مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ کے علاقے میں 35سکھوں کے قتل عام کو 17سال مکمل

مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ کے علاقے میں 35سکھوں کے قتل عام کو 17سال مکمل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سرینگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ کے علاقے میں 35سکھوں کے بھارتی خفیہ اداروں کے ہاتھوں قتل عام کو 17سال مکمل ہوگئے،ذمہ داران کو تاحال انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جا سکاچھٹی سنگھ پورہ قتل عام کے17برس مکمل اننت ناگ ضلع کے شانگس علاقہ کے اس خوبصورت گاؤں میں مارچ 2000 کے قتل عام کی دردناک یادیں لوگوں کا پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں۔ 20مارچ 2000کو ہولی کے موقعہ پر اس گاؤں میں سکھ اقلیتی فرقہ کے35لوگوں کو رات کی تاریکی میں گولیوں سے بھون ڈالاگیا تھا۔اس سانحہ کے کچھ عین شاہدین کا کہنا ہے کہ58سالہ نانک سنگھ نے گولیوں کی بوچھاڑ میں اپنے 16سالہ بیٹے گرمیت سنگھ ،25سالہ بھائی دلبیر سنگھ اور تین چچیرے بھائیوں کو کھویا۔ عین شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ہولی کا تہوار تھا ،شام کے پونے آٹھ بجے فوجی وردی میں ملبوس افراد آئے اوریہ کہہ کر لوگوں کو مکانوں سے باہر آکر ایک جگہ جمع ہونے کیلئے کہا کہ انہیں علاقہ میں مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع ہے۔انہوں نے کہا کہ گوردوارہ میں موجود دیہاتیوں کو بھی ایک جگہ جمع ہونے کیلئے کہاگیا۔نانک سنگھ نے کہاکچھ کو شیخ پورہ محلہ میں جمع کیاگیا تو کچھ کو گوردوارہ کے نزدیک قطار میں کھڑا کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ فوجی وردی میں ملبوس مسلح افراد ،جو ہندی میں بات کررہے تھے ،نے انہیں شراب کی پیشکش کی جو انہوں نے ٹھکرائی۔نانک سنگھ نے کہابعد میں انہوں نے لوگوں پر گولیاں برسائیں ،ارد گرد خون میں لت پت لاشیں بکھری بڑی تھیں اور ہمیں سمجھ نہیںآرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پورے گاؤں کیلئے قیامت کا دن تھا اور پورا گاؤں ماتم کدہ میں تبدیل ہوگیا تھا،نہ صرف سکھ بلکہ گاؤں کی مسلم آبادی میں بھی ماتم تھا ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے انکوائری نہ کرنے پر نالاں ہیں۔ان کا کہناتھاانصاف کو چھوڑ دیجئے ،ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ ریاستی اورمرکزی حکومت کو کم از کم اس سانحہ کی انکوائری کرنے سے کس نے روکا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے معاملہ میں اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں انکوائری کی اجازت نہیں ملی تاہم ہم کم ازکم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ غیبی ہاتھ کون تھے جنہوں نے یہ قتل عام کیا۔انہوں نے چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کی مکمل انکوائری اور پتھری بل و براکپورہ ہلاکتوں کی سرنو تحقیقات کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے یہ آپس میں جڑے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -