پی آئی اے جو کبھی تھی

پی آئی اے جو کبھی تھی
پی آئی اے جو کبھی تھی

  

1960ء مَیں مجھے پاکستان ائیر فورس سے ریلیز (Release) ملی۔ ائیر فورس میں رہتے ہوئے مَیں نے 2 کام کئے۔ ایک تو مَیں نے انگریزی ادب میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ طور پر M.A کر لیا اور دوسرا یہ کہ اُسی سال CSS کا امتحان بھی دے دیا، نتیجے اور انٹرویو وغیرہ میں اُن دِنوں ایک سے ڈیڑھ سال لگ جاتا تھا۔ اس درمیانی عرصہ کے دوران میَں نے کہیں نہ کہیں روزگار تلاش کرنا تھا۔ اتفاق سے PIA کی طرف سے فلائٹ سٹورڈ کی ملازمت کا اشتہار نظر سے گزرا اور مَیں نے ملازمت کے لئے درخواست دے دی۔ چونکہ ملازمت کی شرائط، مَیں پوری کرتا تھا اور شخصیت کے لحاظ سے بھی PIA کے اُس وقت کے معیار پر پورا اُترتا تھا، مجھے بطور ہوائی میزبان (Flight Steward) ملازمت مل گئی ۔ 6 ہفتوں کی ٹرنینگ تھی۔ میرے ساتھ ٹرنینگ کرنے والوں میں عرب لڑکے اور لڑکیاں ، نیپالی، مالٹا اور ساؤتھ افریقہ کے فلائٹ سٹورڈ اور ائیر ہوسٹس بھی شامل تھیں۔ بڑی شان تھی اُس ٹرنینگ کی۔ خیال رہے کہ پاکستان کے وجود میں آئے ابھی 13 سال ہی ہوئے تھے اور PIAC کو بنے ہوئے صرف 6 سال ہوئے تھے۔ اس سے پہلے ایک چھوٹی سی Orient Airline ہوتی تھی جو اولاً کلکتہ میں بنی تھی، جب بنگال کا ابھی بٹوارہ نہیں ہوا تھا، حسین شہید سہروردی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ اورئینٹ ائیر ویز کے چیرمین ایک مسلمان ایم ۔ اے اصفہانی تھے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد یہ4 جہازوں والی اورئینٹ ائیر لائن کراچی شفٹ ہو گئی یعنی اورئنٹ ائیر ویز PIAC کی پیش رو تھی۔پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کارپوریشن حکومتِ پاکستان کے سرمائے سے 1955 میں عالمِ وجود میں آئی۔ Orient Airways اپنے 4 ڈکوٹا جہازوں کے ساتھ PIAC میں مدغم ہوگئی۔ 1955 سے1960 کے اوائل تک PIA کے پہلے MD جناب ظفر الاحسن لاری تھے۔ لاری صاحب آئے تو سوِل سروس سے تھے ،لیکن وہ انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔ PIA میں آنے سے پہلے وہ تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیرمین کے طور پر پاکستان کی لاکھوں ایکڑ ناکارہ راضی کو کار آمد بنا چکے تھے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے تو مہاجروں کی آبادکاری کے ساتھ ساتھ لاہور شہر کو سمن آباد اور گلبرگ کالونیاں دیں۔ PIDC کے بانی چیرمین بنے تو پاکستان کو صنعت کاری کی شاہراہ پر ڈالا۔ ایسا منتظم جب PIAکی پیدائش کے فوراً بعد مِلا تو5 سالوں میں PIA علاقائی فلائیٹس شروع کر چُکی تھی،بین الاقوامی معیار کی کیٹرنگ سروس بنا چکی تھی اور کراچی ائیر پورٹ کے رن وے کو جیٹ جہازوں کی اُڑان اور لینڈنگ کے قابل کر چکی تھی۔ ذرا خیال کیجئے PIA کی توانائی اور کارکردگی کا کہ اپنی پیدائش کے 5 سا ل میں ہی ہماری قومی ائیر لائن نے اپنے فلِیٹ میں زیادہ ترقی یافتہ اور بہتر جہاز شامل کر لئے۔ پہلا بوئنگ 707 طیارہ 1960میں PIA نے لیز پر لے کر شامِل کیا ،جس پر ہماری ٹرئینگ بھی ہوئی۔ اُس وقت کے ترقی یافتہ جہاز سوُپر Constillation اورViscount پہلے ہی PIA نے حاصل کر لئے تھے۔ ذرا اس نئی نئی قائم شدہ ائیر لائن کے کارنامے دیکھیں کہ پی آئی اے کی اپنی کیٹرنگ سروس اتنے اُنچے معیار کی بن گئی تھی کہ 35 بین الاقوامی ائیر لائنز اپنے ہوائی مسافروں کے لئے انواع و اقسام کے کھانے کراچی سے Load کرتی تھیں۔ 1964ء تک PIA کا انجینئرنگ کا شعبہ 10-12 ائیر لائنز کے ہوائی جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کررہا تھا۔ آج کی PIA کی زبوں حالی کا اُس 5 سالہ تُندو توانا، مستعد اور چاق و چوبندPIA سے کریں تو دِل خون کے آنسو روتا ہے۔ 1960ء مَیں جب ہم Trainees کو بوئنگ کے کیبن میں ٹرنینگ کرنے کے لئے لایا گیاتو ہمیں معلوم ہوا کہ تمام ایشیائی ائیر لائنوں میں PIA پہلی ائیر لائن تھی جس نے JET طیارے کو اپنے ہوائی بیڑے میں شامل کیا۔ اُن دِنوں PIA میں ابھی نفاذِ شریعت نہیں ہوا تھا۔ بالکل گوری ائیر لائن کی طرح \"کُھلی ڈُلی\" اور مسافروں کی خدمت گذاری میں ہمہ دم مصروف ہماری ائیر لائن تھی۔

