"جے سارے بندے دے پتر بن کے کھیڈدے تے ضرور جت جاندے"

"جے سارے بندے دے پتر بن کے کھیڈدے تے ضرور جت جاندے"

  

انگریز   آج   سے  67سال  پہلے  پاکستان  اور  بھارت  کے  نام  سے  دو بظاہر آزاد ریاستوں کو جنم دے کر جب جنوبی ایشیاء سے رخصت ہوئے تو اپنی کئی دیگر" سوغاتیں "یہاں چھوڑ گئے مگر انگریزی زبان اور کرکٹ دو ایسی سوغاتیں یہاں کے باشندوں کے نام کیں کہ آج تک یہاں حکمرانی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ گو کہ انگریز (جو کہ آزادی سے پہلے بہرحال ہمارے آقا تھے)سے نفرت کے اظہار کے طور پر انہیں قومی کھیل یا زبان کا درجہ نہیں دیا گیا مگر بلا شرکت غیرے ان کی اجارہ داری قائم و دائم ہےاور انگریزوں  سے نفرت کرنے والے اور ان کے مظالم  کے خلاف آواز بلند کرنے والے پاکستانیوں اور بھارتیوں نے انہی انگریزوں کے چھوڑے ہوئے کھیل "کرکٹ" کو ایسا دلوں  سے لگا یا کہ اب آپس میں نفرت کا اظہار بھی کرکٹ کے میدان میں ہی نظرآتا ہے۔ اس حوالے سے شاید بھارت ایک بار پھر پاکستان پر بازی لے گیا ہے کیونکہ وہاں تو کسی کھیل کو قومی کھیل کا درجہ ہی نہیں دیا گیا لیکن پاکستان نے ضرور اپنی درسی کتابوں میں ہاکی کو اپنا قومی کھیل تحریر کیا ہے۔اسی طرح جن لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ دو قومی نظریے کی تشکیل کی وجہ اردو زبان کیخلاف 1867میں کی جانے والی سازش تھی ، وہ شاید اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہوں کہ اردو کو باقاعدہ قومی زبان کا درجہ کیونکر حاصل نہیں ہو سکا۔ خیر وہ وقت اب دور نہیں جب دو قومی نظریے کا عملی مظاہرہ صرف اور صرف پاک بھارت کرکٹ میچ کے دوران ہی دیکھنے کو ملے گا۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2015 کا آغاز ہونے جا رہا تھا تو ہم بھی ہر سچے پاکستانی کی طرح ایسی وجوہات کی تلاش میں نکل پڑے جو یہ ثابت کرنے میں مددگار ہوں کہ یہ ورلڈ کپ تو پاکستان ہی جیتے گا۔ دیگر کئی لکھاریوں کی طرح ہم نے بھی 15 ایسے چیدہ تاریخی نکات ڈھونڈ نکالے  جو پاکستان کی فتح کی نوید دیتے تھے (درحقیقت ان نکات کی تعداد 13 تھی مگر ہم نے اس کو منحوس نمبر سمجھتے ہوئے ان نکات کو ایسے تحریر کیا کہ ان کی تعداد 15 ہو گئی)۔ مگر جیسے ہی پاکستان بھارت کیخلاف میدان میں اترا تو ہمیں اپنی پیش گوئی غلط ہوتی معلوم ہوئی مگر "پھر بھی دل تو ہے پاکستانی"کے مصداق ہم نے کہا کوئی بات نہیں ورلڈ کپ تو اپنا ہی ہے۔ پھر الجزائر غرب الہند (جسے عرف عام میں ویسٹ انڈیز کے نام سے جانا جاتا ہے) کے ہاتھوں دھلائی کے بعد ہم ہوش و حواس میں واپس آنے ہی والے تھے کہ بھلا ہو" سمندر پار پاکستانیوں "کی ٹیم کا(آپ شاید اس ٹیم کا نام متحدہ عرب امارات یا دبئی جانتے ہوں) جو پاکستانی ٹیم سے ہار گئے۔ اس کے بعد پاکستانی ٹیم نے زمبابوے اور آئرلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کوبھی دھول چٹا ہی دی (یہ الگ بات ہے کہ دونوں ٹیمیں ہی ٹیسٹ فارمیٹ کی کرکٹ کھیلنے کی اہل نہیں)۔ ہاں پاکستان نے جنوبی افریقہ کیخلاف میدان ضرور مارا جس کا سہرہ وکٹ کیپر سرفراز احمد اور فاسٹ بائولرمحمد عرفان اور وہاب ریاض کے سر جاتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہوا اور لوٹ کے "شاہین" گھر کو آئے ۔(درست محاورے کو مصلحتاً استعمال نہیں کیا جا رہا) ۔ اس ساری صورتحال پر ایک نظر دوڑائی جائے تو پاکستانی ٹیم نے درحقیقت ایک ہی میچ جیتا ہے باقی میچ تو شاید قومی ٹیم اس وجہ سے جیت گئی کہ اس روز مقابل ٹیم نے کوشش ہی نہ کی۔

