رفیق غارؐ۔۔۔حضرت سید نا ابو بکر صدیقؓ کے اوصاف حمیدہ!

رفیق غارؐ۔۔۔حضرت سید نا ابو بکر صدیقؓ کے اوصاف حمیدہ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


دنیا جب سے بنی ہے کائنات میں اتنی بڑی آزمائش نہیں آئی جتنی خاتم الانبیاء کی وفات کے دن پیش آئی۔ آفتاب و ماہتاب اشکبار، جن و انس مضطرب ، مدینہ طیبہ کے درو دیوار سے حزن و ملال کی آہیں ، اہل اسلام کا وہ کون سا فرد ہے جو حسرت و یاس کے عالم میں معطل حواس کے ساتھ رنجیدہ خاطر نہ ہو کہ کائنات کے ہادی اعظمؐ نے پردہ فرما لیا۔ اللہ کے آخری نمائندے نے اپنے پہلے نمائندے کو اپنا اثاثہ ،سرمایہ اور اپنی امت سپرد کر دی ۔ بیت اللہ کو بسانے والے نبی کے اہل بیتؓ جاں بلب ہیں ،صحابہ کرامؓ رنج و گریہ کے عالم میں جدائی محبوب سے زمین میں گڑے جا رہے ہیں ،سوگوار فضاء میں اسلام ، اہل اسلام ، اسلامی ریاست اور حالات کو سنبھالتے ہوئے افضل البشر بعد الانبیاء کی ایمان افروز صدا گونجی۔۔۔ترجمہ: آپ پر جو ایک موت آنی تھی سو وہ آگئی۔ اب دوبارہ )قبر میں(آپ کو کبھی موت نہیں آئے گی ۔ بلکہ حیات ہی حیات حاصل رہے گی ۔گویا ان الفاظ سے امت کو یہ تسلی دی کہ ہمارا اور نبوت کا رشتہ بالکلیہ ختم نہیں ہوا بلکہ آپ کی رحمت اور گناہگاروں کے لیے استغفاراور دعاوالاسلسلہ جوں کا توں قیامت تک باقی رہے گا۔اور پرنم بوجھل پلکوں اورفراق یار سے معموربوجھل سینے سے امت کی رہنمائی کے بوجھ کو اٹھانے کا عہد کیا ۔یہ عہد کرنے والے رسول اللہ کے پہلے خلیفہ ، امیر المومنین سیدنا ابو بکر صدیق ؓ ہیں ۔
ولادت :
آپ کی ولادت واقعہ فیل سے تین سال بعد 573ء میں ہوئی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ دو سال چند ماہ چھوٹے ہیں ۔
نام مبارک اورنسب:
امام زرقانی نے شرح المواہب میں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبد رب الکعبہ تھا ۔ امام قرطبی کے بقول حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام عبداللہ تجویز فرمایا۔
تاریخ کی کتب میں مذکور ہے کہ آپ کے والد ماجد ابوقحافہ کانام "عثمان" تھا ،جن کا تعلق بنوتیم قبیلہ سے تھا اور نسب مبارک اس طرح ہے ۔ ابوقحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر القرشی التیمی۔جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام "ام الخیر سلمی" تھا ، ان کا نسب مبار ک اس طرح ہے ۔ سلمیٰ بنت صخر بن عمر وبن کعب بن سعد بن تیم ۔
کنیت:
کنیت ابوبکر ہے ۔ جس کے معنی سبقت کرنے ،پہل کرنے والے کے ہوتے ہیں چنانچہ آپ ہر خیر کے کام میں سبقت فرمایا کرتے ۔ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا ، دین اسلام کی اشاعت میں سب سے پہلے اپنا مال خرچ کرنے کی سعادت حاصل کی۔
عتیق و صدیق:
یہ دو آپ کے القاب ہیں۔ امام ترمذی نے اپنی سنن میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی ایک روایت ذکر کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں حاضر ہوئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم من جانب اللہ جہنم کی آگ سے آزاد(محفوظ)ہو اسی دن سے آپ کو عتیق کہا جانے لگا ۔
مستدرک میں امام حاکم میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہا ، اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کروگے ؟ ، انہوں نے دعوٰی کیا ہے "راتوں رات بیت المقدس کی سیر کر کے آئے ہیں"ابوبکر صدیق نے کہا:"بیشک آپ نے سچ فرمایا ہے ، میں تو صبح وشام اس سے بھی اہم امور کی تصدیق کرتا ہوں"۔ اس واقعہ سے آپ کا لقب صدیق مشہور ہوگیا۔