1960ء میں PIAکے سربراہ ائیرمارشل نور خان بنے۔ وہ جو ایک مثال ہے کہ فلاں شخص پیدائشی آرٹسٹ ہے، اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ نور خان صاحب (اب مرحوم ) پیدائشی منتظم تھے، جس اِدارے کی بھی سربراہی کی اُس کو چار چاند لگا دئیے ۔ پاکستان ائیر فورس کو 1965ء کی جنگ کے حوالے سے ناقابلِ تسخیر بنانے میں نورخان صاحب کا ہاتھ تھا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے جب سربراہ بنے تو ہماری ہاکی ٹیم فتوحات کرتی چلی گئی۔ PIA کے خد و خال مزیدنکھارنے میں اور اسکی اعلیٰ کارکردگی میں نور خان صاحب کی خدمات شامل تھیں۔ جیسے وہ خود چھیل چھبیلے تھے، اہلِ صورت کی قدر کرتے تھے، کام اور اہلیت کو ترجیح دیتے تھے، ایسے ہی وہPIA کے کیبن کریو(Cabin crew) کو نہ صرف سمارٹ اور خوش شکل دیکھنا چاہتے تھے ،بلکہ اُن کا حکم تھا کہ PIA کا ہر ہوائی میزبان مسافروں کی خدمت مسکراہٹ اور خوشدلی سے کرے۔ ہر قسم کے ہوائی جہاز کی Gailly (باورچی خانہ) سے ہمیں روشناس کرانا، مختلف کھانوں اور مشروبات کو کس طرح مسافروں کو پیش کرنا ہے، پبلک ایڈرس کس طرح کرنا ہے، صفائی کا نہ صرف اپنے آپ خیال رکھنا ہے ،بلکہ مسافروں کو بھی صفائی کی طرف مائل رکھنا، ایمرجنسی میں مسافروں کی امداد ، فرسٹ ایڈ کی تربیت اور یورپی کھانوں اور مشروبات کی پہچان اور اُن کو تیار کرنے کا ڈھنگ ہم لوگوں کو دورانِ تربیت گراؤنڈ پر بھی اور ہوائی جہاز کے مسافروں کے کیبن میں بھی سکھایا جاتا تھا۔

