میرے فلمی تعلقات (1)

میرے فلمی تعلقات (1)

  

وہ شخص جووہابیت اور جماعت اسلامی کے نظریات والے گھر میں پیدا ہوا، اس کے فلمی شعبے میں تعلقات کیسے بن گئے؟ میرے ساتھ یہ محض اتفاق ہوا اور یہ اتفاق بڑھتا ہی چلا گیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مَیں اپنی فکری اساس سے دور چلا گیا۔ میرا یہ حوالہ ایک بار پھر اس وقت تازہ ہوا جب مَیں نے روزنامہ’’پاکستان‘‘ میں ’’ لاہوریات‘‘ کے عنوان سے ایک کالم کی دو قسطوں کو پوری تفصیل کے ساتھ پڑھا۔ جو بنیادی طور پر حبیب مرحوم کے بارے میں تھا ۔ حبیب کے ساتھ میرا بھی کچھ تعلق تھا۔ امریکن سنٹر لاہور کے زمانے میں عام طور پر ایک دو سال کا عرصہ ایسا گزرا جب ویک اینڈ میں ہم رائے ونڈ روڈ کی طرف لانگ ڈرائیو پر جاتے۔ ڈائریکٹر ثقلین رضوی کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ہفتے یا اتوار کو سمن آباد سے گاڑی نکالتے، جیل روڈ سے حبیب کو بٹھاتے اورپھر راستے میں مجھے لے لیتے۔کبھی ثقلین رضوی کا گاڑی چلانے کا موڈ یا ہمت نہ ہوتی تو وہ گاڑی چلانے کے لئے اپنے بیٹے کو لے آتے۔ یہ تو مَیں نے درمیان سے ہی شروع کردیا اوریہ نہیں بتایا کہ میرا فلمی شعبے سے تعلق کیسے شروع ہوا؟

پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں ایم اے جرنلزم کے آخری سال1969ء میں میرے ریسرچ پیپر کے گائیڈ نوجوان بنگالی پروفیسر محی الدین مقرر ہوئے ،انہوں نے میرے لئے جو موضوع منتخب کیا وہ مغربی پاکستان کے فلمی ڈائریکٹروں کے مشرقی پاکستان کی فلم انڈسٹری کے جائزے کے بارے میں تھا۔میں اس وقت ہوسٹل نمبر تین میں رہتا تھا میرا کلاس فیلو گلزار حسین سید عرف گلو شاہ بھی وہیں موجود تھا۔ مَیں نے اس سے ذکر کیا تو اس نے فلمی ڈائرکٹروں سے ملانے کا وعدہ کرلیا۔ سب سے پہلے ایورنیو سٹوڈیو میں انہوں نے اپنے دوست کیمرہ مین، ڈائریکٹر اظہر برکی سے ملوایا ،پھر یہ سلسلہ آگے چلتا گیا۔ ساتھ میں شاہ نور سٹوڈیو تھا جہاں ملکہ ترنم نور جہاں کا چھوٹا بیٹا اصغر رضوی عرف اچھو میاں گلو شاہ کا بہاول پور سکول کا کلاس فیلو تھا۔ اچھو میاں سے ملے تو اس نے ’’ اظہر زمان‘‘ سے میرا نام بدل کر اپنی آسانی کے لئے ’’ شاہ زمان‘‘ رکھ دیا۔ ان دنوں سدھیر کا طوطی بولتا تھا ،جس کا اصل نام شاہ زمان تھا۔ اچھو میاں سے بعد میں جب بھی ملاقات ہوتی، وہ مجھے اسی نام سے بلاتا تھا۔ ملنا ملانا ریسرچ رپورٹ کی ضرورت تھی۔ رپورٹ جمع کرادی ،پھر یہ نہ سوچا کہ فلمی لوگوں سے دوبارہ بھی رابطہ ہو سکتا ہے۔