حلیہ مبارک :
تاریخ کی کتب میں آپؓکے حلیہ مبارک کی کچھ اس طرح منظر کشی کی گئی ہے کہ آپ کا رنگ سفید ، رخسار ہلکے ہلکے ، چہرہ باریک اور پتلا ، پیشانی بلند ۔
بچپن :
ارشاد الساری اور مرقاۃمیں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرماتھے تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے اپنے بچپن کا واقعہ سناتے ہوئے فرمانے لگے کہ یارسول اللہ ! میرے والدزمانہ جاہلیت میں مجھے صنم کدے لے گئے اور بتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کہا یہ تمہارے خدا ہیں انہیں سجدہ کر۔ وہ تو یہ کہہ کر باہر چلے گئے ۔ تو میں نے نے بتوں کو عاجز ثابت کرنے کے لیے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے ۔وہ کچھ نہ بولا ۔فرمایا :میں ننگا ہوں مجھے کپڑا پہنا ۔وہ کچھ نہ بولا ۔صدیق اکبرؓنے پتھر ہاتھ میں لیکر فرمایا میں تجھ پر پتھر مارتا ہوں اگر تو خدا ہے تو اپنے آپ کو بچا ۔وہ پھر بھی کچھ نہ بولا تو آخر کار میں نے پوری قوت سے اس کو پتھر دے مارا تو وہ منہ کے بل گر پڑا ۔ عین اسی وقت میرے والد واپس آئے ۔یہ ماجرا دیکھ کر فرمایا کہ یہ کیا کیا؟ میں نے کہا وہی جو آپ نے دیکھا ۔ وہ مجھے میری والدہ کے پاس لیکر آئے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا اس بچے سے کچھ نہ کہو کہ جس رات یہ پیدا ہوئے میرے پاس کوئی نہ تھا میں نے ایک آواز سنی کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: اے اللہ کی بندی! تجھے خوشخبری ہو اس آزاد بچے کی جس کا نام آسمانوں میں صدیق ہے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دوست ہے۔
آپ کے بچپن سے متعلق تاریخ الخلفاء میں ہے کہ ایک بار صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے حضرت ابو بکر صدیقؓ سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے جاہلیت میں شراب پی ہے؟آپ نے فرمایا خدا کی پناہ میں نے کبھی شراب نہیں پی ۔لوگوں نے کہا کیوں؟فرمایا میں اپنی عزت و آبرو کو بچاتا تھا اور مروت کی حفاظت کرتا تھا ۔اس لئے کہ جو شخص شراب پیتا ہے اس کی عزت و ناموس اور مروت جاتی رہتی ہے ۔جب اس بات کی خبر حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے دو بار فرمایا سچ کہا ابو بکر نے سچ کہا۔
مبارک خواب :
سیرت حلبیہ میں ہے کہ آپؓ بغرض تجارت شام تشریف لے گئے وہاں آپ کی ملاقات بحیرا راہب سے بھی ہوئی وہ خوابوں کی تعبیر بتلایا کرتے تھے ۔ ان سے اپنا خواب ذکر کیا کہ میں نے خواب دیکھا کہ مکہ میں کعبۃ اللہ کی چھت پر چاند اترا ہے اور اس کی روشنی سارے گھروں میں پھیل گئی ہے پھر وہ روشنی میری گود میں آگئی ہے ۔ تو بحیرا راہب نے تعبیر دیتے ہوئے کہا کہ تو اس نبی کی تابعداری کرے گا جس کا اس زمانے میں انتظار کیا جا رہا ہے اور اس کے ظہور کا زمانہ بہت قریب آچکا ہے تو اس نبی کے قرب کی وجہ سے لوگوں میں سب سے سعادت مند ہوگا ۔
ایمان :
خصائص الکبریٰ اور ریاض النضرہ میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے شام میں خواب دیکھا ۔اس کی تعبیر بحیرا راہب سے پوچھی تو اس نے کہا کہ تیری قوم میں ایک نبی مبعوث ہوگا تو اس کی زندگی میں اس کا وزیر ہوگا اور اس کی وفات کے بعد اس کا خلیفہ ہوگا ۔ سیدنا صدیق اکبرؓنے اس بات کو اپنے دل میں چھپائے رکھا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی سے اس پر دلیل مانگی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اس کی دلیل وہ خواب ہے جو آپ نے شام میں دیکھا تھا ۔چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا۔
