بجلی کی قیمتوں میں کمی اور لوڈشیڈنگ

بجلی کی قیمتوں میں کمی اور لوڈشیڈنگ

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خوشخبری سنائی ہے کہ حکومت نہ صرف لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے گی، بلکہ بجلی کے نرخوں میں بھی کمی کی جائے گی۔وزیراعظم کا یہ بیان خوش آئند ہے، کیونکہ بجلی کے نرخ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں اور شعبہ برقیات کی طرف سے نرخوں کے تین مراحل ختم کر کے دو کر دیئے گئے اور نرخ بھی بڑھائے گئے ہیں ایسے میں اگر کمی کی بات کی جائے تو دل کو اطمینان سا ہوتا ہے، دیکھیں یہ خوشی کب ملتی ہے۔وزیراعظم بار بار لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، بجلی اور پانی کے وزرا بھی پیداوار میں اضافے کی نوید سناتے رہتے ہیں، لیکن عملی حالت یہ ہے کہ موسم میں تھوڑی سی تبدیلی نے شارٹ فال میں اضافہ کر دیا اور اب کھپت اور پیداوار میں پانچ ہزار میگاواٹ کا فرق آ گیا،جس کے بعد لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا، جبکہ غیر اعلانیہ بجلی بند کرنے اور مرمت کے نام پر کئی کئی فیڈر آٹھ آٹھ گھنٹے تک بند رہتے ہیں اور عام لوگ پریشان ہوتے ہیں۔اب تک وزرا کی طرف سے سارے اعلانات صدا بصحرا ثابت ہوئے کہ لوڈشیڈنگ بڑھی ہے۔ وزیر مملکت تو ہر ماہ نیشنل گرڈ میں بجلی شامل ہو کر پیداوار میں اضافے کی بات کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔اس صورت حال میں وزیراعظم پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے، بہتر ہوتا کہ وہ خود ہی لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور قیمتوں میں کمی کا ایک شیڈول بتا دیتے کہ عوام کو تسلی ہوتی۔

مزید : اداریہ