گرین ہاؤس گیس میں 20فیصد کمی کیلئے 40ارب ڈالر درکار ہونگے : وفاقی وزیر ماحولیات

گرین ہاؤس گیس میں 20فیصد کمی کیلئے 40ارب ڈالر درکار ہونگے : وفاقی وزیر ماحولیات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد (آن لائن) موسمیاتی تبدیلیوں کے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سیلاب، قحط سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، سطح سمندر میں اضافے سمیت درجہ حرارت میں اضافے جیسے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے اثرات سے متعلق '' لیڈ پاکستان '' کے تحت قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاوس گیسز کے اخراج میں حصہ صرف اعشاریہ آٹھ فیصد ہے تاہم اس کے باوجود ہمارا شمار موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کلائمنٹ چینج ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور کرایا ہے جس کے تحت وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کونسل بنے گی۔ اس کے علاوہ ایک اتھارٹی اور فنڈ بھی قائم ہو گا۔ زاہد حامد نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم گرین پروگرام بھی شروع کر رہی ہے جس کے تحت صوبوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں آئندہ پانچ سال میں دس کروڑ پودے لگائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے موثر پالیسیاں تشکیل دی ہیں تاہم ہمیں فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دو ہزار تیس تک گرین ہاوس گیسز میں بیس فیصد کمی کیلئے چالیس ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ ورکشاپ سے '' لیڈ پاکستان '' کے سربراہ علی شیخ نے خطاب کرتے ہوئے اپنے ادارے کی کارکردگی سمیت قومی ورکشاپ کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔#/s#

مزید :

کامرس -