ایم اے جرنلزم کا امتحان دینے کے بعد1969ء کے اواخر میں مَیں اپنے کلاس فیلو جاوید اقبال پراچہ کے ہمراہ مال روڈ پر گشت کررہا تھا کہ ریگل چوک میں پرانی پریس کلب کے قریب ایک انگریزی فلمی رسالے’’ فلم ورلڈ‘‘ کا بورڈ نظر آیا اورہم دونوں سیٹرھیوں سے اوپر چڑھ گئے۔ وہاں رسالے کے مالک جاوید اقبال بٹ اور اس کے اصل ایڈیٹر پروفیسر احمد سعید سے ملاقات ہوئی جو اس وقت بھی دیال سنگھ کالج میں ہسٹری پڑھاتے تھے۔ پروفیسر صاحب نے میری دلچسپی دیکھ کر مجھے سعادت حسن منٹو کی ایک طویل افسانوی داستان ترجمہ کرنے کو دی جو اصل میں ان کے بمبئی فلم انڈسٹری کے ذاتی تجربات تھے۔ مَیں اسے لے گیا اورایک ریستوران میں بیٹھ کر چند گھنٹے لگا کر ترجمہ کیا اورانہیں واپس لادیا۔ پروفیسر صاحب نے تو چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔ وہ بٹ صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ تو ترجمہ لگتا ہی نہیں، اوریجنل تحریر لگتی ہے۔ انہوں نے مجھے فوری طور پر اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر کردیا او ر مَیں نے اس ماہوار رسالے کے لئے دوسری چیزوں کے علاوہ ٹائیٹل انٹرویو کرنے شروع کردیئے۔ سب سے پہلے انٹرویو مَیں نے نشو کا کیا۔ اس کو بٹ صاحب نے دفتر طلب کیااورایس اے رحمان ان کو آؤٹ ڈور تصویروں کے لئے لے کر گئے تو مَیں بھی تعارف کے لئے ساتھ شامل ہوگیا۔پھر جب مَیں انٹرویو کے لئے اس کے گھر گیا تو وہ وہاں سے غائب تھی۔ پورے گھر کے فرش دھوئے جارہے تھے کہ اس روز اس کی پہلی فلم اقبال شہزاد کی ’’ بازی‘‘ ریلیز ہو رہی تھی اورشام کو گھر مہمان آنے تھے۔ مجھے پہلی مرتبہ ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی بہن نے ایک خشک جگہ پر برآمدے میں کرسی رکھ کر مجھے بٹھا دیا۔ ڈرائنگ روم صاف ہوا تومَیں وہاں منتقل ہو کر انتظار کرنے لگا۔ ابھی مَیں ناراض ہو کر واپس جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ نشو آگئی۔ وہ مجھے سلام کر کے میرے سامنے اس طرح کھڑی ہوگئی جس طرح ٹیچر کے سامنے وہ سٹوڈنٹ کھڑا ہوتا ہے جس نے ہوم ورک نہ کیا ہو۔ اس کا رنگ واقعی فق تھا اور مجھے صفائیاں دے رہی تھی کہ اسے میرے آنے کا علم تھا، لیکن اس کو متعارف کرانے والے اقبال شہزاد کا بلاوا آگیا تھا جس کو وہ ٹال نہیں سکتی تھی۔

بہر حال مَیں نے غصہ تھوک دیا اوراس کا انٹرویو کیا۔ ہم اپنے ڈیپارٹمنٹ سے فارغ ہو چکے تھے، لیکن اپنی پہلی سٹوری والا رسالہ لے کر جانا ضروری تھا۔مَیں نے راہداری میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کو رسالہ دیا اورسٹوڈنٹ بھی وہاں جمع ہو گئے۔ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے نشو والا انٹرویو پڑھنا شروع کردیا۔ پہلے فقرے پر ہی چونک اٹھے اوربلند آواز سے پڑھتے ہوئے کہنے لگے کہ کتنا جامع اورچست فقرہ ہے جو یوں تھا کہ۔۔۔ Billo As Bilqis Bano Was Called In Her Family Had To Go A Long Way To Become Nisho Of Silver Screen۔۔۔اتنی حوصلہ افزائی پا کر مَیں فلمی صحافت میں سنجیدہ ہوگیا اورمزید انٹرویو کرتا رہا۔ گلزار حسین سید ، جو مجھے پہلی مرتبہ ایورنیو سٹورڈیو لے کر گیا تھا انٹرویو میں عام طورپر میرے ساتھ ہوتا تھا۔ مَیں نے اس کام کو باقاعدہ بنانے کے لئے اسے اپنے ساتھ ہی کار سپانڈنٹ کے طور پر رکھ لیا۔