اس کے مقابلے بھارتی ٹیم(جس کو عام طور پر پاکستانی اپنا روائیتی حریف سمجھتے ہیں) کی کاکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو یہ ٹیم ابھی تک ناقابل شکست رہی ہے اور اب تو  یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ 2015کا ورلڈ کپ بھی 2011کے کپ کی طرح پاکستان کا ہمسایہ ملک ہی لے لڑے گا۔ (ہو سکتا ہے آپ سچے پاکستانی ہونے کی وجہ سے فی الحال اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں مگر یہ عقدہ بھی کھلنے ہی والا ہے کہ تاج کس کے سر پر سجے گا) ۔ بھارت نے اس میگا ایونٹ میں نہ صرف ان کمزورٹیموں کو زیر کیا جن سے جیتنے کے بل بوتے پر پاکستانی ٹیم کوارٹر فائنل تک جا پہنچی تھی بلکہ کسی مضبوط ٹیم (خواہ آپ کی نظر میں پاکستان ہی دنیا کی مضبوط ترین ٹیم کیوں کہ ہو) کو بھی جیتنے کا موقع نہیں دیا۔ ویسے پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں کوارٹر فائنل میں شکست کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ انہیں ایک بار پھر بھارت سے ہارنا نہیں پڑا ( آسٹریلیا سے جیتنے کی صورت میں پاکستان کو سیمی فائنل میں بھارت سے کھیلنا تھا) ۔

ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہونے کی دیر تھی کہ تمام پاکستانی (تعداد لکھنے سے دانستا اجتناب کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے 15 سال سےحکومت پاکستان بھی اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ اس ملک کی اصل آبادی کتنے نفوس پر مشتمل ہے) شکست کی وجوہات جاننے نکل پڑے۔ کسی کا کہنا ہے کہ بھارت کیخلاف میچ عمر اکمل نے جو کیچ گرایا تھا  اس نے تب ورلڈ کپ ہی گرا دیا ، اسی طرح کچھ دیگر افراد ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں شاہد آفریدی کی "شاندار" کاکردگی کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ،تو کسی کا یہ ماننا ہے کہ ساری ذمہ داری "راحت علی" کے سر ہے جنہوں نے آسٹریلوی کھلاڑی واٹسن کا آسان کیچ گرا کر پوری قوم کو "بے راحت" کر دیا۔ میرے ایک دوست کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ "یار سرفراز سمیت سب نے ہی دھوکہ دیا ہے"۔بعض ٹی وی چینلز نے ٹیم کی اس مایوس کن کارکردگی کا سبب بھی نجم سیٹھی کو قرار دیا ہے تو کئی سابق کرکٹر  پورے کرکٹ بورڈ کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر ہماری ناقص رائے میں تو سب سے بہترین وجہ وہی ہے جو ہمارے مالی بابا نے اس لا متناہی تبصرے میں شامل ہوتے ہوئے کہا ہے "پتر جے سارے بندے دے پتر بن کے کھیڈدے تے ضرور جت جاندے"۔

ویسے سننے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ کرکٹ کی بہتری کیلئے اب حکومت وقت کچھ "انقلابی اقدامات " (امید یہی ہے کہ فوجی کرکٹ ٹیم کا اعلان نہیں کیا جائے گا)اٹھانے جا رہی ہے ۔ ایسےمیں کیوں نہ یہ مطالبہ بھی کر دیا جائے کہ کچھ "انقلابی" اقدامات(یہاں اگر آپ انقلابی کو "مالی "پڑ جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں) ہاکی کیلئے بھی کر دیئے جائیں کیونکہ اپنا قومی کھیل تو آخر "ہاکی" ہی ہے۔

 

مزید : بلاگ