اس مر ض کا مسیحا کو ئی نہیں!

اس مر ض کا مسیحا کو ئی نہیں!
اس مر ض کا مسیحا کو ئی نہیں!

  

پاکستان میں اچھی اور بہتر خبریں بھی ہیں اور اکثر انہیں سن کر ہما رے دل کی دنیا کھِل سی جا تی ہے گو یا ایک بہتر اور اچھے پاکستان کا خواب شرمندہءتعبیر ہو تا نظر آتا ہے، مگر ان حو صلہ افزاخبروں اور خوش کُن نظا روں سے با ہم متصل جڑے کچھ اور معاملات جنہیں سو چتے ہی مو ڈ ایسا خراب ہو تا ہے لگتا ہے ما یوسی بال کھو لے اس ملک کے بام و در پہ سو رہی ہے، پاکستان نے سفارتکا ری کی سطح پر لاکھ جتن کر کے ا ور مغرب سے براہِ راست پنگا لے کر جو ہری صلا حیت حا صل کی ہے مگر یہاں 50 لاکھ لوگ نمو نیا کی بیما ری سے لقمہءاجل بن جائیں؟ ہے ناں سمجھ سے با لا تر ہو نے والی بات،آ پ سوچ رہے ہو نگے یا تو میں نے از خود نمو نیا سے مرنے والے شہریوں کی تعداد میں مرچ مصالحہ کی آ میزش کر دی ہے یا ”نیو کلیئر پاور“ کی تھیوری محض ڈھو کسلا ہے، نہیں صا حب ! یہ دو نوں انتہا ئیں اس ارض وطن کے حال اور مستقبل کا پتہ دے رہی ہیں، یہ دو نوں انتہا ئیں زبانِ حال سے کہ رہی ہیں پاکستانی سماج کس حد تک متوازن ہے۔میرا نہ تو مذاق کرنے کا ارادہ ہے اور نہ ہی عزیز ہمو طنوں کے سا منے ملک کو درپیش نازک موڑ کی نشاندہی والی قوا لی کرنا مقصودہے مگر سچ تو یہ ہے کہ ہیپا ٹا ئٹس سے مرنے والوں کی تعداد دہشت گردی کا شکار لوگوں سے ذیا دہ ہے۔پنجاب میں نواز شریف کا خاندان کئی بر سوں سے حکمران ہے انکے چھو ٹے بھا ئی کی جدید طرزِ حکمرانی میں صو بہ بھر کے ہسپتالوں میں زندگی کی آ خری سانس قا ئم رکھنے والی مشینیں وینٹی لیٹرز محض550 دستیاب ہیں (صو بہ کی آ با دی تقریباً 12کروڑ ذہن میں رکھئے تا کہ صو رتحال مزید آ سانی سے سمجھ میں آ سکے) اس صو بے کے دس بد نصیب اور پسماندہ ترین شہر ایسے ہیں جہاں ایک بھی وینٹی لیٹر میسر نہیں ہے جبکہ ہم پنجاب کے با سی اندرون سندھ صحت و تعلیم کی خرابی اور غر بت کے حوالے دیتے نہیں تھکتے۔شہباز شریف صا حب پھر بھی بضد ہیں کہ انکی حکو مت نے صحت کے میدان میں بھر پور اور تا ریخی بجٹ دیا ہے، دیا ہو گا ہمیں کب اعتراض ہے؟ مگر صحت کے شعبہ میں بہت پسماند گی ہے سرکار! آ نکھیں کھو لیے مخلو ق کی حالت بہت پتلی ہے جناب! چا روں صوبوں کی

سیا سی اشرفیہ تو اپنے لیے ”ڈسپرین“ او ر ” پیرا سٹا مول“ بھی امپورٹڈ منگواتے ہیں مگر بیچا رے عوام اپنے پیا روں کو بیما ری کی حالت میں کہاں لے کر جا ئیں؟ ہسپتال جہاں جینے سے کہیں ذیا دہ مشکل مر نا ہے؟ شہبا ز شریف صا حب کا شعبہ صحت کو تا ریخی بجٹ دینا ایک تا ریخی حقیقت ہو گی مگر حقیتِ حال سن لیجیے کہ پنجاب کے 36 اضلاع میں 2461 بنیا دی ہیلتھ یو نٹس (BHUs) ہیں اور ان میں چا لیس فیصد ایسے ہیںجہاں نہ تو ڈاکٹرز ڈیو ٹی دیتے ہیں اور نہ ہی پیرا میڈیکل سٹاف کا نام و نشان ہے،پسماندہ اور دور دراز کے اضلاع راجن پور، ڈیرہ غا زی خان، مظفر گڑھ اور لیہ وغیرہ میں تو بہت سے مرا کزِ صحت (BHUs ) پر قبضہ ما فیا کا راج گڈ گور نینس کا منہ چڑا رہا ہے۔ان صحت کے دیہی ہسپتالوں کو اس کے علاوہ بڑا چیلنج بڑھتی ہو ئی آ با دی کا ہے، 15160 مریضوں کے لیے ایک بنیا دی ہیلتھ یو نٹ ہے۔ 2012 میں خا دم اعلیٰ کی حکو مت نے BHUs. کے اس بڑ ھتے ہو ئے بحران سے نمٹنے کے لیے ” مو با ئل ہیلتھ یو نٹس“ کا پر ا جیکٹ لانچ کیا،اس پر کروڑوں روپے خر چ ہو ئے مگر تھرڈ پارٹی آ ڈٹ میںمو با ئل ہیلتھ یو نٹس کو بنیا دی مراکزصحت اور رورل ہیلتھ سینٹرز کے مقا بلے میں غیر فعال قرار دیا گیا اس پر ا جیکٹ پر خطیر رقم ضا ئع ہو ئی اور اس وقت کے سیکر ٹری صحت کے خلاف کار روائی کرنے کی بجائے اپنے اس” حسنِ تد بیر“ پر آ ج وہ سیکر ٹری صا حب وزیرِ اعظم ہا ﺅس سے پاکستان کی بیو رو کریسی کے ”ما ئی باپ“ اور سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔

