ہو کیا رہا ہے؟

ہو کیا رہا ہے؟
 ہو کیا رہا ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ ایک ٹی وی پروگرام کا نام ہے اور کافی دلچسپ ہے، اس پروگرام میں پاناما لیکس پر کہا جا رہا تھا کہ حکومت اور مسلم لیگ(ن) مل کر پاناما کیس کو کیوں الجھا رہے ہیں، سوچنے والی بات ہے کہ جب مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی، محض فیصلے کا انتظار ہے تو پھر ایسے میں کوئی بھی اس کیس کو کیسے الجھااور سلجھا سکتا ہے لیکن ٹی وی پروگراموں اور سوشل میڈیا میں بکھیری جانے والی جعلی دانش سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس وقت عملی طور پر پانامہ کیس کے فیصلے بارے مختلف افواہیں بہت منظم طریقے سے پھیلائی جا رہی ہیں اور ان میں سے مضبوط افواہ یہ ہے کہ فیصلے میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا جائے گا جس کے پاس اپنی فائنڈنگز دینے کے لئے تین سے چھ ماہ کی مدت ہو گی، چیئرمین نیب کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا اور وزیراعظم محمد نواز شریف سے کہا جائے کہ وہ بھی اس مدت کے لئے اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں تاکہ تحقیقات پر اثرانداز نہ ہو سکیں۔ اس فیصلے کی افواہ نما خبر کی مضبوطی میں نے اس طرح جانی کہ مسلم لیگ(ن) کے بہت سارے دوستوں نے بھی اس ایس ایم ایس کو فون یا سوشل میڈیا پر شیئر کیا یا اپنی گفتگو میں اس کا ذکر کیا۔ بات اس سے بھی آگے کی ہو رہی ہے، بہت سارے باخبر کہلانے کے خواہش مند عبوری مدت کے لئے وزیراعظم کا نام بھی بتا رہے ہیں۔


پہلے اس ممکنہ فیصلے کی اطلاع کا جائزہ لے لیتے ہیں کہ کیا وزیراعظم نواز شریف اس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا نام ہی پاناما لیکس میں نہیں،لہٰذا انہیں کیسے فیصلے میں شامل کیا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت ساروں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ فیصلہ قانون کے مطابق نہیں بلکہ حق اور انصاف کے مطابق آنا چاہئے اور انسانی فطرت کا المیہ یہ ہے کہ وہ حق اسی کو سمجھتی ہے جو اس کے اپنی ذات کے حق میں ہوچلیں، ایک لمحے کے لئے تسلیم کر لیتے ہیں کہ افواہ کے طور پر پھیلایا جانے والا فیصلہ درست ہے،ایک تحقیقاتی کمیشن بن جاتا ہے اور وزیراعظم نواز شریف سے مخصوص مدت کے لئے اپنا عہدہ چھوڑنے کے لئے بھی کہہ دیا جاتا ہے مگر یہاں کامن سینس سے کام لینے کی ضرورت ہے جوکامن لوگوں میں تو واقعی کامن نہیں ہوتی کہ کیا نواز شریف اس لئے طاقتور ہیں کہ وہ وزیراعظم ہیں؟ ذرا سوچئے کہ ان کی پارٹی برسرا قتدار ہو اور ان ہی کی منظوری سے کوئی عبوری مدت کے لئے وزیراعظم بنے تو کیا اگر ان کے اثرانداز ہونے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی اگر وہ واقعی کسی کمیشن کی تحقیقات پر اثر انداز ہونا چاہیں ۔ آپ اسے دیوانے کا ایک خواب سمجھ سکتے ہیں جو پہلے بھی دیکھے جاتے رہے ہیں ۔ یہ بات بھی ڈسکس کی جا سکتی ہے کہ کیا مجوزہ فیصلہ مسلم لیگ نون کی سیاسی حیثیت کو متاثر کرے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے کسی فیصلے پر اپوزیشن جماعتیں بالخصوص پی ٹی آئی تو جشن منا سکتی ہے اور اسے اپنی کامیابی قرار دے سکتی ہے مگر اگلے عام انتخابات میں پاناما کیس کا فیصلہ اثر انداز ہو گا یا ملک بھر میں ہونے والے ترقیاتی کام اپنا اثر دکھائیں گے، رائے عامہ جانچنے والے تمام سروے بتاتے ہیں کہ پاناما کیس ملک کے اسی فیصد سے بھی زائد عوام کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔


اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ایسے کسی فیصلے سے جہاں مسلم لیگ (ن) کو سیاسی دھچکا پہنچے گا وہاں وزیراعظم کے عہدے پر آنے والاکوئی بھی رہنما پارٹی پر شب خون مار سکے مگر وہ ماضی کو بھول جاتے ہیں، اگر ایسا کوئی فیصلہ آبھی جاتا ہے تو یقینی طور پر پارٹی پر میاں محمد نواز شریف کی سو فیصد گرفت رہے گی۔آج سے اٹھارہ برس پہلے بھی مسلم لیگ(ن) کو اس وقت تک کامیابی کے ساتھ توڑا نہیں جا سکا تھا جب تک شریف خاندان نے جلاوطنی اختیار نہیں کی تھی، مسلم لیگ کا ہوم گراونڈ پنجاب ہے اور یہاں سلمان تاثیر مرحوم کے ذریعے گورنر راج لگا کر کوشش کی گئی کہ پارٹی میں بغاوت پیدا کی جا سکے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اپنے تئیں بہت زیادہ دانشور اور طاقت ور نظر آنے کی کوشش کرنے والے راجا ریاض نے مال روڈ پر اپنے سرکاری گھر میں بیٹھ کر میرے ہی ایک سوال پر کہا تھا کہ میں تھانے دار اور پٹواری کی طاقت کو نہیں جانتا، وہ ان کے ذریعے گورنر راج لگنے کے بعد ایوان میں اپنی اکثریت کے خواب دیکھ رہے تھے اور حافظ آباد سے تعلق رکھنے والی ایک بی بی کے سوا کسی نے سیاسی حماقت نہیں کی تھی۔ مسلم لیگ(ن) میں بغاوت کے خواب اس وقت بھی دیکھے جا رہے تھے اور ’ ہو کیا رہا ہے‘ کی نسل سے تعلق رکھنے والے پروگراموں میں اس وقت بھی ان ارکان کی تعداد بار بار انکشاف کے طور پر بیان کی جا رہی تھی جو دھرنوں کے وقت پارٹی کو چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھے تھے مگر وہ انکشافات، افواہوں اور خواہشات کے سوا کچھ نہیں تھے۔


