پاکستان کے اعتراضات تسلیم،بھارت میار پن بجلی منصوبے کے ڈیزائن سے دست بردار ہو گیا

پاکستان کے اعتراضات تسلیم،بھارت میار پن بجلی منصوبے کے ڈیزائن سے دست بردار ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(آئی این پی) پاک بھارت سندھ طاس کمشنروں کے درمیان ہونیوالے دوروزہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق بھارت پاکستان کے اعتراضات پر میار پن بجلی کے منصوبے کے ڈیزائن سے دست بردار ہونے پر راضی ہوگیا جبکہ کلنائی اور پکلدل پن بجلی کے منصوبوں پر پاکستان کے پانی ذخیرہ کرنے اور پانی کے بہاؤ اور دیگر اعتراضات پر آ ئند ہ اجلا س میں جواب دینے پر متفق ہو گیا ۔ سیلاب کے موسم کے دوران بھارت سیلاب کے حوالے سے پیشگی وارننگ جاری کر نے کے حوالے سے پاکستان کے مطالبہ پر غور کرے گا۔منگل کو سندھ طاس کمیشن (انڈس کمیشن) کا 113 واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں بھارت کے مجوزہ میار،لوئرکالنائی ،پاکل ڈل کے پن بجلی کے منصوبوں پر گفتگو کی گئی ۔اجلاس میں سندھ طاس کمیشن کے اجلاس ،معلومات کا تبادلہ اورسندھ طاس کمیشن کے تحت دورے کے انتظامات کے حوالے سے معاملا ت پربھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ میار پن بجلی کے منصوبے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے سندھ طاس کمیشن کے گزشتہ اجلاس میں اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد بھارت منصوبے کے ڈیزائن سے دستبردار ہو گیا جبکہ باقی دو منصوبوں میں سے کلنائی اور پکلدل پن بجلی کے منصوبوں پر پاکستان کے پانی ذخیرہ کرنے اور پانی کے بہاؤ اور دیگر اعتراضات کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔بھارت سے بگلیہار ،سلال ڈیمز سے پانی کے بہاؤکی تفصیلات بھی مانگ لیں ۔بھارت نے پاکستان کی جانب سے اعتراضات پر نظر ثانی کرنے پر اتفاق کیا گیا اور آئندہ اجلاس میں اس کا جواب دے گا ۔بھارت نے پاکستان کے سندھ طاس کمیشن کو منصوبوں کے معائنے کیلئے دورہ کرانے بھی اتفاق کیا جو اگست میں متوقع ہے ۔پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب کے موسم کے دوران بھارت سیلاب کے حوالے سے پیشگی وارننگ جاری کرے ۔بھارت کی جانب سے پاکستان کی اس درخواست پر غور کرنے پر اتفاق کیا گیا اور توقع ہے بھارت آنے والے سیلاب کے سیزن سے اس حوالے سے ضروری معلومات فراہم کرنا شروع کردے گا ۔ واضح رہے کہ کشن گنگا ڈیم اور رتلے پاور منصوبے پر پاک بھارت سیکر ٹری سطح کے مذاکرات عالمی بینک کی ثالثی میں کی11,12اور13 اپریل کو امریکہ میں ہوں گے ۔

مزید :

صفحہ اول -