گستاخانہ مواد اور سوشل میڈیا (2)

گستاخانہ مواد اور سوشل میڈیا (2)
 گستاخانہ مواد اور سوشل میڈیا (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سوشل میڈیا اپنی تمام تر خباثتوں، طہارتوں اور سعادتوں کے ساتھ ہماری انگلیوں کے نیچے رہا۔ سائبر کی دنیا میں اگر گمراہی عام ہے تو گاہ گاہ روشنی کے ٹمٹماتے جزیرے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں مولوی ،مفتی اور قاضی کے آمرانہ زبان میں فیصلہ کن فتاوے بھی عام ہیں اور دل ودماغ کو متحرک کرنے کی صدا بھی سنائی پڑتی ہے۔ہر گز کوئی مبالغہ آرائی یا غلو آمیزی نہیں کہ یہاں سچ کم مگر جھوٹ رہا زیادہ۔۔۔ شاید درست تر معنوں میں حد سے زیادہ۔ یہاں جعلی و جھوٹی اور کچی پکی اطلاعات پر کسی سلیم الفکر قلب کو کلام و ابہام کہاں۔سچ و جھوٹ اور حقیقت و خرافات کے دو دھارے ہیں جو ندی کے کناروں کی طرح ساتھ ساتھ اور آمنے سامنے بہنے چلے ہیں۔ جیسے شکست کے کئی اسباب ہوتے ہیں اور جیت کے کئی باب۔بعینہٖ سچ کی پرت اور جہت بھی کئی ہوا کئے۔کوئی محدود سچائی ہوتی ہے اور کوئی مخصوص سچائی، کہیں تناظراتی سچائی رہی اور کہیں ادھوری سچائی چھائی رہی۔انٹر نیٹ پر گستاخانہ مواد نشر کرنے والے بد بختوں اور شرپسندوں کی بیخ کنی ہے ضروری۔ اک ذراآپ کو تکلیف نہ ہو کہ آپ کے پاؤں کے نیچے دل ہے۔مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کی سرکوبی بھی اتنی ہی رہی لازمی۔ توہین آمیز مواد اور گروپوں سے انکار ممکن نہیں تو انتہا پسندی سے نظریں چرانا بھی محال ٹھہرا۔دہشت گرد جتھے اور جماعتیں اسی سوشل میڈیا پر کاری کارروائی کی ذمہ داری اُٹھاتی اور خود کش حملوں کی تصاویر نشر کرتی پھرتی ہیں۔انہیں کون روکے گا؟چودھری نثار سینہ تان کر کب ان کے آگے کھڑے ہوں گے؟ توہین آمیز مواد کا مسئلہ بجا اور روا لیکن مذہبی انتہا پسندی کا مسئلہ ؟جہاد کو قتال کے معنوں میں بیان کرتی اور انہی کی صفوں میں پائی جاتی کچھ ہستیاں۔۔۔جو دہشت گردوں کو برابر شہہ اور مدد دیتی ہیں۔۔۔ان کی گزبھر لمبی زبان کو ن پکڑے گا؟


امام مسلم ٖ ؒ نے اپنی ’’ صحیح مسلم‘‘کے دیباچہ میں اعترافاًلکھا کہ کبھی کبھی اہل تقویٰ کی زبانوں سے بھی بلا ارادہ جھوٹ نکل جاتے ہیں۔لیکن یہ کہ ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں مگر دل پا ک ہوتے ہیں۔ امام غزالیؒ نے بھی اپنی ’’احیا ء ا لعلوم‘‘میں کچھ ایسے ہی ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا۔امام موصوف کے بقول اگر اہل دل جھوٹ کچھ اس طرح بولیں کہ کسی کا نقصان نہ ہو ،یعنی بر بنائے مصلحت ہو توکچھ حرج نہیں۔ممکن ہے قدسی لباسی میں ملبوس مخلوق کے دل پاک ہوں اور وہ اندر سے دہشت گردی کو براہی سمجھتی ہوں اور چودھری نثار پر ہم نثار کہ شاید وہ بھی۔مگر یہ سب کے سب بھول جاتے ہیں کہ لوگوں کی توجہ اور نگاہیں ان کے دلوں پر نہیں زبانوں پر ہوتی ہے۔اعتباردل کا نہیں زبان کاکیا جائے گا کہ فیصلے دل کے فعل پر نہیں زبان کے قول پر ہی ہوا کئے۔ کیا عجب کہ اندرونی معاملہ یکسر الٹ رہا ہو!اور بقول غالب:کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