اسی ممکنہ فیصلے کی افواہ کے تسلسل میں عبوری مدت کے وزیراعظم کے لئے جن رہنماوں کے نام لئے جا رہے ہیں ان میں شہباز شریف،چودھری نثارعلی خان، اسحاق ڈار اور خواجہ آصف شامل ہیں۔ یہاں دوسری کوئی رائے نہیں کہ یہ خواہشات اور امکانات میں بیان کردہ یہ چاروں نام سول ملٹری ریلیشن شپ میں مسلم لیگ (ن) کے ’ ہاکس ‘کے مقابلے میں ایک مختلف رائے رکھتے ہیں۔افواہ سازوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد یہ بغاوت کر سکتے ہیں اور مجھے یہ کہنا ہے کہ اگر انہوں نے بغاوت ہی کرنا ہوتی تو مشرف کے مارشل لا میں کرجاتے، اس وقت تو ایسی کوئی صورتِ حال ہی نہیں بن رہی کہ یہ وزیراعظم بننے کے بعد اپنی سیاسی جماعت میں طاقت کا مرکز بھی بن جائیں۔ کیا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ آنے کے بعد میاں نواز شریف ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرنے والے ایک سیاسی شہید کے طور پر سامنے آئیں گے، ان کے پاس اپنے ترقیاتی کاموں کا ایک وسیع پروفائل بھی ہو گا اوراس کے بعد ان کے لئے کلین سویپ کرنا اور بھی زیادہ آسان ہوجائے گاکہ افواہوں میں پھیلائے گئے ایسے کسی بھی فیصلے کو کرپشن کے الزامات کی توثیق کی بجائے عوامی مینڈیٹ اور ملکی ترقی کے خلاف سازش کے طو ر پر ہی لیا جائے گا۔


ہو یہ رہا ہے کہ جس وقت وزیراعظم نواز شریف پنجاب میں اپنی مضبوط ہوم گراونڈ کے بعد سندھ ، بلوچستان اور پختونخوا کی وکٹوں پر جا کر کھیل رہے ہیں ایسے میں عمران خان صاحب اپنی مقبولیت کی ہوم گراونڈ کرکٹ میں بھی اپنی بنیادیں کمزور کر رہے ہیں۔ جہاں پھٹیچر اور ریلوکٹے والے بیان نے انہیں مکمل طور پر ایکسپوز کر کے رکھ دیا ہے وہاں میں نے خیبرپختونخوا میں قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس کے علاوہ خان صاحب کوعوامی سہولت کے کسی بھی منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حالانکہ اب ہی وہ وقت آ رہا ہے کہ آپ نے عوامی خدمت کی جو فصل ان تین چار برسوں میں بوئی ہے اسے کاٹنا شروع کریں۔ دوسری طرف یہی حال پیپلزپارٹی کا ہے جس نے ایک مرتبہ پھر سندھ کارڈ کھیلنے کی تیاریاں شرو ع کر دی ہیں۔ یقینی طور پر مراد علی شاہ ، قائم علی شاہ سے بہتر وزیراعلیٰ ہیں مگر وہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی طرف سے آٹھ برسوں کے ضیاع کو پورا نہیں کر سکتے، اب وہ کبھی شرجیل میمن کا مقدمہ لڑتے ہوئے وفاق کے اداروں کا بوریا بستر گول کرنے کے بیانات پر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں یا کالاباغ ڈیم کے مخالف ہونے کے باوجود سندھ میں پانی کی کمی کا رونا رو رہے ہیں۔ ان سے ہمیشہ ہی کہاجاتا رہا ہے کہ ڈیم ایک ٹینکی کی طرح ہوتے ہیں جس میں پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے گھر بناتے ہوئے پانی کی ٹینکی بنائی جاتی ہے اور جب سرکاری پانی آ رہا ہوتا ہے تو اسے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے اور پھر ایسے وقت میں استعمال کیا جاتا ہے جب پانی کی سپلائی رک گئی ہو، مراد علی شاہ سے پوچھا جانا چاہئے کہ کیا یہ کوئی راکٹ سائنس ہے؟


سیاست کے کھیل کوسیاسی اصولوں کے مطابق ہی کھیلا جانا چاہئے، اس کھیل میں کسی بھی کھلاڑی کوآوٹ کرنے کے لئے انتخابات کا میدان ہوتا ہے۔ یہ بات ثابت ہو گئی کہ سیاست دانوں پر کرپشن کے الزامات نے ساٹھ ، ستر برسوں میں سوائے آمریت کے کچھ نہیں دیا لہٰذا اب ہمیں حکومت کے چناؤ کے لئے محلاتی اور ادارہ جاتی سازشوں کی بجائے عوامی خدمت کے راستے پر بھی چل کر دیکھ لینا چاہئے۔

مزید :

کالم -