اسلامی شعائر کی تعلیم و نفاذ

اسلامی شعائر کی تعلیم و نفاذ
 اسلامی شعائر کی تعلیم و نفاذ

  

اسلامی معاشرہ بلامبالغہ ایک ایسی درس گاہ کی مانند ہو تا ہے، جس میں نہ صرف اسلامی اصولوں کے مطابق انسانی شخصیت کی نشوونما ہوتی ہے، بلکہ انسانی معاشرہ کے مجموعی خدوخال بھی پروان چڑھتے ہیں۔ لہٰذا انفرادی اور معاشرتی اقدار کی اعلیٰ سطح پر تعلیم و تربیت اسلام کی اصل روح کے عین مطابق ہے۔بلکہ اسلام کے اولین فرائض میں شامل ہے، کیونکہ اسلام محض عبادات اور ان سے منسلک رسومات کا نام نہیں، بلکہ اسلام نوعِ انسان کے لئے ایک انمول نعمت اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انسانوں کو اسلام کے ذریعے ایک ایسے سانچے میں ڈھالنا مقصود ہے، جو مثالی ہو اور ایک مثالی معاشرے کو جنم دینے کے قابل ہو۔ اسلام مسلمانوں سے اس بات کا متقاضی ہے کہ نہ صرف اسلامی شعائر کو باہوش و حواس قبول کر کے اپنی شخصیت میں ڈھالے،بلکہ ان کی تبلیغ و ترغیب کے اہتمام کو اپنے فرائض کا حصہ سمجھے۔

اسلام میں شامل تمام عبادات انسان کو اعلیٰ اقدار کی ترغیب اور تربیت کی بہترین عکاس ہیں۔نماز انسان کو نہ صرف انفرادی طور پر پاکیزگی کا درس دیتی ہے، بلکہ جماعت کی صورت میں یہ پانچ وقت لوگوں کے میل جول اور منبر سے اہم معاملات کی تعلیم کا ذریعہ ہے۔ باجماعت نماز کا قیام معاشرتی اصلاح اور باہمی تعلق کو مثالی بنانے کے لئے ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ پوری دنیا بالخصوص پاکستان دہشت گردی اور اسلام کی غلط ترجمانی کی وجہ مشکلات کا شکار ہے۔ لہٰذا اس بات پر علماء اور اساتذہ کرام کو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح لوگوں میں اسلام کی صحیح تعلیمات کو انسانوں اور معاشرے میں سرایت کیا جا سکے۔

اسلام کے نہ صرف لفظی معنی امن و سلامتی کے ہیں،بلکہ اس کی ہر تعلیمی جزو امن اور بھائی چارے کے ساتھ ساتھ عالم انسانیت کے ساتھ بھلائی اور نیکی کا درس دیتی ہے۔مذہبی انتہا پسندی جو سرا سر اسلام کے برخلاف ہے کہ ایک عرصے سے اسلام کے نام کے ساتھ منسوب کر کے مسلمانوں کو پوری دنیا میں مسائل کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے اور اسلامی دنیا کے علماء اور منبر اس پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مذہبی علماء کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کے سیاسی رہنما بھی اس ایشومیں علماء کو بھرپور مدد اور حمایت مہیا کریں۔

وزیراعظم نواز شریف نے حالیہ دنوں میں ایک تقریب میں موجود علماء کو بجا طور پر اس بات کا احساس دلایا کہ علماء و مذہبی رہنماؤں کو اسلامی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کو بھرپور انداز میں ادا کرنے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ باہمی رواداری اور امن و سلامتی کے فروغ کے لئے علماء اپنے ماننے والوں کو اسلامی اقدار سے روشناس کروانے کے ذمہ دار ہیں۔ دہشت گردی، انتہا پسندی، عدم برداشت، زبردستی، جہالت، فرقہ واریت، انسانیت سوز جرائم جیسے مکروہات کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ مگر صد افسوس کہ یہ سارے مکروہ عمل دنیا اور پاکستان میں اسلام کے نام پر کئے جا تے رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ اسلام مخالف دشمنوں کی سوچی سمجھی مذموم کارروائی ہے اور اس سے ملکی سطح پر نبرد آزما ہونے کے لئے تمام پاکستانیوں کو من الحیث القوم جاگنے کی ضرورت ہے۔