یہ وہی گلو شاہ ہیں جو بعد میں پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن ہوئے اورڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب گورنمنٹ کے طورپر ریٹائر ہوئے۔ بعد میں بہت سٹوریاں لکھیں، بہت انٹرویو کئے، لیکن مجھے یاد ہے کہ کبھی شوٹنگ دیکھنے کے لئے کسی فلور پر نہیں گیا۔ وقت مقرر کر کے دفتر ضرور جاتا تھا۔ ایورنیو سٹوڈیو میں اظہر برکی کا دفتر میرا ٹھکانا تھا اور شاہ نور سٹوڈیو کو تو ہم اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے ،وہاں نور جہاں کے چھوٹے بیٹے اصغر رضوی یا اچھو میاں کا سکہ چلتا تھا ،جہاں وہ دونوں ہاتھ بلند کر کے میرے لئے استقبالیہ نعرہ لگاتا ’’ اومیرا شاہ زمان آگیا‘‘۔اس کے حکم کے مطابق گیٹ کے ساتھ ہی واقع اس کے ذاتی دفتر میں کسی وقت بھی مجھے آنے جانے کی کھلی چھٹی تھی، جہاں ان کے خصوصی ملازم ہمیں کھانا ،چائے وغیرہ پیش کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوتے تھے۔ اچھو میاں اپنی ماں نور جہاں کا بہت لاڈلاتھا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مَیں اورگلو شاہ نور سٹوڈیو پہنچتے اور وہ ہمیں ساتھ لے کر شہر چل پڑتا۔ راستے میں گلبر گ کے لبرٹی والے گول چکر کے پاس نور جہاں کی کوٹھی پر ہم پہنچتے۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے اندر جاتا ،پھر واپس آجاتا اورہم دوبا رہ آگے چل پڑتے۔ ہمیں پتہ تھا وہ اپنا جیب خرچ لینے کے لئے اندر گیا تھا۔ جب منیر احمد منیر نے اپنے رسالے میں ملکہ ترنم کے خلاف کچھ چھاپا تو اچھو میاں نے مجھ سے منیر کے بارے میں پوچھا۔ مَیں نے اچھو میاں سے کہا کہ جو ہو گیا اسے چھوڑو آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ اس طرح اچھو میاں نے منیر کا تعاقب چھوڑ دیا۔

ایک مرتبہ ایور نیو سٹوڈیو میں شمیم آرا کے ذاتی دفتر میں اس کا انٹرویو کررہا تھا۔ وہ ساتھ ساتھ شوٹنگ کی تیاری کے لئے اپنے بال بھی بنا رہی تھی۔ باہر لان میں وحید مراد کرکٹ کھیل رہا تھا۔وہ ہانپتا کانپتا اندر داخل ہوا اورپاس بیٹھ گیا۔ شمیم آرا نے مجھے اشارہ کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ وحید مراد کی موجودگی میں مزیدبات نہیں ہوگی۔ وحید مراد بور ہو کر چلا گیا۔ جاتے جاتے جل کر کہہ گیا کہ اسے جو کچھ جھوٹ بولنا ہے، وہ میرے سامنے کیسے بول سکتی ہے؟اس زمانے میں ایک کرسچین فلمی ہیروئن روزینہ کو بہت عروج حاصل ہوا تھا۔ اس سے بات ہوئی تو اس نے ایورنیو سٹوڈیو میں جہاں اس نے شوٹنگ کے لئے آنا تھا، شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے صبح صبح کا وقت دیا۔ گلو شاہ نے بھی میرے ساتھ آنا تھا۔ ایک تو جلدی اٹھنا مشکل تھا، دوسرے گاڑی کوراستے میں بہت رکاوٹیں ملیں اور ہم دیر سے پہنچے۔ ایورنیو سٹوڈیو میں داخل ہوتے ہی بائیں ہاتھ پر درپن پروڈکشنز کا دفتر تھا، جہاں ملاقات طے ہوئی تھی، کیونکہ روزینہ اسی دفتر کی فلم کے لئے آرہی تھی۔ ہم وہاں پہنچے تو روزینہ وہاں نہیں تھیں البتہ دفتر کی مالکہ نیر سلطانہ موجود تھیں۔ بتانے لگیں کہ روزینہ انتظار کر کے فلور پر چلی گئی ہیں اور اب وقفے میں ہی آئیں گی۔