مقام نگاہ نبوت میں :
آپ کا مقام نگاہ نبوت میں بہت بلند تھاحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی چیز ایسی اللہ تعالی نے میرے سینہ میں نہیں ڈالی جس کو میں نے ابو بکر کے سینہ میں نہ ڈال دیا ہو۔
صحیح مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا 148وہ کون شخص ہے جس نے آج روزہ رکھ کر صبح کی ہو ؟ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا وہ کون ہے جو آج جنازہ کے ساتھ گیا ہو ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیامیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا !وہ کون ہے جس نے آج مسکین کو کھا نا کھلا کر تسکین دی ہو ؟ ابو بکرؓ نے عرض کیا کہ میں نے !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا ، وہ کون آدمی ہے جس نے آج کسی بیمار کی خبر گیری کی ہو ؟ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ، میں نے !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ، یہ کام اُسی آدمی میں جمع ہوتے ہیں جو جنت میں جائے گا۔
صحبت و معیت:
قبول اسلام سے پہلے بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت عمدہ تعلقات تھے اور قبول اسلام کے بعد تو ساری زندگی آپ سے لمحہ بھر کے لیے جدا نہ ہوئے ۔ یہاں تک کہ آج تک روضہ مبارکہ میں آپ کے پہلو میں ساتھ نبھا رہے ہیں ۔
ہجرت :
سیرت کی تمام معتبر کتابوں میں ہجرت کا واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے مختصراً یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہے بعض خوش نصیب افراد نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کر لیا لیکن اکثر اپنی سرکشیوں کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے رفقاء کار کو طرح طرح کی تکالیف دیتے چنانچہ اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم نازل ہوا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطر سفر میں اپنے رفیق سفر کا جب انتخاب فرماتے ہیں تو آپ کی نگاہ سیدنا صدیق اکبرؓ پر جا کر ٹھہرتی ہے ۔ اسی سفر میں وہ واقعہ بھی پیش آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر سوار ہو گئے اور چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر غار ثور تک پہنچے ۔ غار کی صفائی کی، آپ تین دن تک وہاں رہے ۔ آپ کی بیٹی روزانہ لوگوں کی نظروں سے بچ بچا کر آپ کے لیے کھانا پہنچاتیں۔ دشمن آپ کی تلاش میں پیچھے پیچھے غار تک پہنچ گیا ۔ یہاں تک کے اس کے قدم بھی دکھائے دینے لگے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم کے بارے میں خوف ہوا تو تسلی کے لیے قرآن کی آیات نازل ہوئیں مزید سیدنا صدیق اکبرؓ کی صحابیت کا اعزاز بھی اپنے سینے پر تاقیامت نقش کردیا ۔اس غار میں وہ سانپ کے ڈسنے والا واقعہ بھی پیش آیا۔ جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن سیدنا صدیق اکبرؓ کی ایڑھی مبارک پر لگایا ۔
خلافت :
سیرت حلبیہ اور دیگر کتب سیرت میں موجود ہے کہ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اس لیے اتفاق کر لیا تھا کہ اس آسمان کے نیچے ابو بکرؓ سے بہتر اور کوئی شخص نہیں تھا۔
