صولت مرزا کی پھانسی رکوانے میں حکومت کا ہاتھ نہیں، فوجی قیادت نے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا: نجم سیٹھی

صولت مرزا کی پھانسی رکوانے میں حکومت کا ہاتھ نہیں، فوجی قیادت نے سختی سے ...
صولت مرزا کی پھانسی رکوانے میں حکومت کا ہاتھ نہیں، فوجی قیادت نے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا: نجم سیٹھی

  

کراچی(ویب ڈیسک) تجزیہ نگاراور پی سی بی کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے کہاہے کہ متحدہ پہلے صولت مرزاکا دفاع کرتی رہی اور اب اسے جھوٹا اورمکار کہہ رہی ہے جس سے وہ خود بڑی مشکل میں گرفتارہوگئی ،صولت مرزا کی پھانسی رکوانے میں حکومت کا ہاتھ نہیں، راولپنڈی میں دوافراد نے فیصلہ کیا ، مرزا ملٹری کی حراست میں تھا اورفوجی قیادت نے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا، چڑیا کی خبر کے مطابق ابھی تک کسی بھی متحدہ رہنما کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا۔

جیونیوز کے پروگرام ’آپس کی بات ‘میں گفتگوکرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہاکہ کاوشوں سے ظاہر ہوتاہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کراچی کو جرائم سے پاک کرنے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے کس حد تک سنجیدہ ہیں،یہ صرف متحدہ تک نہیں رکے گا بلکہ دوسری سیاسی جماعتیں بھی اس کی زد میں آئیںگی۔نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ صولت مرزا نے اپنی ویڈیو میں جو الزامات لگائے ہیں وہ نئے نہیں اورایک پرانی ویڈیو بھی دیکھی جو 80 منٹ کی ہے مگر اس میں دو باتیں بڑی اہم ہیں، اس میں سوال پوچھے جارہے ہیں اور باتوں کا تسلسل نہیں ٹوٹا جس سے لگ رہا ہے کہ سوال کرنے والا انٹیلی جنس ایجنسی کا بندہ ہے،اس ویڈیو میں یہ بھی واضح ہے کہ صولت کچھ سوچ سمجھ کر یا رٹا رٹایا نہیں بول رہا کیونکہ جب انسان سچ بول رہا ہو تو سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

 نجم سیٹھی نے کہا کہ پہلے ویڈیو بیان میں ایسا لگ رہا ہے کہ صولت مرزا سے کوئی وعدہ لیا گیا ہے کہ تم ہمارے ساتھ تعاون کرو تمہیں پھانسی نہیں دی جائے گی اور کوئی راستہ تمہارے لئے ڈھونڈا جائے گا۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ اس ویڈیو کے بعد سے صولت مرزا کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی کیونکہ کافی عرصہ گزر گیا تھا اب ایک دم فوراً اس کو سوتے سے جگا یاگیا اور کہا کہ جو کچھ تم نے پہلے بیان دیا تھا اس کو دہرا دو اور اس ویڈیو میں وہ اپنے ساتھیوں سے التجا کر رہا ہے کہ آپ سب کچھ چھوڑ دیں اور الطاف حسین کا ساتھ مت دیں اور یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اگر آپ کو موقع ملتا ہے تو آپ وعدہ معاف گواہ بنیں کیونکہ ہماری لیڈر شپ نے ہمیں گمراہ کیا ہے اور استعمال کر کے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا گیا ہے۔

نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ حالیہ ویڈیو سے دو تین چیزیں واضح ہوتی ہیں کہ اتنے سال تک اس کو سزائے موت کیوں نہیں دی گئی مگر اب یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ اس کو سزا نہیں دینی جب تک یہ آپریشن چل رہا ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آجاتے اس کو بچا کر رکھنا ہے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ صولت مرزاکی پھانسی رکوانے کے لئے حکومت کا ہاتھ نہیں ہے، یہ سوفیصد ملٹری کسٹڈی میں تھا، بلوچستان کی مچھ جیل میں تھا جہاں بلوچستان حکومت کی رٹ نہیں اور فرنٹیئر کور چلارہی ہے جبکہ صولت مرزا کی سزا رکوانے کا فیصلہ راولپنڈی میں ہوا ہے اوردو لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر ہم نے پروپیگنڈا مہم چلانی ہے کیونکہ الطاف حسین نے ہم پر ڈائریکٹ الزام لگادیا ہے۔

نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ ویڈیو پیغام کی حیثیت صرف متحدہ کو دفاعی پوزیشن میں لانا ہے مگر اس کی لیگل حیثیت کوئی نہیں ، متحدہ کا ایک وفد وزیراعظم نواز شریف سے ملنے گیا تھا اور اس دوران خصوصی طور پر صولت مرزا کا معاملہ زیربحث آیاتھا اورمطالبہ کیاگیاتھاکہ اس کی سزا کو ختم کردیا جائے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب سزائے موت سے پابندی اٹھائی گئی تھی۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ایک طرف تو متحدہ صولت مرزا کا دفاع کرتی رہی اور بچانے کی کوششیں کرتی رہی اور آج یہ اسی کو کہہ رہے ہیں کہ یہ جھوٹا ، مکار ہے اور اس سے متحدہ بڑی مشکل میں گرفتار ہوگئی ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اس وقت وفاق اور ملٹری کی پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ پوزیشن یہ ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے جو بیچ میں آئے گا کلین اپ ہوجائے گا ،آپ اگر رکاوٹ بنیں گے تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور زیادہ رکاوٹیں کھڑی کیں تو گورنر راج لگادیا جائے گا ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا کہنا ہے کہ ہم آپ کو ٹارگٹ نہیں کررہے، ہم صرف جرائم پیشہ اور دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو صاف کررہے ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ صولت مرزا کے ویڈیو بیان میں گورنر سندھ کا بھی نام آیا ہے اگر وہ چاہتے ہیں تو اس کو حذف کردیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا جس سے گورنر صاحب کو بھی واضح پیغام دیا گیا، اب مستعفی ہونے کا فیصلہ تو گورنر سندھ کے ہاتھ میں ہی ہے ۔ نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ اگر زرداری صاحب نے یا گورنر سندھ نے ایم کیو ایم کے جرائم پیشہ افراد کا دفاع کرنے کی کوشش کی تو سختی سے نمٹنا جائے گا۔

مزید : کراچی /اہم خبریں