تھوڑی دیر بعد روزینہ وہاں آئیں تو ہم سے بات ہی نہیں کی اورآگے گزر گئیں۔ ہم نشو کو ڈانٹ پلا کر بہت خوش ہوئے تھے اوراب ایک دوسری ہیروئین سے ڈانٹ کھانے کا وقت آگیا تھا۔ نیر سلطانہ یہ کہہ کر مسکراتی ہوئی اٹھیں کہ مَیں اسے منا کر لاتی ہوں۔ وہ روزینہ کو لے آئیں۔ روزینہ نے غم وغصے کا اظہار کیا اور بالآخر نیر سلطانہ کی سفارش پر ہماری معذرت قبول کرلی اور انٹرویو دینے لگیں۔ہم نے’’ فلم ورلڈ‘‘ کے ساتھ ساتھ روزنامہ’’کوہستان‘‘ میں تقریباً تین سو روپے ماہوار تنخواہ پر آپرنٹس سب ایڈیٹر کے طور پر جاب حاصل کرلیا جو کنفرم ہونے سے پہلے ہی تین ماہ کے اندر ختم ہو گئی اور ہم ایک پورے گروپ کے ساتھ فائر ہوگئے جو بعد میں ’’پکوڑا گروپ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ پھر جماعت اسلامی نے اتحاد پبلیکیشنز کے ذریعے اس اخبار کا کنٹرول سنبھالا اور میرے’’روحانی کزن‘‘ سلمان غنی (جو اس وقت لاہور میں ’’ دنیا‘‘ کے گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں) کے سسر عبدالوحید خان مرحوم ایڈیٹر مقرر ہوئے جنہوں نے فلمی ایڈیشن بحال کرنے کا سوچا تو مجھے میرے فلمی صحافت کے تجربے کی بناء پر طلب کیا اورفلمی ایڈیشن کا انچار ج بنا کر روزنامہ’’ کوہستان‘‘ میں میری دوبارہ آمد کا سبب بنایا۔

انہوں نے مجھے جو بریفنگ دی، وہ بہت دلچسپ تھی۔ مَیں نے وعدہ کیا کہ اس ایڈیشن کو پوری طرح صاف ستھرا رکھوں گا۔ ہم نے ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کافی حد تک اسلامی قسم کے فلمی ایڈیشن نکالے۔ ایک دو بار ہینڈز اپ بھی کئے کہ ان کم بخت ہیروئنوں کو دوپٹہ نہیں پہنایا جا سکتا اورپھر کمپرومائز بھی کرتے رہے۔ ’’فلم ورلڈ‘‘ بند ہوا تو اس کے فوٹو گرافر ایس اے رحمن نے سمن آباد میں’’ فلم اینڈ فیشن‘‘ کے نام سے اسی نوعیت کاانگریزی زبان میں ماہنامہ شروع کیا اور مجھے ایڈیٹر بنادیا۔ اردو کی فلمی صحافت’’ کوہستان‘‘ اخبار کے بند ہونے پر معطل ہوگئی۔ ’’ بلوچستان ٹائمز‘‘ اور’’زمانہ‘‘ کے مالک سید فصیح اقبال نے مجھ سے رابطہ کیا اورمَیں نے دو صفحے کا فلمی ایڈیشن لاہور میں تیار اور چھپوا کر ہر ہفتے کوئٹہ بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس طرح انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں فلمی صحافت اور فلمی تعلقات میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا۔ مشرقی پاکستان کا اہم ترین فلمی اخبار’’ چترالی‘‘ بنگالی زبان میں چھپتا تھا۔ سقوط ڈھاکہ سے چند ماہ قبل ان کی انتظامیہ کے کہنے پر مَیں ہفتہ وار ڈسپیچ انگریزی زبان میں تیار کر کے ڈھاکہ بھیجنے لگا جس کا وہ بنگلہ میں ترجمہ کر کے چھاپتے تھے۔ ابھی کہنے کو بہت کچھ ہے، اس لئے خلاف معمول مجھے اس کالم کی دوسری قسط لکھنی پڑے گی۔

مزید :

کالم -