دھرنوں پر مکالمے کی فتح

دھرنوں پر مکالمے کی فتح

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے چار نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جوڈیشل کمیشن آئندہ ہفتے قائم ہو گا، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کے مابین جوڈیشل کمیشن پر اتفاق رائے ہونے کی اطلاع دی اور کہا اس معاملے میں تحریک انصاف نے بہت لچک دکھائی، سیاسی جرگے نے بھی کمیشن کے قیام کے لئے بہت کوششیں کیں، سیاسی جماعتوں سے بھی اس میں مشاورت کی گئی،دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدے کی کاپی سیاسی جماعتوں کو دی جائے گی، اگلے ہفتے میں جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق آرڈیننس جاری کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن جو بھی نتیجہ دے گا ہم اس کے پابند ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے جج شامل ہوں گے، جو فریقین کا نقط�ۂ نظر سُن کر فیصلہ دیں گے، جوڈیشل کمیشن کے لئے بات چیت کا مقصد مستقبل کے انتخابات کو شفاف بنانا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کو جمہوریت اور عوام کی فتح قرار دیا ہے۔

تحریک انصاف نے2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے تھے اور 14 اگست کو اسلام آباد میں دھرنے کا آغاز کیا تھا، اِسی روز پاکستان عوامی تحریک نے بھی اسلام آباد میں اپنے الگ دھرنے کا آغاز کیا، دونوں کے مطالبات الگ الگ تھے، تحریک انصاف وزیراعظم کے استعفے کے لئے نکلی تھی تو عوامی تحریک انقلاب لانے کے لئے۔ شروع شروع میں دونوں جماعتوں کے رہنما عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اپنے اپنے دھرنوں کے شرکا سے خطاب کرتے رہے اور اُنہیں خوشخبریاں سناتے رہے کہ یہ حکومت بہت جلد ختم ہونے والی ہے، پھر دونوں دھرنے آگے بڑھ گئے اور ڈی چوک میں ڈیرے ڈال لئے،31اگست کی شب دونوں دھرنے اکٹھے ایوانِ وزیراعظم کی طرف بڑھ گئے، بعض شرکا نے ایوان وزیراعظم جانے والے راستے پر دھرنا دے دیا اور صبح کے وقت دھرنے والوں کی ایک ٹولی نے اسلام آباد ٹی وی کی عمارت پر ہلہ بول دیا، جس کی وجہ سے ٹی وی نشریات تھوڑے عرصے کے لئے بند بھی ہو گئیں۔ عوامی تحریک کے کارکن پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور شاہراہ دستور پر بھی قابض ہو گئے۔ اس موقع پر دونوں رہنما اپنے شعلہ بار خطابات میں حکومت ختم ہونے کے اعلانات بار بار کرتے رہتے، لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کے72دن اور عمران خان کے126 دن کے دھرنوں کے باوجود حکومت اپنی جگہ قائم ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری تو دھرنے کے بعد بیرون ملک چلے گئے اور اب تک وہیں ہیں، البتہ عمران خان کی جماعت نے حکومت کے ساتھ سیاسی مذاکرات شروع کر دیئے، جو کبھی شروع ہو جاتے اور کبھی ختم ہو جاتے، کبھی کامیابی کی امید پیدا ہو جاتی اور کبھی ٹوٹ جاتی، مذاکرات کے کئی دور ہوئے، درمیان میں یوں لگا کہ مذاکرات کامیاب ہونے والے ہیں، لیکن پھر اچانک ختم ہو گئے۔ اس دوران سینیٹ کے انتخابات کا مرحلہ آ گیا اور ہر جانب سے ہارس ٹریڈنگ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ تحریک انصاف نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے خیبرپختونخوا سے اپنی جماعت کے چھ سینیٹر منتخب کرا لئے ہیں۔ اس جماعت نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی لڑا اور اس کے امیدوار شبلی فراز کو16ووٹ مل گئے۔ سیاسی حلقے اسے سیاسی تضادات کا شاخسانہ قرار دیتے رہے کہ ایک طرف تو تحریک انصاف ایک صوبے میں حکمران ہے۔ دوسری طرف اُس نے قومیِ اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی سے اپنے ارکان سے استعفے دلوا رکھے ہیں اور اب سینیٹ کا انتخاب بھی لڑ لیا ہے۔ بہرحال اب اس نے اپنا وہ مطالبہ مذاکرات کے ذریعے تسلیم کرا لیا جو126روزہ دھرنے کے باوجود نہ منوایا جا سکا تھا، حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے پر تیار ہو گئی ہے اس طرح تحریک انصاف کو مذاکرات کے ذریعے ایک بڑی سیاسی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جو بڑے بڑے جلسوں، دھرنوں اور شاہراہیں بند کرنے سے بھی حاصل نہ ہو سکی تھی، اچھا ہوا کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ ہو گیا اس سے پتہ چل جائے گا کہ کیا2013ء کے عام انتخابات میں واقعی کوئی منظم دھاندلی ہوئی تھی اور کیا کسی نے کسی فریق کے حق میں اپنی قوت اور اثرو رسوخ استعمال کیا۔ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اگر دھاندلی ہوئی تھی تو اس کا کیف و کم کیا تھا، وہ منظم انداز میں کسی فریق کے حق میں استعمال ہوئی یا کہیں کہیں کسی کسی حلقے میں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے اپنے زورِ بازو پر دھاندلی کرائی اور جیت گئے۔ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ عمران خان دھاندلی کا جو شور مچا رہے تھے اس کی اصلیت کیا تھی۔ وہ محض الزام تراشی کی سیاست تھی یا واقعتا اس کا کوئی وجود بھی تھا۔ انہوں نے خود جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کو عوام اور جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اس معاملے میں بہت لچک دکھائی ہے۔ ہمارے خیال میں پی ٹی آئی نے سیاسی سوجھ بوجھ اور سمجھ داری کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ سیاست میں لچک دکھا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے، ہم نے ان کالموں میں بار بار عرض کیا تھا کہ سیاست میں100فیصد کامیابی کبھی حاصل نہیں ہوتی، اس میں قدم بقدم آگے بڑھا جا سکتا ہے،50فیصد یا کم و بیش کامیابی حاصل کر کے باقی کے لئے جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے۔ دھرنوں کے وقت عمران خان اگر بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ وہ وزیراعظم کے استعفے سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اگر وزیراعظم نے استعفا نہ دیا تو انہیں وزیراعظم ہاؤس سے گھسیٹ کر باہر نکالا جائے گا تو ڈاکٹر طاہر القادری بھی شعلے اُگل رہے تھے اور وزیراعظم کے جانے کی گھڑیاں گن رہے تھے، لیکن بالآخر یہ بات ثابت ہو گئی کہ سیاست میں محض جوشِ خطابت اور حسابی کُلئے نہیں چلتے، نہ کامیابی دو اور دو چار کی طرح ہوتی ہے، اب عمران خان بھی مان رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل بڑی کامیابی ہے اس کا جو بھی فیصلہ آئے فریقین کو اسے کھلے دل سے تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ساتھ اگر موجودہ قومی اسمبلی اور سینیٹ آنے والے انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے تو یہ بڑی کامیابی ہو گی۔جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے استدلال اور مکالمے کی قوت مان لی گئی ہے اور دھرنوں کی سیاست شکست کھا گئی ہے۔

مزید : اداریہ