پلاک میں سات روزہ پنجابی میلہ

پلاک میں سات روزہ پنجابی میلہ
 پلاک میں سات روزہ پنجابی میلہ

  

دہشت گردی نے لاہور پر پے درپے حملے کر کے خوف اور دہشت کی فضا قائم کرنے کی کوشش تو کی،مگر انہیں زندہ دلان لاہور کی تاریخی اور سماجی روایت کا صحیح اندازہ نہیں تھا لاہوریئے خوشی کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، حکومت کے انتظامات میں پی ایس ایل کا فائنل قذافی سٹیڈیم میں ہوا تو لاہوریوں نے جوق در جوق شرکت کر کے ثابت کردیا کہ اُن کی زندہ دلی پر کوئی آنچ نہیں آتی وہ بھی زندہ ہیں اور اُن کی زندہ دلی بھی اور پھر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر کے تعاون سے پنجابی پرچار والوں نے دو دنوں تک ثقافتی پروگرام کر کے لاہوریوں کی ہی نہیں سب پنجابیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ابھی اس کی بازگشت فضاؤں میں موجود تھی کہ پلاک کی طرف سے میلے کا آغاز ہو گیا ، سیکرٹری اطلاعات راجہ محمد جہانگیر اور ڈائریکٹر جنرل صغریٰ صدف کے اپنی تہذیب ، ثقافت اور پنجابی زبان و ادب سے تعلق اور محبت کا اظہار شروع ہوگیا اور پھر لاہور تو کیا دور دراز کے پنجابی بھی اپنے گمشدہ ماضی کا نیا انداز دیکھنے دوڑے آئے۔

ایک زمانہ تھا جب ہر گاؤں ، ہر قصبے ، ہر بستی میں میلوں کا انعقاد ہوتا تھا خصوصا فصلیں پک کر گھروں میں آجاتی تھیں تو لوگ اجتماعی طور پر خوشیاں مناتے تھے دور و نزدیک سے رشتے دار ، عزیز آتے اور خوشیوں میں ایک دوسرے سے سانجھ ،کھلے میدانوں میں کبڈی ، کشتی ، نیزہ بازی اور گھڑ سواری کے مظاہرے ہوتے مٹھائیوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں سجتیں، رقص و موسیقی کے لئے تھیٹر ہوتا اور ان تھیٹروں میں فوک داستانیں ڈرامے کی صورت پیش کی جاتیں، ان تھیٹروں کی مقبول ترین کہانیوں میں ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں سر فہرست ہوتی تھیں ، لیکن پھر پاکستان پر ایک دور ابتلا نازل ہوا جس نے عوام کے خوشیوں کے اظہار کے مثبت طریقوں کی صورت بھی تبدیل کر دی میلے کی ثقافی اور عوامی روایات و اقدار پر بھی پابندی لگا دی اور پھر ایک مخصوص نظریہ مزید بد قسمتی کی صورت میں نازل ہوا بم دھماکوں اور خودکش حملوں نے لوگوں کے ذہنوں کو خوف اور دہشت کی زنجیروں میں جکڑ لیا ، ایک سازش تھی جس کے تحت لوگوں کو اپنی تہذیب اور ثقافت سے دور کر کے خوشیوں کے اظہار کے وسیلے اور مواقع بھی چھین لئے وہ جو 249249249’میلے نوں چلیے ‘‘ کی خواہش اور اُس کے لئے تیاریاں تھیں ، انتظار تھا ، وہ سب کچھ چھین لیا گیا ، لاہوریئے جو میلہ چراغاں پر چراغ جلا کر شاہ حسین سے محبت اور عقیدت کااظہار کیا کرتے تھے یا پھر شاہ جمال کے مزار پر بجتے ہوئے ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈال کر محبتیں نچھاور کرتے تھے داتا صاحب کے مزار کی طرف رقص کرتے ہوئے جاتے اور کہتے تھے ، ست دن تے اٹھ میلے، گھر جاواں کہڑے ویلے اُن سے خوشیوں کے اظہار کے وسیلے چھین لئے گئے ،.. انہیں پابندیوں میں جکڑ دیا۔۔۔ اب تو صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تلخ ہوگئی تھی۔

ایسے میں پلاک کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغریٰ صدف نے پنجابی میلہ کامیابی کے ساتھ منعقد کیا ہے تو اس کی تحسین ضروری ہے وہ پے در پے جس طرح پنجابیوں اور پنجاب کی خدمت اور پنجابی زبان و ثقافت کی بحالی و پہچان کے لئے کارنامے انجام دے رہی ہے اور سیکرٹری اطلاعات راجہ محمد جہانگیر اس سے ہم آواز ہو رہے ہیں اس کے لئے یہ کہنا لازم ہے کہ خدا نظر بد سے بچائے ۔۔۔پہلا موقعہ ہے شاعرہ ، ادیبہ ، پلاک کی سربراہ بنی ہے تو بیوروکریسی میں بھی کوئی کمیٹڈ پنجابی افسر آیا ہے جو پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کی ترقی و ترویج کے لئے کوشاں ہے۔۔۔ یہ پنجابیوں کی ایک دیرینہ خواہش تھی کہ پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کی ترقی کے لئے بنایا گیا ادارہ اپنا مثبت کام بھی کرے عوام کے وسائل سے چلنے والی ذمہ داریوں کا بہترین استعمال کرے۔۔۔ ۔

پلاک میں گزشتہ پورے ہفتہ پنجابیوں کے لئے وہ سب کچھ تھا جو اُن کی ثقافتی پہچان رہا ہے اگرچہ یہ سب کچھ کھلے میدان میں نہیں تھا، لیکن خوشیوں کے جذبات بھی تھے اور اُن کا اظہار بھی ، رقص و موسیقی ، ڈھول ، تماشے ، بھنگڑے اور دھمالیں ، روایتی مٹھائی میں جلیبی اور نمکین میں قتلمے اور پکوڑے۔۔۔ البتہ گولی والی بوتلوں کی جگہ کوک تھی چائے کی پیالیاں ٹی بیگ اور ڈسپوزیبل کپ میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو گئی تھیں جیسے پلاؤ بریانی بن گیا ۔۔۔ اور تھیٹر کی جگہ فلمیں آ گئی ہیں، جن میں شاہکار پنجابی فلمیں بھی عوام کو دکھائی گئی ہیں، اُن میں موجود گانوں پر اداکاروں نے پرفارم بھی کیا ، لوک فنکار بھی آئے اور انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا جسے بہت زیادہ پسند کیا گیا ۔

بہرحال یہ خوبصورت اور بہترین کوشش ہے نوجوان نسل کو اپنے ماضی اور حال کا احساس ہوا تو اپنی زبان ثقافت سے آگہی ملی ہے اس کے مثبت تنائج بھی برآمد ہوں گے ، یہ ہفتہ ثقافت سال میں ایک بار نہیں کئی بار آنا چاہئے۔

مزید :

کالم -