قدم اچانک جیسے تھم گئے۔ انہوں نے رک کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تشویش ناک اعترافی لہجے میں کہا ’’ اس بھرے پڑے شہر میں ایک شخص تھا جس سے ہم کبھی کوئی لفظ پوچھ لیتے تھے، افسوس اب وہ بھی جا رہا ہے‘‘۔۔۔

یہ الگ بات کہ احسان دانش اس بیماری سے معجزانہ طور پر جاں بر ہو کر برسوں جیئے اور ڈاکٹر صفدر حسین ان سے پہلے رخصت ہو گئے۔

احسان دانش بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے’’ شاعر مزدور‘‘ تھے، موضوعی نظموں پر دسترس رکھتے تھے تاہم غزل میں بھی انہوں نے اپنی انفرادیت کے جوہر دکھائے اور کلاسیکی غزل میں مومن و حسرت موہانی سے بڑھ کر ایسے ’’عاشقانہ و فاسقانہ‘‘ اشعار بھی کہے:

یہ اُڑی اُڑی سی رنگت یہ کُھلے کُھلے سے گیسو

تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ

اور پھر زمانے کے ساتھ ساتھ چلے تو اپنی غزل میں نئی سے نئی ترکیب بھی تراشی چنانچہ لگ بھگ نصف صدی قبل انہوں نے’’ زمین اوڑھنے‘‘ کی ترکیب اپنے ایک مطلع میں یوں استعمال کی:

انساں نہیں رہتا ہے تو رہتا نہیں غم بھی

سو جائیں گے اک روز، زمیں اوڑھ کے ہم بھی

بس پھر کیا تھا یار لوگوں نے ’’ زمیں اوڑھنے‘‘ کی ریڑھ مار کے رکھ دی۔ اسی غزل کا ایک شعر اور مقطع بھی ملاحظہ ہو:

دیوانے اگر جھانجھ میں کہہ دیں گے کوئی بات

رہ جائیں گے منہ دیکھتے قرطاس و قلم بھی

جو سینہ سپر عرصۂ ہستی میں ہیں دانش

دشوار نہیں ان کے لیے راہ عدم بھی

احسان دانش کی غزل گوئی کا ذکر چلا ہے تو ایک غزل کے یہ دوشعر اور ملاحظہ ہوں:

تنہائی گوارا نہیں فطرت کو کسی کی

دل جس کو دیا ہے اسے غم ساتھ دیا ہے

تم رکھ نہ سکے اپنی وفاؤں کا بھرم بھی

تم نے مرا، امید سے کم ساتھ دیا ہے

جیسے لاہور، لاہورہے اسی طرح قیام پاکستان سے بہت عرصہ پہلے کا ندھلہ ضلع مظفر نگر( یوپی انڈیا) سے آ کر لاہور کی فضا میں رچ بس جانے والے احسان دانش بھی، احسان دانش ہیں، جن پر لاہور یوں کو فخر ہے اور فخر ہونا بھی چاہیے۔ 1914ء میں کا ندھلہ میں جنم لینے والے احسان’دانش‘ نوجوانی میں ہی مزدوری کرنے لاہور آن بسے اور شروع میں انہوں نے اس تاثر کا بھی اظہار کیا:

مجھے احسان یہ ماحول کیوں کر راس آئے گا؟

یہاں تو لوگ تعریف حق و باطل بدلتے ہیں

لیکن پھر اس مہمان نواز شہر کی زمین نے ہمیشہ کے لیے احسان دانش کے پاؤں پکڑ لئے اور وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے کہ:

در خور لطف و کرم جو نہ سمجھتے تھے کبھی

آج کل خیر سے ان کے بھی سلام آتے ہیں

اور یہ بھی کہ:

خدا لاہور کو آباد رکھے!

کوئی اس کا کہیں ہمدم نہیں ہے

(جاری ہے)

مزید : کالم