آ پ دل تھام کے رکھیئے کہ تلخ ترین حقائق آپ تک بھی آ شکار ہو نے چا ہئیں، جس عذابِ آ گہی کا ہم شکار ہیں اس کی ہلکی سی آ نچ آپ تک پہنچنی ابھی با قی ہے ، پنجاب میں صحت کے شعبہ کی اس بنیا دی خرابی کو دور کرنے کا پلان 2015-2016وزیرِ اعلیٰ نے نہا یت جانفشانی اور ہمت سے پھر شروع کیا، 1.41ارب روپے سے700 بنیا دی ہیلتھ یو نٹس کو خصو صی ہدف بنا کر ڈاکٹروں کی تنخواہیں بڑ ھا ئی گئیں مگر ان دور دراز کے ہسپتا لوں میں بہتر حالات کار نہ ہو نے ،عدم رہا ئشی سہولتیںاور پسماندہ اضلاع میں بری امن و عامہ کی صو رتحال کی وجہ سے اس منصوبے کا انجام بھی گزشتہ منصو بوں کی طرح ہوا۔مگر پنجاب کے عوام کو ما یوس ہر گز ہر گز نہیں ہو نا چا ہیے کہ خا دم اعلی صا حب سر توڑ کو ششیں کر رہے ہیں اور ان کی دی ہو ئی ”گولیوں“ سے کسی بھی وقت عوام کا یہ بنیا دی مسئلہ سلجھ سکتا ہے۔اب پو رے صحت کے شعبہ کو نئے سرے سے عوامی ضروریات سے ہم آ ہنگ کرنے کے لیے پنجاب ہیلتھ سیکٹر پلان (PHSP-2018) شروع کیا گیا ہے جس کے 34,157 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، اسکا انجام بھی آ غاز سے معلوم ہے۔ اس ضمن میں شہباز شریف کا شخصی انداز حکمرانی مسا ئل کی اصل جڑ دکھا ئی دیتا ہے، مو صوف کہتے ہیں ©کہ ترقی کے لیے میں کا رویہ ترک کر کے ہم بننا ہو گا، مگر ان کا انداز حکمرانی ©©” میں نہ ما نوں“ کی عملی تفسیر ہے اور کیو نکہ پو ری قوم تو صحت و تعلیم میں بہتری کے لیے ہم آ واز ہے لیکن شہباز شریف صا حب اور انکی ٹیم لا ہور کے ڈھائی لاکھ مسا فروں کے لیے 162 روپے کی خطیر رقم میٹرو اورنج لائن ٹرین پر بضد ہے۔دو سری جانب انکی تر جیحات کی پستی کا عا لم یہ ہے کہ پنجاب میں ہر شہری کی صحت پر500 روپے سا لانہ خر چ کیا جا رہا ہے۔ ایک شہری صحت پر خر چ ہو نیوالی رقم اتنی قلیل ہو گی تو ہر صحت کا منصو بہ

بد ترین نا کامی کا شکار ہو گا۔اس طرح تعلیم پر بھی پنجاب حکو مت ہر شہری پر 600 روپے سا لانہ خر چ کر رہی ہے۔ یہ اصل ما ئنڈ سیٹ ہے جواقتدار کے ایوانوں میں برا جمان ہے اور بضد ہے کہ عوامی فلاح و بہبود اس کی اولین تر جیح ہے۔اپنے بچوں کو پڑ ھانے کی ہما ری روش یہی رہی تو ہمیں ہمیشہ دشمن کے بچوں کو ہی پڑ ھانا پڑے گا۔ میری سمجھ میں تو بالکل نہیں آ رہا کہ جس شہری کو تعلیم و صحت اس سطح کی مل رہی ہووہ ریاست کا کیسے وفا دار اور خیر خواہ رہے گا؟ شو کت خانم جیسے ” سٹیٹ آ ف دی آرٹ ہسپتال“ چار ارب روپے میں بنا یا جا سکتا ہے،