تربیت کے بعد ہم پکّے ہوائی میزبان بن کر مختلف روٹس (Routes) پر ڈیوٹی دینے لگے۔ دوران تربیت ہمیں تاکید کی گئی تھی کہ اگر جہاز میں ایک مکھی بھی نظر آگئی تو ہیڈ پرسر(Senior Steward) پر جرمانہ ہوگا۔ یہ تھا PIA میں صفائی کا معیار اُس وقت۔ تربیت کے بعد، دوسرے ممالک کے Trainees فوراً پنے اپنے ملکوں کو واپس نہیں بھیجے گئے ،بلکہ PIA کے اعلیٰ معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اُن ممالک کی ائیر لائنز نے On Board یعنی ہوائی جہاز میں عملی تربیت کے لئے بھی درخواست کی۔ جیسے کہ مَیں نے عرض کیا کہ PIA کو اپنا بین الا قوامی معیار رکھنا تھا اور بہت سے غیر مسلم ملکوں کی ائیر لائنز کے عملے کو PIA تربیت دے رہی تھی اس لئے ہم فلائٹ سٹورڈز کو ہر قسم کی کاک ٹیل بنانی سکھائی جاتی تھی۔ ہمیں تمام Wines کی خصوصیات بتائی جاتی تھیں۔ کس قسم کی Meals کے ساتھ کون سی وائن مناسب ہو گی، کس قسم کے گلاس میں پیش کی جائے گی۔ ٹھنڈی دی جائے گی یا عام درجہ حرارت کے مطابق پیش کی جائے گی۔ مطلب یہ کہ ہم میں سے ہر ایک بارمین (Barman)کی تربیت حاصل کرتاتھا۔ اُس وقت PIA میں یورپی مسافر بکثرت ہوتے تھے۔ دبئی ایئر پورٹ اُس وقت محض ایک چھوٹا سارن وے تھا۔ کراچی پورے ایشیاء کا Gatewayکہلاتا تھا۔مغرب سے آنے والا ہر جہاز کراچی کو سلام کرتا تھا۔ PIA کی کیٹرنگ سے کھانا خریدتا تھا ، اپنے جہاز کی سروس کرواتا تھا اور بعض مرتبہ جہاز کی Refueling بھی PIA کرتی تھی۔

PIA کا رنگ رُوپ 1970ء تک نکھرتا ہی چلا گیا۔ ہماری قومی ائیر لائن نے 24 سال تک مشرقی پاکستان کی 1200 میل کی دُوری محسوس نہیں ہونے دی۔ گو اندرون ملک PIA کے کرائے رعائتی تھے اس کے باوجود ہماری ائیر لائن دنیا کی چند ائیر لائنوں میں تھی جو مناسب منافع بھی دے رہی تھی۔ 1971ء کے بعد جہاں ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت میں برداشت کیا وہاں ہماری ائیر لائن پر دو نہائت ہی آفت انگیز اثرات مرتب ہوئے۔ بھٹو صاحب کی حکومت کے آنے کے بعد PIA خالصتاً ایک پیشہ ور اِدارہ نہیں رہ سکا۔ سیاسی تقرریاں ہونے لگیں۔ ضرورت سے زیادہ سٹاف بھرتی کر لیا گیا۔ سفارشی ملازمتوں میں پیشہ ورانہ مہارت تو نہیں دیکھی جاتی۔ PIA کی عظمت کو گھُن لگ گیا۔ PIAکا \"باکمال لوگ ۔۔۔لاجواب خدمت\"والا کمرشل نعرہ آہستہ آہستہ ماند پڑنا شروع ہو گیا۔ جن انتظامی سربراہوں نے PIA کو آسمان کی بلندیوں پر صرف 16 سال میں پہنچا دیا تھا وہ اِدارہ Nose Dive میں جانا شروع ہو گیا۔ آفرین ہے کہ PIA وہ ائیر لائن ہے ،جس نے بوئنگ 720 پر 1962ء میں کراچی ۔لندن کا سفر 6 گھنٹے اور 44 منٹ میں طے کر کے دنیا کا ریکارڈ بنایا جو ابھی تک قائم ہے۔ 1964ء میں PIA غیر کمیو نسٹ ممالک کی پہلی ائیر لائن تھی جس نے بیجنگ کا رُوٹ کھولا۔ یہ PIA ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کی ، نیپال کی اور کئی افریقی ملکوں کی ائیر لائنوں کو قائم کیا یا انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔

