ڈکیتی ،راہزنی کے درجنوں واقعات چوری اور نوسر بازی میں تبدیل

ڈکیتی ،راہزنی کے درجنوں واقعات چوری اور نوسر بازی میں تبدیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور( لیاقت کھرل ) صوبائی دارالحکومت کے بیشتر تھانوں میں ڈکیتی اور راہزنی کی دفعہ 392ت پ کو معمولی جرم چوری، دھوکہ دہی اور نوسر بازی میں تبدیل کرنے پر آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور سی سی پی او لاہور سمیت ڈی آئی جی آپریشن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔رواں برس ڈکیتی قتل اور ڈکیتی کے 479 واقعات رونما ہوئے۔ آئی جی پنجاب کو بھجوائی جانے والی کارکردگی رپورٹ روزنامہ پاکستان کو موصول ہوئی جس میں بڑے پیمانے پربوگس اعداد و شمار ظاہر کئے گئے ہیں۔ لاہور پولیس کی جانب سے تھانوں میں درج کئے گئے مقدمات کے مطابق رواں سال کے اڑھائی ماہ کے دوران 59 افراد کو دیرینہ عداوت، معمولی رنجش، لین دین کے تنازع، پراپرٹی کے جھگڑے سمیت رشتہ داری کے تنازعات پر موت کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور کے تھانوں میں جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے کے لئے ڈولفن فورس سمیت دیگر یونٹس کی تعیناتی کے باوجود سنگین نوعیت کے واقعات میں کمی نہیں آ سکی۔تھانیداروں نے اعدادوشمار تیار کرتے وقت بوگس ریکارڈ مرتب کیااور اعلیٰ افسران کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ لاہور پولیس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ڈکیتی قتل اور ڈکیتی کے دوران شہریوں سے کروڑوں روپے لوٹ لئے گئے ۔ مزاحمت پر 10 سے زائد شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 3 افراد ڈکیتی مزاحمت پر قتل کر دئے گئے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 79 شہریوں سے کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھینی گئیں ۔ صدر ڈویژن اور سٹی ڈویژن میں موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں بھی 45 فیصد اضافہ بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کئی سال سے چلنے والی دشمنیوں میں کمی کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ اصل حقائق اس کے برعکس ہیں۔ رپورٹ میں بابر سہیل بٹ اور باغبانپورہ میں پراپرٹی ڈیلر کے قتل ، شالیمار میں گل فروش اور شاہدر میں تہرے قتل کے دلخراش واقعات پیش آنے پر متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کی امن و امان کو کنٹرول رکھنے میں ناکامی تو ظاہر کی گئی ہے لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ گاڑیاں و موٹر سائیکلیں چھیننے کے واقعات کو چوری کے جرم میں تبدیل کیا گیا ہے اور چھینا جھپٹی کے واقعات کو دھوکہ دہی اور نوسری بازی میں تبدیل کیا گیا ہے ۔کہ پولیس نے اپنی کارکردگی میں یہ بھی ظاہر کیا گیاکہ قتل و غارت کے متعدد مقدمات میں ملوث نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ڈکیتی قتل اور ڈکیتی کے سات سو سے زائد مقدمات کو ٹریس کر لیا گیا ہے جس میں کروڑوں روپے مالیت کی ریکوری بھی کی گئی ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ آئی جی پنجاب نے سخت نوٹس لیا ہے اور سی سی پی او لاہور سمیت ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سے الگ الگ رپورٹ طلب کر لی ہے۔

مزید :

علاقائی -