امام شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی معروف کتا ب 148ازالۃ الخفاء 148 میں خلافت کے مفہوم پرنہایت ہی عمدہ اور لطیف بحث کی ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے :148 حضرت سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام تھی اور آپ تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے واسطے مبعوث ہو ئے تھے۔ بعد بعثت آپ نے جن امور کا اہتمام کوشش بلیغ کے ساتھ فرمایا133تمام کوششوں کا مرجع اقامت دین تھی 133 علوم دین کا احیاء قائم رکھنا اور رائج کرنا ) علومِ دین سے مراد ہے قرآن و سنت کی تعلیم اور وعظ و نصیحت ، ارکانِ اسلام نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کا قیام و استحکام ، لشکر کا تقرر، غزوات کا اہتمام ، مقد مات کا انفصال ، قاضیوں کا تقرر ، امر با لمعروف و نہی عن المنکر جو حکامِ نائب مقرر ہوں ان کی نگرانی کہ پا بندِ حکم رہیں اور خلاف ورزی احکام نہ کریں ان جملہ امور کا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ نفسِ نفیس فر ما یا اور ان کے انصرام کے واسطے نا ئب بھی مقرر ہوئے۔ 9ہجری میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا ، غزوات کی سپہ سا لاری خود کی نیز اُمراء نائب سے یہ کام لیا گیا، مقد مات و معاملات کے فیصلے کیے گئے، قاضیوں کا تقرر عمل میں آیاوغیرہ وغیرہ۔ گویا خدائی احکامات کو نبوی منہج کے مطابق نافذ کرنے کا نام خلافت ہے ۔
خاندان نبی کا خیال :
خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا بہت زیادہ خیال فرمایا ۔ ان کی تمام معاشی و معاشرتی ضروریات کو پورا کیا ۔یہ ایسی عظیم الشان حقیقت ہے کہ تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی تمام معتبر کتب اس بات پر گواہ ہیں ۔
خلافت کے بعد ابتدائی خطبہ:
امام ابن سعد نے طبقات اور امام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین و تدفین سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے دن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت عام ہوئی ۔ اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شاندار فقید المثال خطبہ دیا :حمد وثنا کے بعد فرمایا: ’’لوگو!میں آپ لوگوں پر ولی منتخب کیا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہترین نہیں ہوں ۔ اگر میں اچھی بات کروں تو تم میرا ساتھ دینا اگر میں خطا کروں تو میری غلطی درست کرا دینا۔ سچائی ایک امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تم میں جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے میں اس کا حق ضرور دلواؤں گا۔ اور جو تم میں سے قوی ہے میرے ہاں کمزور ہے میں اس سے پورا حق وصول کر وں گا۔ جو قوم بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ترک کر دیتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ ذلت و رسوائی ڈال دیتے ہیں اور جو قوم علانیہ برائیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اللہ تعالی ان پر مصائب و تکالیف مسلط کر دیتے ہیں ۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کروں تم میری بات ماننا اور جب میں خدا اور رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں اللہ تم پر رحم فرمائے اب نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔ ‘‘
ریاستی ذمہ داریاں:
تمام تاریخ نویسوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضر ت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد ریاستی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ۔امن و آشتی ، عدل و انصاف ،خوشحالی و ترقی گھر گھر تک پہنچائیں،معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
