اسلام آباد میں آج مسلح افواج کی شاندار پریڈ، یوم پاکستان جوش و خروش سے منایا جائے گا

اسلام آباد میں آج مسلح افواج کی شاندار پریڈ، یوم پاکستان جوش و خروش سے منایا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سیاسی ڈائری
اسلام آباد سے ملک الیاس
ملک بھر میں یوم پاکستان23مارچ کل پورے قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں مسلح افواج کی پریڈ ہوگی جس کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، گزشتہ روز فل ڈریس ریہرسل بھی کی گئی جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس دن ایک بجے تک بند رہی جبکہ سکیورٹی کے پیش نظرمتعدد سڑکیں بھی بند رکھی گئیں اس سلسلے میں ایک روز پہلے ہی ٹریفک پلان جاری کردیا گیا تھا ایکسپریس وے کھنہ پل سے زیروپوائنت تک،مری روڈ فیض آباد سے راول ڈیم چوک تک اور کشمیر ہائی وے زیروپوائنٹ سے ڈھوکری چوک تک بند رہی تاہم میٹرو بس سروس معمول کے مطابق رواں دواں رہی،تاہم رات 12 بجے سے دوپہر ایک بجے تک اسلام آباد میں بھاری ٹریفک کا داخلہ بھی بند کردیاگیا ،ٹریفک پولیس حکام نے کل ہونیوالی مسلح افواج کی پریڈ کے حوالے سے ٹریفک پلان بھی جاری کردیا ہے جس کے تحت پریڈ گرانڈ کو آنے والے راستے جزوی طور پر بند ہوں گے، پولیس نے پریڈ میں آنے والوں کے لیے ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق پریڈ میں شرکت کرنے والوں کو قومی شناختی کارڈ اور دعوتی کارڈ ہمراہ لانا ہوگا جب کہ مشکوک افراد یا اشیا کی موجودگی پر عوام 15،1135اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 1915پر اطلاع دے سکتے ہیں۔
سینٹ کے حالیہ جاری اجلاس میں افغانستان سے پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر بحث کی گئی،اس حوالے سے سینیٹر سحر کامران اور دیگر ارکان کی جانب سے تحاریک پیش کی گئی تھیں جس پر وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا بحث سمیٹنے ہوئے کہنا تھا کہ دہشتگردی کے نیٹ ورک اب سرحد پار ہیں‘ ان کے سہولت کاروں اور ہیلپرز کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں‘ کسی دہشتگرد تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں‘ فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کے رہنما تنظیم کے کالعدم ہونے کے بعد اسی طرح قانونی کارروائی کا سامنا کرتے ہیں جس طرح دہشتگرد‘ لیکن ان کے پیروکاروں اور کارکنوں، جن پر کوئی الزام نہیں ہوتا‘ کے خلاف کارروائی کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے‘ میری ایک غیر ارادی ملاقات پر بہت شور کیا گیا‘ جب کالعدم تنظیموں کے رہنما سابق صدر اور وزراء سے ملتے تھے تب کوئی نہیں بولتا تھا‘ پاکستان کو درپیش زندگی اور موت کے مسئلے پر ہمیں مل کر پیش رفت کرنی ہے‘ یہ مشترکہ ذمہ داری ہے‘ سیکیورٹی کے مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے انکا کہنا تھا کہ اب تک کی کامیابیاں ہمارے مل کر کام کرنے سے ہوئی ہیں۔ مشترکہ کاوشوں سے ہم جو تھوڑا سفر رہ گیا ہے اس کو بھی طے کرلیں گے۔
اسی حوالے سے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف کاکہنا تھا کہ افغان سرحد سے صرف پاکستان اور افغانستان میں تجارت نہیں ہوتی بلکہ یہ تجارت وسط ایشیائی ریاستوں تک جاتی ہے، ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرحد کھولی ہے تاکہ ہمارا کوئی بھائی بھوکا نہ رہے تاہم اگر افغانستان کی طرف سے دہشت گردی ہوئی تو سرحد دوبارہ بند کر دیں گے بارڈر مینجمنٹ کے معاملہ پر افغانستان ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، افغانستان کے ساتھ ملحقہ بارڈر کو کھلا نہیں چھوڑ سکتے، ہم نے بارڈر بند کرنے کے بعد اپنے علاقہ کا آڈٹ کر لیا ہے اور بچے کھچے دہشت گردوں کا بھی خاتمہ کر لیا ہے، اب دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے بارڈر کا مستقل حل نکالنا ضروری ہے ہمارا واضح مؤقف ہے کہ ہم اپنے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے بھی پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کی انکا کہنا تھا کہ دہشت گردی و سیکورٹی مسائل کی بنیاد پر پاک۔افغان طورخم بارڈر کو بند کیا گیا، افغانستان کو دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ملک کی سلامتی و دہشت گردی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، آج پاکستان نے انسانی ہمدردی کے طور پر بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے طورخم بارڈر کو دوبارہ کھولا ہے، افغانستان بھی اسی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو روکنے کے لئے جامع اقدامات کرے، افغانستان پاکستان میں دہشت گردی کے راستے روکے اور تمام سہولت کاروں اور دہشت گردوں کا اپنی سرزمین سے خاتمہ کرے بارڈر بند ہونے کی وجہ سے کاروباری طبقہ کو نقصان ہو رہا تھا جس کی وجہ سے حکومت نے اپنی بزنس کمیونٹی کے مسائل کے خاتمہ کیلئے پاک افغان طورخم بارڈر کو دوبارہ کھولا ہے۔
سینیٹ میں پاکستان نیوی کو 37 ممالک کے اشتراک سے بین الاقوامی بحری امن مشقوں کے کامیاب انعقاد پر خراج تحسین پیش کرنے اور اسلام آباد میں نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں ورکنگ آورز فیس اور دیگر چارجز کو منضبط کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرنے کی قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں ورکنگ آورز فیس اور دیگر چارجز کو منضبط کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔ حکومت نے مخالفت نہیں کی۔ ایوان بالا نے قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان پاکستان نیوی کو پاکستان میں 37 ممالک کے اشتراک سے سب سے بڑی بین الاقوامی بحری امن مشقوں کے کامیاب انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ حکومت نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ ایوان بالا نے قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔
سی ڈی اے مزدور یونین اور سینی ٹیشن سی بی اے کمیٹی کے زیر اہتمام شعبہ صفائی کی نجکاری اور انوائرمنٹ ملازمین کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ چیئرمین آفس کے مین گیٹ پر کیا گیا ،احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں محنت کشوں نے شرکت کی ،شعبہ صفائی کی نجکاری کے خلاف مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین ،صدر اورنگزیب خان ،چیئرمین راجہ شاکر زمان کیانی ،سپریم ہیڈ صوفی محمود علی سمیت مزدور یونین کے دیگر قائدین نے ملازمین کے اجتماع سے خطاب کیا ،چوہدری محمد یٰسین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اگر سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کا فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو 23مارچ کے بعد مزدو ریونین نہ صرف احتجاج کا دائرہ کار پورے سی ڈی اے تک پھیلادے گی بلکہ سی ڈی اے کے ہزاروں محنت کشوں کے حقوق کی بقاء کے لئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی ،ہم ٹھیکیداری نظام کو پہلے بھی مسترد کر چکے ہیں اور اس فرسودہ نظام کے خلاف اپنی جدوجہد سڑکوں اور عدالتوں میں جاری رکھیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -