آج عالمی یوم آب،دنیا بھر میں ایک ارب 80کروڑ افراد ناقص پانی پینے پر مجبور

آج عالمی یوم آب،دنیا بھر میں ایک ارب 80کروڑ افراد ناقص پانی پینے پر مجبور
 آج عالمی یوم آب،دنیا بھر میں ایک ارب 80کروڑ افراد ناقص پانی پینے پر مجبور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن(خصوصی رپورٹ: اظہر زمان )آج 22 مارچ کے روز بین الاقوامی سطح پر ’’عالمی یوم آب‘‘ منایا جارہا ہے جس کا مقصد تازہ اور صاف پانی کی اہمیت پر زور دینا اور دنیا کو تازہ پانی کے ذرائع کے پائیدار انتظام کی طرف راغب کرنا ہے۔ ماحولیات اور ترقی کے حوالے سے 1992ء میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس میں کی جانے والی سفارش کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 22 مارچ 1993ء سے ہر سال ’’عالمی یوم آب‘‘ منانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ 2017ء کیلئے اس عالمی دن کا موضوع ’’پانی کیوں ضائع کیا جائے‘‘ ہے۔ پانی اور اس کے وسائل کو اقوام متحدہ اتنی ترجیح دے رہی ہے کہ دسمبر 2016ء میں جنرل اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے 2018ء سے 2028ء تک کے عرصے کو ایک بین الاقوامی عشرے کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا موضوع ’’پائیدار ترقی کیلئے پانی کے حصول کیلئے عمل‘‘ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ دور میں آبی ذخائر کتنی اہمیت کے حامل ہو جائیں گے۔ اسی بنا پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ ماہ جنیوا میں ہونے والی کانفرنس میں صاف پانی کے حصول کی منصوبہ بندی اور تنظیم کیلئے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جو آبی ذخائر کے حوالے سے منائے جانے والے عشرے کے تحت عملی کارروائیوں کی نگرانی کرے گا۔اس وقت جس انداز سے عالمی ماحول خراب کیا جا رہا ہے اس سے صاف پانی بھی بتدریج گدلا ہو رہا ہے اور ہماری منفی عادات اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث آبی ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے اسی لئے پانی کو بچانے کا شعور پیدا کرنے کیلئے عالمی سطح پر کوششوں کا آغاز ہو رہا ہے۔ پانی کی فراہمی اور نکاس کیلئے عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے مشترکہ مانیٹرنگ پروگرام کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت کم از کم ایک ارب اسی کروڑ افراد ناقص اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں اور اس سے بھی زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جن کو ملنے والا پانی صفائی کے اصولوں کے برعکس کھلے جوہڑوں میں ملتا ہے جس کو پینے سے پیٹ اور جگر کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا میں پانی کی بتدریج کمی سے ڈرانے کیلئے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آئندہ ہونے والی عالمی جنگ پانی کے مسئلے پر لڑی جائے گی لیکن یہ ضروری ہے کہ دنیا ترقی کے نئے نئے افق دریافت کرنے کے باوجود تیسری عالمی جنگ لڑے اور کیا یہ ضروری ہے کہ دنیا بھر کے عوام آبی مسائل پر جھگڑنے کی بجائے آبی ذخائر کو محفوظ بنانے پر توجہ نہ دیں۔ فی الوقت آبی تنازعات یقیناًموجود ہیں لیکن انہیں جنگ میں بدلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ آبی ذخائر ایک دوسرے سے چھیننے کیلئے جنگیں لڑی جائیں۔ اس کی بجائے ماحول کو سازگار بناکر وسائل کو محفوظ بناکر ذخائر میں اضافہ کی ترکیبیں سوچی جائیں۔ جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان مختلف تنازعوں کی بناء پر اب تک تین جنگیں لڑچکے ہیں۔ متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ان کے درمیان دریاؤں اور آبی ذخائر کی بھی تقسیم ہوئی اور آبی تنازعات شروع ہوئے۔ خدا کا شکر ہے کہ ان تنازعات نے جنگ کی صورت اختیار نہیں کی اور ان کے درمیان معاہدہ موجود ہے جس پر عملدرآمد پر تنازعہ ہوتا رہتا ہے اور اس تحریر کے وقت بھی ان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک اپنے آبی تنازعوں کو خوش اسلوبی سے حل کرکے ان پر جنگ لڑنے سے احتراز کریں گے۔ پاکستان اور بھارت کو شمالی پہاڑوں سے چھ دریا پانی فراہم کرتے یں جن پر کنٹرول کرنے کیلئے 1960ء میں صدر ایوب اور وزیراعظم جواہر لال نہرو کے درمیان تاشقند میں سندھ طاس معاہدہ طے ہوا تھا جس کے مطابق سندھ، چناب اور جہلم کا کنٹرول پاکستان کو اور راوی، ستلج اور بیاس کا کنٹرول بھارت کو ملا تھا۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ ان دریاؤں میں پانی کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو اقوام متحدہ کے تعاون سے سمجھوتہ طے ہوا اور نقطہ آغاز کے قریب کسی ملک کو ایک حد سے زیادہ ڈیم بناکر پانی کی سپلائی محدود کرنے کا اختیار نہ ہو۔ اب بھارت کشن گنگا اور چناب کے دریاؤں پر جو دو ڈیم تعمیر کر رہا ہے اس میں پانی کے ذخیرے کی حد معاہدے سے تجاوز کرتی ہے۔ چونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اس لئے دنیا کو تشویش ہے کہ ان کے درمیان آبی تنازعہ جنگ کی صورت اختیار کرگیا تو اس میں ایٹمی ہتھیار نہ ہو جائیں۔جنوبی ایشیا کے علاوہ پانی کے وسائل پر تنازعات کا سب سے زیادہ خطرہ مشرق وسطیٰ اور مشرق قریب کے ممالک سے ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی آبی تنازعہ ہے کیونکہ اسرائیل میں داخل ہونے والے آبی دریاؤں کا منبع لبنان میں ہے۔ اسی طرح ترکی دجلہ اور فرات کے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس پر شام اور عراق کو اعتراض ہے کہ ان تک پہنچنے والا پانی کم ہو جائے گا۔ دریائے نیل کے پانی کے استعمال پر مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے درمیان تنازعہ جاری ہے۔

مزید :

صفحہ اول -