نمایاں کارنامے :
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بے شمار کارنامے ایسے ہیں جن پر رہتی دنیا تک ناز کیا جائے گا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مختلف ایسے فتنے رونما ہوئے جو اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے تھے ۔ ان میں مدعیان نبوت کا فتنہ سر فہرست ہے ۔یمن میں اسود عنسی ، یمامہ میں مسیلمہ کذاب ، جزیرہ میں سجاح دختر حارث ، بنو اسد و بنو طی میں طُلیحہ اسدی نے نبوت کے دعویٰ داغ دیے ۔ختم نبوت کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا کہ جس کے لیے مصلحت اختیار کر لی جاتی ۔ بلکہ یہ تو اسلام کے اساسی و بنیادی عقائد میں شامل ہے ۔ اس لیے اس فتنے کے خلاف سیدنا صدیق اکبرؓ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور لشکر اسلامی کو بھیج کر ان کا قلع قمع کیا۔ فتنہ مانعین زکوٰۃ نے سر اٹھایا، آپ نے اس فتنے کا پوری قوت اور جوانمردی سے مقابلہ کیا اور برملا فرمایا کہ جو عہد نبوی میں زکوٰۃ دیتا تھا اور اب اگر اس کے حصے میں اونٹ کی ایک رسی بھی زکوٰۃ کی بنتی ہے وہ نہیں دیتا تو میں اس سے قتال کروں گا۔
عراق کے بہت سے مضافات آپ نے فتح کیے ۔ خورنق ، سدیر اور نجف کے لوگوں سے مقابلہ ہوا ۔ بوازیج ، کلواذی کے باشندوں نے مغلوبانہ صلح کی ۔ اہل انبار سے کامیاب معرکہ لڑا گیا ، عین التمر میں اسلام کو غلبہ ملا ، دومۃ الجندل میں اہل اسلام کامیاب ہوئے ، اس کے بعد حمید، فضیع اور فراض پر اسلامی لشکر فتح و نصرت کا پرچم لہراتا گیا۔ لشکر صدیقی نے شام میں رومیوں کو ناکوں چنے چبوائے ۔
جمع قرآن کی خدمت بھی آپ کے مبارک دور کی یادگار ہے ۔ قیامت کی صبح تک آنے والے ہرشخص پر آپ رضی اللہ عنہ کا احسان موجود ہے جتنے بھی لوگ قرآن پڑھتے رہے، پڑھ رہے ہیں یا آئندہ پڑھیں گے ان کے ثواب میں سیدنا صدیق اکبرؓ برابر کے شریک ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ تصوف یعنی سلوک و احسان کے سلسلہ نقشبندیہ میں آپ کی حیثیت بہت قابل قدر ہے ۔آپ کی علمی خدمات بھی موجود ہیں چنانچہ ایک قول کے مطابق ایک سوبیا لیس حدیثیں بہ روایت حضرت ابو بکر صدیق ؓ مر وی ہیں۔ جن کو امام جلال الدین سیو طی نے 148تاریخ الخلفاء 148 میں ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔
وفات :
بالآخر وہ وعدہ وفا ہونے کا وقت آن پہنچا کہ ہر ذی روح موت کا پیالہ ضرور پیے گا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا جانثار و فادار صحابی اور پہلا خلیفہ13 ہجری جمادی الثانی کے ساتویں دن بیمار ہوئے اور 15 دن علیل رہ کر 22 جمادی الثانی مغرب اور عشاء کے درمیان فراق یار کو خیر باد کہہ کر وصال یار کے لیے عازم سفر ہوئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
وصیت اور تدفین:
الشریعہ میں امام آجری نے نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ جب میں فوت ہوجاؤں تو مجھے روضہ رسولؐ کے سامنے رکھ دینا اور عرض کرنا کہ آپ کا غلام آیا ہے اگر اجازت مل جائے تو وہاں دفن کرنا، ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا ۔ وصیت کے مطابق آپ کی میت کو روضہ رسول ؐکے سامنے رکھا گیا ۔تفسیر کبیر میں امام رازی رحمۃ اللہ نے نقل کیا ہے کہ یوں عرض کی گئی : یارسول اللہ آپ کاغلام ابو بکر سامنے حاضر ہے ۔ چنانچہ قبر مبارک سے آواز آئی محب کو محبوب تک پہنچا دو ۔ چنانچہ آپ کو روضہ رسول میں ہی دفن کیا گیا ۔***

مزید :

ایڈیشن 1 -