امریکہ میں معصوم شخص کو 39 برس قید کی سزا بھگتنے پر 2 ارب ہرجانہ مل گیا

امریکہ میں معصوم شخص کو 39 برس قید کی سزا بھگتنے پر 2 ارب ہرجانہ مل گیا
امریکہ میں معصوم شخص کو 39 برس قید کی سزا بھگتنے پر 2 ارب ہرجانہ مل گیا

  

واشنگٹن (ویب ڈےسک) امریکی ریاست اوہائیو میں ایک معصوم شخص رکی جیکسن کو ایک ایسے قتل کے بدلے 39 برس جیل میں گزارنے کے بعد رہا کیا گیا تھا جو دراصل اس نے کیا ہی نہیں تھا۔ ایک عدالتی فیصلے کے مطابق اب اس شخص کو ریاست 2 ارب روپے سے زائد بطور ہرجانہ ادا کرے گی۔ جیکسن کو دو دیگر افراد کے ساتھ 1975ءمیں کلیو لینڈ کے علاقے میں منی آرڈر فروخت کرنے والے ایک سیلز مین کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی جس کا نام ہیرالڈ فرانکس تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ان تین افراد کو یہ سزا ایک 12 سالہ لڑکے کی گواہی پردی گئی جس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ تاہم ایڈی ویرنن نے کئی برس بعد اپنا بیان بدل لیا اور حکام کے بتایا کہ اس نے یہ جرم ہوتے ہوئے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور ثبوت موجود ہی نہیں تھا جو جیکسن کا تعلق اس قتل سے ثابت کرتا۔

مزید : بین الاقوامی