نیشنل ایکشن پلان، جو متفقہ قومی پلان ہے،اس کے تحت آپریشن ضربِ عضب نے ملک بھر میں بھرپور عسکری کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل تباہ کر دیا۔ اسی پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف اور اسلامی اقدار کا علمبردار بیانیہ ترتیب دینا ہمارے مذہبی رہنماؤں کا قومی فریضہ ہے۔ موجودہ حکومت نے عسکری قیادت کے ساتھ آپریشن ضرب عضب میں بھرپور تعاون کیا اور اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے باقی ماندہ نکات پر عملدرآمد کے لئے کوشاں ہے۔ان نکات میں دہشت گردوں کو نفسیاتی شکست دینے کے لئے اسلامی تشخص کا علمبردار بیانیہ نہایت ضروری ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کے ذریعے اسلام میں جہاد کے اصل مرتبے اور تقاضوں کو اجاگر کر کے اسلامی تعلیمات کی مکروہ تشریح کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف ہر آپریشن بالخصوص آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کے جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا، کیونکہ نہ صرف انہوں نے ملک کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کے لئے جنگ کی بلکہ ان کی عظیم قربانیوں نے اسلام کی غلط ترجمانی کر نے والے نام نہاد انتہا پسندوں کو بھی نیست و نابود کر دیا۔ اب ہماری سیاسی و عسکری قیادت بالکل درست قدم کی طرف کوشاں ہے جو آپریشن رد الفساد کے ذریعے معاشرتی فساد کو ختم کرنا چاہتی ہے اور سیاسی قیادت صحیح سمت میں مذہبی رہنماؤں پر یہ امر واضح کر رہی ہے کہ یہ معاشرتی اصلاح میں علماء کا بھرپور کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔

علماء کرام اور اساتذہ کرام کو قرآن وحدیث کی روشنی بکھیرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا چاہئے تاکہ اسلام کی ارفع اقدار کو جہالت سے بھرپور تاریک بیانیہ سے آزاد کرایا جا سکے۔ اسلام تحقیق اور جستجو کا نام ہے، جو انسان کو علم حاصل کرنے کی نہ صرف ترغیب دیتا ہے ،بلکہ علم والوں کی تکریم بھی کرتا ہے۔

اللہ تعالی قرآن پاک میں واضح فرماتا ہے کہ علم والے اور لا علم کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔حدیث مبارکہ میں علم حاصل کرنے کے لئے سفر کی تلقین کی گئی ہے۔ لہٰذا علماء کرام کس طرح اسلامی معاشرہ کو جہالت کے سپرد کرسکتے ہیں۔ جہالت بھی ایسی جو اسلام کے خلاف منفی عزائم رکھتی ہو۔ اسی تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلامی اقدار کا بیانیہ ہمارے تعلیمی نظام میں بھی بھرپور عکاسی نہیں کر پاتا۔ہماری درسگاہوں سکول، کالج، یونیورسٹیوں میں اسلامی طرز زندگی اور اعلیٰ اسلامی روایات و اقدار کی ترغیب و تربیت اور تعلیم کی موجودہ صورت حال بہت بہتری کی متقاضی ہے۔ہمارا نظام تعلیم کچھ دینی مدارس کی محدود سوچ اور ماڈرن سکولوں کے جدید نصاب کے درمیان کشمکش کا شکار ہے۔ لہٰذا طالب علم جو ہمارے ملک کی اگلی نسلیں ہیں، ان کے ذہنوں کی تعلیمی نشوونما اور اسلامی آبیاری تسلی بخش نہیں ہے۔ یہ نہایت اہم پہلو بھی متفقہ نیشنل پلان میں شامل ہے۔ نظام تعلیم کی موافقت اور بہتری اگلی نسلوں اور علماء کرام کا مثبت کردار موجودہ نوجوان نسل کو تعمیری سوچ اور اسلامی روایات کا پابند کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور پھر اسلامی تعلیمات کی ہمہ گیر یت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہمارے معاشرہ میں اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کی طرح لوگوں کے طرز زندگی کے ذریعے نافذ ہو؟

اسلام منصفانہ نظام عدل، عادل معاشی نظام، خالص و پاک سیاسی نظام اور مثالی معاشرتی نظام کا نام ہے۔ منبر و محراب کے مقدس مقام سے مسلمانوں کے لئے سیاسی نظام کی ترویج ہوئی۔ اسلام کا نظام عدلِ انسانیت کے حقوق و فرائض اور امن و آتشی کا نام ہے اور معاشی اقدار کی تعظیم کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ زکوۃٰ عبادات میں شامل ہے اور سود، منافع خوری اور کاروبار میں کم تولنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ ہود میں کاروبار میں خسارہ کرنے والوں اور کم تولنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لہٰذا علماء کرام کو دنیا پر واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ جو مذہب معاشرہ میں انفرادی حقوق کی کسی طور پر پامالی کی اجازت نہیں دیتا،وہ معاشرہ میں عدم برداشت، تشدد، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مکروہ کارروائیوں سے کس طرح جوڑا جا سکتا ہے۔یہ بلا شبہ ایک محنت طلب منزل ہے، لیکن ہمیں من الحیث القوم اس کے حصول کے لئے کوشاں ہونا ہے اور علماء کرام کو اس مقدس فریضے کی ادائیگی میں مشعل راہ کا کردار ادا کرنا ہو گا۔

مزید :

کالم -