امید اور حوصلے کے چراغ اب بجھنے نہ پائیں

امید اور حوصلے کے چراغ اب بجھنے نہ پائیں
امید اور حوصلے کے چراغ اب بجھنے نہ پائیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کینیڈا کے شہر وینکوور سے برادر بزرگ رائے محمد فاروق نے فون کیا اور کہا اب پاکستان یقیناًبدل جائے گا۔ مَیں سمجھا وہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے اتفاق رائے کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں، لیکن وہ پاکستان کی عمومی طور پر بدلی ہوئی فضا کے تناظر میں یہ کہہ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کینیڈا میں پاکستانیوں کا تاثر یہ ہے کہ اب ہر قسم کا نظریہ ضرورت اور نظریہء مصلحت ختم ہو گیا ہے۔ اب ہر ایک نے ٹھان لی ہے کہ پاکستان کو ٹھیک کرنا ہے، جس قسم کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور جس انداز سے اور رعایت کے بغیر فیصلے ہو رہے ہیں، ان کی وجہ سے پاکستان میں برسوں سے موجود مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔ مَیں نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایک تو میرے پاس ان کی باتوں کو جھٹلانے کے لئے کوئی مضبوط دلیل نہیں تھی اور دوسرا مَیں ان کا دل بھی نہیں دکھانا چاہتا تھا۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی عموماً اپنے وطن کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں۔ ان کے اندر پائی جانے والی مایوسی بھی فوراً آشکار ہو جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ جس ماحول میں زندگی گزار رہے ہین، پاکستان کے حالات دیکھ کر انہیں تعجب ہوتا ہے۔ مَیں سوچنے لگا اگر بیرون ملک رہنے والے سارے پاکستانی رائے محمد فاروق کی طرح سوچ رہے ہیں تو یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے۔ اس سے ملک کو ایک خاص قسم کی تقویت ملے گی، کیونکہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی جب ملکی حالات سے مایوس ہوتے ہیں تو اپنا سرمایہ بھی روک لیتے ہیں کہ نجانے ملک کا کیا بنے۔

مَیں دیکھ رہا ہوں کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی ہی نہیں، بلکہ پاکستان میں بسنے والے کروڑوں عوام کے دلوں میں بھی پچھلے کچھ عرصہ کے دوران رونما ہونے والے واقعات سے ایک امید پیدا ہو چلی ہے ، اب لوگ سوچنے لگے ہیں کہ حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔ ایک دور تھا کہ ہرشخص مایوس اور ناامید ہو کر حالات سے کنارہ کش ہو کر بیٹھ گیا تھا۔قانون کی عملداری اور ریاست کی رٹ سے یقین اٹھ گیا تھا۔ پچھلے دور حکومت میں قانون کا ڈھنڈوڑا تو بہت پیٹا گیا۔ ایک وزیراعظم کو بھی قانون کے نام پر رخصت کیا گیا، لیکن درحقیقت قانون کی بے توقیری جتنی اس دور میں ہوئی، اس کی مثال نہیں ملتی۔ قدم قدم پر مصلحتیں اور قدم قدم پر قانون شکنوں کے سامنے سرنڈر کرنے کی شرمناک روایات قائم کی گئیں۔ سپریم کورٹ یہ تو کہتی رہی کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے، مگر عملاً اس نے کسی کو بھی کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا۔ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ایک مصلحت پسند آدمی تھے، انہوں نے باوجود تمام تر شواہد سامنے آنے کے طالبان کے خلاف کوئی جرات مندانہ قدم اٹھایا اور نہ ہی کراچی کے حالات کو درست کرنے کے لئے فوج کے کردار کا تعین کیا۔ بڑے سے بڑے واقعہ پر بھی وقت کی گرد جمتی رہی اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ وہ ایک سرزمین بے اماں میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں۔ ریاست اپنے افراد کو تحفظ کا احساس دیتی ہے، لیکن ہمارے ہاں تمام ریاستی ادارے عملاً عضو معطل کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ کراچی میں روزانہ بیسیوں لوگ ٹارگٹ کلنگ میں مرتے، مگر سوائے مذمتی بیانات کے اور کچھ بھی نہ سامنے آتا، دوسری طرف پورے ملک میں طالبان نے دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں افراد کو نشانہ بنایا، مگر یہی طے نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ نمٹنا کیسے ہے۔ مذاکرات یا آپریشن کا ایک ایسا لایعنی کھیل کھیلا گیا جو ہماری سلامتی کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن گیا۔

