ملا کرایہ پر دستیاب ہے

ملا کرایہ پر دستیاب ہے
 ملا کرایہ پر دستیاب ہے

  

ایک طویل عرصے سے مولانا محمدخان شیرانی عجیب وغریب بیانات داغ رہے ہیں اور ان میں تضادات کی ایک دنیا آباد ہے ان کاایک بیان ریکارڈ پر ہے کہ امریکہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتا ہے اور پانچ حصوں میں تقسیم کرے گا اس بیان کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اب انہوں نے ازخود ایک بیان جاری کیا ہے کہ پاکستان کو پانچ حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔ پہلے ان کا بیان تھا کہ امریکہ یہ کام کرناچاہتا ہے اب انہوں نے امریکی منصوبہ پر خود کام شروع کر دیا ہے اور مُلک کو تقسیم کرنے کا بار بار اعادہ کررہے ہیں ان کے اس بیان کے بعد مرکزی سیکرٹری جنرل جے یو آئی مولانا غفور حیدری کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ پاکستان کی تقسیم کے حوالے سے بیان مولانا محمد خان شیرانی کا ذاتی بیان ہے چونکہ وہ کسی عہدہ پر نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس پر توجہ نہ دی جائے، وہ ایسے بیانات کیوں دے رہے ہیں اس کا ایک سیاسی پس منظر ہے مولانا محمدخان شیرانی ایک طویل عرصہ سے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر منتخب ہوتے چلے آرہے تھے ان کی زندگی کا پہلا سیاسی جھٹکا یہ تھا کہ انہیں صوبائی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا پورا گروپ شکست سے دوچار ہو گیا ان کے گروپ کی دوسری شخصیت حافظ حمداللہ ہیں ان کو کوئٹہ کی امارت پر شکست ہوئی ہے یہ شکست مولانا محمد خان شیرانی کی برداشت سے باہر ہو گئی ہے انہیں گمان بھی نہ تھا کہ پارٹی کے اندر ایک طوفان چھپا ہوا ہے اور یہ کسی وقت اقتدار کا تختہ الٹ سکتا ہے اور ایسا ہی ہوا ہے اس کے بعد انہوں نے ہار نہیں مانی اور امام کا مردہ گھوڑا انہیں یاد آ گیا ہے اور انہوں نے اہلحدیث کے مدرسہ میں سابقہ مرحوم امام کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے اور بیان جاری کیا ہے اس کے بعد جمعیت العلمائے اسلام کے ترجمان نے بیان کا ایک گولہ داغ دیا ہے کہ مولانا شیرانی کا یہ ذاتی فعل ہے اور جمعیت العلمائے اسلام امام کی حامی نہیں ہے یہ بڑا گہرا صدمہ تھا جس نے شیرانی کے اعصاب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اِس مسئلے پر کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد وہ اب پھر بول رہے ہیں اور ایسے بیانات دے رہے ہیں جو پارٹی پالیسی کے برعکس ہیں اور ان بیانات سے وہ اپنے آپ کو بلوچستان کی سیاست میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں ان کے تازہ بیانات پارٹی پالیسی سے متصادم ہیں اور پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اس طرح کے بیانات سے وہ مغرب اور امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں،ان کا تازہ بیان کہ پاکستان کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا جائے،عجیب و غریب بیان ہے وہ پنجاب اور سندھ کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کس سے کر رہے ہیں امریکہ سے یا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے؟ سندھ کے اندر ایک قوم آباد نہیں ہے،بلکہ مختلف قومیتوں کا مجموعہ ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو نسلی قومیت کی بنیاد پر تقسیم کریں اس تقسیم سے خیبرپختونخوا دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اور بلوچستان پشتون براہوی اور بلوچ میں تقسیم ہو جائے گا اور گوادر جو بلوچستان کا ساحل ہے اس کو بھی وہ صوبہ بنانا چاہتے ہیں گوادر میں بھی بلوچ قوم آباد ہے اب چونکہ گوادر پر چین آ رہا ہے اور سی پیک کا منصوبہ چین اور پاکستان کا مشترکہ معاہدہ ہے اس تقسیم کو وہ فکری تقسیم کا نام دے رہے ہیں مولانا محمد خان شیرانی ذرا وضاحت کریں کہ ’’فکری‘‘ کیا بلا ہے جس کا وہ اظہارکر رہے ہیں اس طرح کراچی کو وہ فکری تقسیم کے حوالے سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں۔ذرا غور کریں تو مولانا موصوف ذہنی لحاظ سے ایک الجھی ہوئی شخصیت ہیں اور ان کے بیانات ان کے ذہنی انتشار کی نشاندہی کر رہے ہیں صوبائی انتخابات میں شکست نے ان کے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے،ان کی جو ٹیم ہے وہ بھی آنے والے انتخابات کا نقشہ دیکھ رہی ہے اور انہیں ٹکٹ نہ ملنے کا خوف ستا رہا ہے اوراس حالت میں وہ پارٹی ٹکٹ حاصل نہ کر سکیں گے ان کی ٹیم میں مولانا عبدالواسع، حافظ حمداللہ وغیرہ شامل ہیں اور پارٹی کے اندر تقسیم بڑی واضح نظر آ رہی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے ریلوے ہاکی گراؤنڈ میں جو جلسہ کیا ہے اس میں ان میں سے کوئی بھی سٹیج پر نہیں تھا۔اس خلفشار کے بعد مولانا شیرانی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ سیاست اور انتخابات سے دستبردار ہو گئے، لیکن اس دستبرداری کے بعد ان کے بیانات میں بڑا جوش و خروش پیدا ہو گیا ہے وہ مختلف دورے کر رہے ہیں اور یوں مستقبل کے انتخابات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں وہ مولویوں پر بھی خوب برس رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں پاکستان میں مولوی بھی کرایہ پر دستیاب ہیں، حالانکہ مولانا شیرانی مشرف کے دور حکومت میں اس کے ہاتھ کی چھڑی بنے ہوئے تھے۔

مزید :

کالم -