جہاں سیاست نے PIA کو لامحدود نقصان پہنچایا وہیں دنیا ئے ہوابازی میں زبردست تبدیلیاں بھی آنی شروع ہو گئیں۔ لمبے سفر والے ہوائی جہاز (Long haul) بوئنگ اور لاک ہیڈ کمپنی نے ایجاد کر لئے۔ یہ جہاز 16 گھنٹے کی اُڑان کے لئے ایندھن اپنے میں لے جا سکتے تھے۔ اِدھر ہماری ہی تربیت یافتہ ائیر لائن مثلاً ایمئریٹس (EMIRATES) گلف ائیر لائن اور سعودی ائیر لائن مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگئی تھیں۔ اِن کے ائیر پورٹس جدید جہازوں کو ہر قسم کی سروس مع ایندھن میسر کر سکتے تھے۔Long Haul جہازوں کی وجہ سے کراچی ایشیا کا Gateway نہ رہ سکا۔ جدید جہازوں کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی وجہ سے کراچی جہازوں کی رُوٹین سروس کے لئے بھی اہم نہ رہا۔ مغربی ائیر لائنوں کے جہاز کراچی آتے تھے، مسافر اُتارتے تھے اور نئے مسافر لے کر آگے اُڑ جاتے تھے ۔ اَب کراچی ائیر پورٹ پر جہازوں کی آمد و رفت میں بھی کمی آگئی تھی۔ رونقیں ماند پڑتی جا رہی تھیں۔ سیاسی بھرتیوں نے کا ک پٹ اور کیبن کریو(Crew) کی وہ چٹک مٹک اور خیرہ کُن Get up بھی ختم کر دی تھا۔ جس PIA کے اِبتدائی سربراہ ہر چیز میں حُسن ، سلیقہ اور قرینہ دیکھتے تھے۔ اُس وقت کیبن Crew کا سمارٹ اور قبولِ صورت اور جوان ہونا ضروری ہوتا تھا۔ شادی شدہ ، فربہ اور اُدھیڑ عمر کے کیبن Crew کی جہاز میں گنجائش ہی نہ تھی۔ ایسے کِریو کو فوراً ہی گراؤنڈ ڈیوٹی دے دی جاتی تھی۔ اُن دِنوں PIA کا پابندیِ وقت کا بہترین ریکارڈ بھی تھا۔ لوگ PIA کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ جب میں پہلی مرتبہ PIA کی ریجنل فلائٹ ۔کراچی۔ دہلی۔ بمبئی۔ کراچی پر گیااور PIA کی یونیفارم میں اپنے ہوٹل میں اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت داخل ہوا تو تمام ہوٹل سٹاف اور وہاں ٹہرے ہوئے مہمان جو لابی یا ہوٹل کاؤنٹر پر موجود تھے، ہمیں تحسین کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ہماری چال میں فوجی قسم کی پھر تی اور وقار تھا۔ ہم اس کیفیت پر نازاں تھے کہ ہم PIA کا سٹاف ہیں۔آج کی طرح ڈھیلی ڈھالی چال والے، موٹے اور بھدّے کیبن کریو کو دیکھ کر ، جہازوں میں مکھیوں اور کبھی کبھی چوھوں کو دیکھ کر ، فلائٹوں میں پابندی وقت کی دُرگت بنتے دیکھ کر اور گراؤنڈ کے عملے کا مسافروں سے کرخت روّیہ دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے میری اپنی متاع لُٹ پُٹ گئی ہو۔

مزید : کالم