کوئی چار ماہ پہلے کی صورت حال کو دیکھئے تو ایسے لگے گا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ اس کی اپنی ایک منظم فوج تو ہے، مگر عملاً اسے مفلوج رکھا گیا، اسے صرف اس وقت طلب کیا جاتا، جب کسی علاقے کے حالات سول انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو جاتے۔ فوج کو باقاعدہ ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔ سیاسی دباؤ ڈال کر اسے آپریشن سے بھی روکا جاتا رہا اور یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی جاتی رہی کہ فوج کو اگر کوئی کردار دیا گیا تو جمہوریت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔پاکستان میں حکومت بدلی، چیف جسٹس تبدیل ہوئے، چیف آف آرمی سٹاف کی تبدیلی عمل میں آئی، منطقی طور پر پہلے سے جاری صورت حال کو بھی بدلنا چاہیے تھا، اگر وہ نہ بدلتی تو عوام کے ذہنوں پر مایوسی کے جو بادل چھائے ہوئے تھے وہ مزید گہرے ہو جاتے۔ مَیں پھر یہی کہوں گا کہ اس میں کلیدی کردار آرمی چیف کی تبدیلی نے ادا کیا، کیونکہ نئی حکومت آنے کے باوجود حالات میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، جب تک اشفاق پرویز کیانی رخصت نہیں ہو گئے اور ان کی جگہ جنرل راحیل شریف نے کمان نہیں سنبھال لی۔امن و امان کے لئے فوج کے کردار سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا، جبکہ ملک میں دہشت گردوں کے منظم گروہ کام کررہے ہوں اور عسکریت پسندوں نے مختلف علاقوں کو اپنی آماجگاہ بنا رکھا ہو۔ ایسے میں کوئی عام فورس حالات کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی، اس کے لئے فوج کو آگے آنا ہی پڑتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کے کردار کو موثر بنا کر اور سیاسی قیادت کو اس کے لئے آمادہ کرکے جس عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا، اس کے نتائج اب آنا شروع ہو گئے ہیں۔سب سے بڑا نتیجہ یہ ہے کہ مایوس عوام اب بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں، انہیں یقین ہے کہ ریاست اپنا وجود منوالے گی اور ان تمام قوتوں کو شکست ہوگی، جو ملک کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلنے کی ذمہ دار ہیں۔

اب یہ آوازیں بھی اُٹھنے لگی ہیں کہ صرف دہشت گردوں کو ختم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، جب تک ملک سے کرپشن ختم نہیں کی جاتی۔ یہ آوازیں بذاتِ خود اس امر کا ثبوت ہیں کہ لوگوں کو اب یقین ہو گیا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔ ملک میں ہونے والے واقعات پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ عقدہ حل ہو جائے گا کہ ملک میں صرف امن و امان کے لئے آپریشن ہوگا یا کرپشن کے خلاف بھی گرینڈ آپریشن کیا جائے گا؟مَیں سمجھتا ہوں اب سیاست کو عسکریت سے پاک کرنے کے علاوہ اسے کرپشن سے پاک کرنے کی حکمت عملی بھی اختیار کی جائے گی۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پاکستان سے کرپشن تو ختم ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ اس کے سارے کردار ایوانوں میں بیٹھے ہیں تو یہ بات بھی جلد ہی قصہ ء ماضی بن جائے گی۔یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دہشت گردی اور بدامنی کے ڈانڈے بھی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے ملتے رہے ہیں، مگر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جا رہی۔ فوج براہ راست اس کام میں خود کو ملوث نہیں کرے گی، لیکن جو عمومی فضا بن رہی ہے، اس میں تمام اداروں کو اپنا کردارادا کرنا پڑے گا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی کرپٹ افراد سے جان چھڑانا ہوگی، کیونکہ اب سب کو بے نقاب بھی کیا جائے گا اور وہ قانون کے کٹہرے میں بھی لائے جائیں گے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جوڈیشل کمیشن پر جو معاہدہ ہوا ہے۔ وہ اس قسم کا معاہدہ نہیں جو پہلے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو تحفظ دینے کے لئے کرتی رہی ہیں۔ یہ معاہدہ دھاندلی ختم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ جلد ہی تمام سیاسی قوتوں کو اکٹھے ہو کر یہ بل بھی منظور کرنا ہوگا کہ کرپشن کی ان کے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

بادی النظرمیں یہ ایک انہونی اور حیران کن بات نظر آتی ہے، کیونکہ ہمارا سیاسی سیٹ اپ گھٹنوں تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے، لیکن اس کا وقوع پذیر ہونا نوشتہء دیوار بن چکا ہے، جنہیں یقین نہیں آرہا، وہ اس نکتے پر سوچیں کہ کیا نائن زیرو پر چھاپے سے پہلے کوئی سوچ سکتا تھا کہ وہاں کبھی چھاپہ بھی پڑے گا، لیکن نہ صرف چھاپہ مارا گیا، بلکہ اس چھاپے پر حکومت اور عسکری قیادت کی طرف سے فل اسٹینڈ بھی لیا گیا۔ یہی وہ حقیقتیں ہیں، جن سے عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو رہا ہے، جس انداز سے یہ سب کچھ آگے بڑھ رہا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اب یوٹرن لینے کی کوئی امید نہ رکھی جائے۔

ویسے تو مَیں ہمیشہ ہی رجائیت کا شکار رہا ہوں، مگر آج کل دیگر پاکستانیوں کی طرح کچھ زیادہ ہی رجائی بن چکا ہوں، جس طرح سورج نکلنے سے پہلے پو پھٹتی ہے اور سورج کی لالی نمودار ہوتی ہے، اسی طرح اس وقت قومی افق پر امید کی کرنیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں، ایک روشنی ہے جو اندھیروں کا دامن چاک کررہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری سیاسی قیادت، فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو توفیق دے کہ وہ اس بار قوم کو مایوس نہ کریں۔ اس کے اندر امیداور حوصلے کے جو چراغ جلے ہیں، انہیں بجھنے نہ دیں، پاکستان کو امن و سلامتی اور شفاف نظام کا گہوارہ بنا کر اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کریں، جو قائداعظمؒ کی بے وقت وفات کے بعد بکھر کر رہ گیا تھا۔

مزید : کالم