فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام

فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام
 فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام

  



فاٹا سے انگریزی کالے قانون FCRکا خاتمہ اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے فیصلے پر بلا شبہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ اگر ہم حکومت کے غلط فیصلوں پر تنقید یا احتجاج کا سہارا لے سکتے ہیں تو ملکی مفاد کی خاطر کئے گئے فیصلوں کو بھی سراہا جانا چاہیئے۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے ملک کے مستقبل پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے قومی دھارے میں شامل ہونے سے سرحد پار کے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہیں مل سکیں گی، جس سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ فاٹا کے عوام کو آئینی اور دستوری تحفظ ملے گا۔ اسلحہ کلچر کا خاتمہ ہو گا۔ صحت اور تعلیم کے شعبے میں بہتری آئے گی۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز کا قیام، ووکیشنل ٹریننگ سکولز، صنعتی زونز کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے فاٹا میں مختلف بنکوں کی شاخیں کھولنے کا اقدام بھی خوش آئند ہے۔ فاٹا کے عوام نے ہر دور میں ملکی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ اس لئے از حد ضروری ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لا کر یہاں بھی باقی صوبوں جیسی مراعات دی جائیں۔

وفاقی حکومت نے اصلاحات کی منظوری کے بعد 70سالہ پرانے قانون FCRکا خاتمہ کر کے اس کی جگہ قبائلی رسم و رواج اور ثقافت مد نظر رکھتے ہوئے رواج ایکٹ نافذ کر دیا ہے۔فاٹا کے عوام عام انتخابات میں اپنے نمائندے منتخب کر کے صوبائی اسمبلی میں بھیج سکیں گے۔ فاٹا کی معاشی ترقی کے 10سالہ پروگرام میں یہاں یونیورسٹیاں، کالجز ، فنی تعلیم کے دیگر ادارے اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بنچ بھی قائم کئے جائیں گے۔ عوام کیلئے بیت المال ، سٹیٹ بنک اور دیگر اہم ادارے قائم کئے جائیں گے۔ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو منظم کر کے علاقے میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ نوجوانوں کو روزگار میسر آئے گا۔ ہزاروں نوجوان لیویز فورس میں شامل ہوں گے اور قبائلی ایجنسیوں کو سی پیک راہداری تک بھی رسائی حاصل ہو جائے گی۔

فاٹا میں امن کی بحالی کے بعد حکومت کی اولین ترجیح بے گھر افراد کی بحالی اور قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی رہی ہے، تاکہ یہاں زندگی کی رونقیں بحال ہو سکیں۔ اس ضمن میں پاک فوج کی کارکردگی بھی قابلِ تحسین ہے۔ قبائلی علاقوں کی بحالی کا کام 2018تک جاری رہے گا۔ اس اہم کام کیلئے مالی وسائل کے علاوہ قبائلی ایجنسیوں خصوصاً سفیران فاٹا سیکرٹریٹ اور NLCکی جانب سے بھی معاونت درکار ہو گی۔ فاٹا سیکرٹریٹ کی جانب سے جامع آباد کاری اور تعمیراتی پلان کو ممکنہ وقت میں پوری کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

فاٹا اصلاحات کے حوالے سے دو اہم حکومتی اتحادی جماعتوں JUI اور پختونخو ملی عوامی پارٹی میں اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کے معاملے میں JUIکا موقف ہے کہ مقامی آبادی کی رائے کی روشنی میں اس کا حل نکالا جائے اور گرینڈ جرگہ کو اس کیلئے بہترین آپشن کے طور پر پیش کیا گیا۔ دوسری جانب قبائلی عوام نے دو مارچ کو یوم تشکر منایا، کیونکہ دو مارچ قبائلی عوام کی آزادی کا دن ہے۔ قباعلی عوام کے مطابق خیبر پختونخوا اور فاٹا کے ضم ہونے سے قبائلیوں کو وہ تمام آئینی حقوق میسر آئیں گے جن سے وہ اب تک محروم رہے ہیں اور انہوں نے فاٹا اصلاحات کی منظوری کو حکومت کا تاریخی کارنامہ قرار دیا ۔اس ظالمانہ قانون FCRکے خاتمے کو نواز شریف کا قبائلیوں پر احسان قرار دیا۔ فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہونے سے خیبر پختونخوا ملک کا سب سے بڑا صوبہ بن جائے گا، جس سے قبائلی عوام ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ بلدیاتی انتخابات میں قابل اور ایماندار لوگ سامنے آئیں گے اور عوام کی خدمت صحیح معنوں میں کرینگے۔

یہاں کے نوجوانوں میں نئی جدت اور نئی امنگ ابھرے گی، جس سے وہ اپنے علاقے کی خوشحالی، ترقی اور پائیدار امن میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سیاسی اختلافات تو سیاست کا حسن ہے۔ چاہے معاملہ JUIکا ہو ، خیبرپختونخوا ملی عوامی پارٹی کا یا فاٹا کے دوسرے حلقوں کا اس حوالے سے تمام طبقات میں اتفاق رائے پیدا کرنا حکومت کی ہی ذمہ داری ہے۔ فاٹا کے عوام کو FCRاور پولیٹیکل انتظامیہ کے چنگل سے آزاد کرانا یقیناًاہم پیش رفت ہے، تاہم ضروری ہے کہ ان اختلافات کو بھی مشاورت سے ختم کیا جائے۔ فاٹا کے حوالے سے جو اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں بلا شبہ دوررس نتائج کے حامل ہیں اور ان کے اثرات ملک کے علاوہ پورے خطے کی امن و امان کی صورت حال پر مرتب ہوں گے۔

مزید : کالم