ون ویلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن

ون ویلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن

پولیس کے پاس پہلے ہی بہت کام ہیں جو ان کے کرنے کے ہیں اور نہیں کئے جا رہے، جرائم کا قلع قمع اس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے، جو کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں پولیس حکام کی طرف سے کم نفری اور غیر معیاری تربیت کے عذر بھی پیش کئے جاتے ہیں، جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وی آئی پی اور سیکیورٹی ڈیوٹیوں کی وجہ سے بھی مشکل پیش آتی ہے اور تھانے کے ملازمین کو24گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔دوسرے معنوں میں ان کے لئے اوقات کار متعین نہیں ہو سکتے، حالانکہ کئی بار اعلان بھی کیا گیا اور اب تو دہشت گردی کی وجہ سے ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ان مشکلات کے باوجود انسپکٹر جنرل پولیس نے ایک انتہائی اہم مسئلہ کی طرف توجہ دی ہے۔ یہ ون ویلنگ کا شوق ہے ہمارے نوجوان مغرب سے متاثر ہو کر ایڈونچر ازم کا شکار ہوتے اور شہر کی سڑکوں پر موٹر سائیکلوں پر کرتب دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور گروپوں کی شکل میں ون ویلنگ کا مظاہرہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ نوجوان ممانعت اور حادثات کے باوجود اس حرکت سے باز نہیںآتے،حالانکہ آئے روز یہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ ون ویلنگ کرنے والے نوجوان حادثے میں جاں بحق ہو گئے یہ نوجوان خود اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں تو ٹریفک میں خلل اور دوسرے حادثات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔

ایک معاصر کی خبر کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس نے سخت نوٹس لیا اور ایڈیشنل آئی جی (آپریشن) کو ہدایت کی کہ ویلنگ والوں کے خلاف خصوصی آپریشن کیا جائے اور ان کو گرفتار کر کے مقدمات بنائے جائیں اور عدالتوں سے سزائیں دلائی جائیں۔ آئی جی نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے نوجوانوں کی موبائل ویڈیو بنا کر پولیس ایمرجنسی کو فارورڈ کریں تاکہ ان کو شناخت کر کے پکڑا جا سکے۔اس نوٹس کے بعد نہ صرف تھانوں کو ہدایت کی گئی، بلکہ ٹریفک وارڈنز کو بھی جن کے پاس ہیوی ڈیوٹی موٹر سائیکلیں ہیں یہ فرض سونپا گیا ہے کہ ون ویلنگ والوں کو پکڑا جائے۔یہ نوجوان ایڈونچر کے شوق میں اپنی جان گنواتے اور گھر والوں کو درد میں چھوڑ جاتے ہیں یہ والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ بچوں کو موٹر سائیکل دیتے ہیں تو ان کی نگرانی بھی کریں تاکہ خود بھی دُکھ سے بچ سکیں۔

مزید : اداریہ