برصغیر کے خمیر میں آخر ہے کیا؟اوراس کی سرشت میں خشت ہے کیسی کہ عمارت اوج ثریا تک بھی جائے تو کجی نہ جائے۔یہاں پیچیدہ مسائل اور گنجلک معاملات کا حل سن رسیدہ دہقان کی طرح سوچا جاتا ہے۔گاہے ماہے قوت نافذہ ہو تو عمل بھی ہو گزرے ہے۔گستاخانہ مواد اپ لوڈ ہونا بند نہ ہوا تو چودھری صاحب فیس بک اور ٹوئٹر بند کرنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ایسا مسکت اور ترت جواب چودھری صاحب کو ہی زیبا ہے بابا!کوئی پرندہ ان کے آگے پر نہ مار سکے اورکوئی شیر ان کی اجازت کے بغیر اپنی کچھار سے باہر نہ آ سکے۔برقی رو بڑی جاں لیوا ہے کہ جسے کرنٹ پڑ جائے تو وہ مو قع پر ہی مر جائے۔ زمین کے چوڑے چکلے سینے پر تار کول کی بچھی سڑکوں پر فراٹے بھرتی گاڑیاں بھی کم قاتل نہیں۔ ہر روز لوگ حادثات کی نذر ہوتے اور شہر خموشاں میں جا بسیرا کرتے ہیں۔چودھری صاحب کی فراست کیا فرماتی ہے بیچ ان مسئلوں کے؟بندکر دی جائیں گی اورکیا کہ اس کے سوا ناچار کیا کریں۔کوئی اٹھے اورچیخ کر کہے۔۔۔کیا کہا؟اٹھے تو وہ جس کے جسم میں جاں ہو اورچیخے تو وہ جس کے سینے میں دم ہو۔چلئے مریل سی آوازمیں کوئی منمنائے کہ۔۔۔ مصیبت سے چھٹکارہ یامسائل کے حل کے لئے اٹھایا جانے والاقدم ہمیں مزید مسائل اور مصیبت میں ہی کیوں مبتلاکرتا ہے؟ آخر کیوں؟ شدت پسندانہ فیصلے اورنظریے،پھر ان کا دفاع کرنا یا اس ہٹ دھرمی پرڈٹ جانا ۔۔۔یہ صورتِ حال دشمنوں کے لئے مشکلیں تو پیداکر سکتی ہے مگراپنوں کی حیات میں کوئی آسانیاں نہیں لا سکتی۔


جامعہ نعیمیہ میں میاں نواز شریف کا جذبہ جواں،دماغ درخشندہ اورآنکھ آبدار ہوتی صاف دکھائی دیتی تھی۔سب ٹھیک مگر زندہ و آسودہ دل ہی پہلو میں بے قرار نہ ہو تو اس کا بدل کہاں سے لائیں۔میاں صاحب چاہتے تو ہیں کہ دہشت گردی کے لئے تراشے گئے دلائل رد کر دیئے جائیں مگر کیسے؟شاید نواز شریف صاحب کی اب آخری آرزو یہی ہو کہ علمائے کرام دہشت گردی روکنے میں اپنا کردارادا کریں۔علماوفقہا پر ابھی زبان سنبھالے رہو دل کی طرح کہ آئندہ کسی نشست میں یہ کہانی پھر سہی۔متوکل با اللہ کی بھی بڑی آرزو تھی کہ مسلمانوں کی فکری پراگندگی پر بند باندھنے کے لئے امام مالکؒ اپنا کردار ادا کریں۔کہا جاتا ہے امام مالکؒ نے اپنی ’’موطا‘‘متوکل کی خواہش پر ہی تصنیف کی تھی۔امام شافعیؒ کی ’’الرسالہ‘‘ بھی خلیفہ عبدالرحمان کی ایما پر ہی لکھی گئی۔صدیاں گزرگئیں آج ہم بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس کے عواقب و اثرات کیسے اور کیا رہے؟ وادریغا! نہ تو مالکؒ کی موطا مسلمانوں کے فکری تشتت کا ازالہ کر سکی اور نہ ہی شافعیؒ کی الرسالہ امت کے نظری تشنج کا سدباب کر پائی۔با اسالیب مختلف یوں جانئے کہ چارہ سازوں اورتدبیر گروں نے انحرافات اورالتباسات کا علاج بذریعہ انحرافات اورالتباسات ہی کرنے کی ٹھانی ہے۔

مزید :

کالم -