162 ارب روپے سے پنجاب کے چھتیس اضلاع میں ایسے41 ہسپتال بنا ئے جا سکتے تھے مگر پنجاب کے کسی ضلع کو ایسے ہسپتا لوں کی بجا ئے ذیا دہ ضرورت تختِ لاہور میں بننے والی میٹرو ٹرین کی ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ جن شہریوں کی زند گی پر تعلیم اور صحت کے لئے گیا رہ سو روپے سا لانہ خر چ ہو رہے ہیں انہیں اس میٹرو ٹرین کے لیے 1600 روپے کا مقروض کیا جا رہا ہے۔ کیا کیا جا ئے کہ شہبا ز شریف کا دل رو ئے زمین کے اس مہنگے ترین منصو بے میں اٹکا ہو ا ہے جس کے لیے چو دہ ارب روپے کی سا لانہ سبسڈی اور چار ارب روپے کے مزید سا لانہ اخراجات بھی دیکھ بھال کی نذر کر نے پڑیں گے۔ گو یا اس ضمن میں غالب کا یہ مصرعہ صا دق آ تا ہے

آہ بے اثر دیکھی، نالہ نا رسا پایا

آج کی تحریر صرف صحت کے شعبے کی ہو شربا داستان کے لیے ہے وگرنہ یہ کہا نی بھی آ پ کے علم میں لاتا کہ پینے کے صاف پانی کے عوامی منصوبوں کے لیے بجٹ میں 12ارب روپے رکھے گئے تھے اور اب اس میں بھی متوقع کٹو تی کی جا ئے گی، خصو صاً جب صو رتحال کی سنگینی کا عالم یہ ہو کہ صو بے کی 12ارب آ با دی میں ہر چار میں سے تین افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ صحت کے شعبہ میں تینوں صوبے ”بڑے بھائی“ پنجاب کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں،چا رے صو بوں میں صحت کا بجٹ بڑھا ہے مگر حقا ئق بتا تے ہیں عملاً ہسپتا لوں میں اس طرح کے اقدامات کا کو ئی وجود نہیں ہے، دیہی بلو چستان میں پرا ئمری ہیلتھ کیئر سسٹم غیر فعال ہے، لیبا رٹریز، مشینری، ادویات اور نہ ہی ڈاکٹرز،صو با ئی محکمہ ءہیلتھ ابھی تک غیر حا ضر ڈاکٹروں کے مسئلے سے نمٹ نہیں سکا جن کی وجہ سے بلوچ علاقوں میںہسپتال بھو ت بنگلے بنے ہوئے ہیںاور سرکاری خزانے کو تنخواہوں کی مد میں خسارے کا سامنا ہے،10817 مریضوں کے لیے ایک دیہی ہسپتال ہے اور 1595 مریضوں کے لیے ایک بیڈ میسر ہے،ہر ضلع میں محض ایک خا تون گا ئنا کا لو جسٹ ہے (خواتین کے حقو ق کے لیے فعال طبقے اس نقطے کو بھی اپنی جدو جہد میں شا مل کریں تو بہت خوشی ہو گی)۔صرف چا غی ضلع میں چا ئلڈ ہیلتھ ریشو38/100 ہے۔تبدیلی کی دولت سے ما لا مال صو بہ خیبر پختونخواہ میں 23090 مریضوں کے لیے ایک دیہی ہسپتال ہے اور ایک بیڈ پر مریضوں کی تعداد 1137 ہے،فا ٹا میں صحت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے یہاں پرا ئمری ہیلتھ کیئر سسٹم نہ ہو نے سے مریضوں کو سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم تک لاتے لاتے بہت دیر ہو جاتی اور یہ وہ سٹیج ہو تی ہے جہاں دوا بھی کام نہیں کرتی۔یہاں زچگی اور بچوں کی

بیما ریا ں بڑے مسا ئل ہیں، زیا دہ تربچے یا تو پیدا ئش کے مر حلے میں مر جا تے ہیں یا دما غی امراض کے شکار ہو جاتے ہیں۔قا ئم علی شاہ

سا ئیں کے سندھی مسکینوں کی صو رتحال بھی شعبہ صحت میں پو رے پاکستان جیسی ہے (یہ بھی غنیمت ہے)،46000 مریضوں کے لیے ایک دیہی ہسپتال ہے، شہرِ کر اچی میں3121 مریضوں کے لیے محض ایک بیڈ میسر ہے۔ اس سا ری صورتحال میں وزیرِ اعظم کا ہیلتھ کیئر پلان گو یا صحت کے میدان میںڈسپرین کی گو لی ہے اور در حقیقت یہ شعبہ ایک بڑی اور مو ثر سر جری مانگ رہا ہے۔

احمدابوبکر دنیا ٹی وی کے پرو گرام”آن د ی فرنٹ“ کے پرو ڈیو سر ہیں اورپا کستان میں سیاست،معیشت اور معاشرت کو بہت گہری نظرسے دیکھنے کا تجر بہ رکھتے ہیں

مزید :

بلاگ -