سول ہسپتال ملتان میں نئی وارڈ کا افتتاح، بہاولپور میں خواتین یونیورسٹی کا کانووکیشن اکادمی ادبیات کا ریجنل دفتر، گورنر رفیق رجوانہ کی بھرپور مصروفیات

سول ہسپتال ملتان میں نئی وارڈ کا افتتاح، بہاولپور میں خواتین یونیورسٹی کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے صحت اور تعلیم کی مفت سہولتوں کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب کی طرف سے اس ضمن میں کئے جانے والے اقدامات کو سراہا اور کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اس فرض کو نیک نیتی کے ساتھ بخوبی سر انجام دے رہے ہیں اسی طرح وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی ملک بھر میں 45 بڑے ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے ہیں ۔ ملتان میں بھی دو بڑے ہسپتال بنیں گے اور تقریباً 2 ہزار بستروں کا اضافہ ہو گا جو آئندہ 100 سال کے لئے کافی ہیں جبکہ ان ہسپتالوں کے ساتھ میڈیکل کالج بھی بنیں گے انہوں نے یہ بات ملتان کے سول ہسپتال میں مقامی تاجر اظہر بلوچ اور ظفر بلوچ کی طرف سے اپنی والدہ کے نام پر تعمیر ہونے والے وارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور اس تقریب میں موجود مخیر حضرات سے اپیل بھی کی کہ وہ مختلف فلاحی منصوبوں کے لئے دل کھول کر عطیات دیں کیونکہ یہ آخرت سنوارنے کا ایک ذریعہ اور رہتی دنیا تک نیک نامی کا سبب بھی ہے۔
قبل ازیں گورنر پنجاب نے بہاولپور میں گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شرکت کی اور اپنے صدارتی خطاب میں زیور تعلیم سے آراستہ طالبات کو ملک کی مستحکم سماجی و معاشی ترقی کا ضامن قرار دیا اور کہا کہ جدید علوم و فنون میں مہارت رکھنے والی نوجوان نسل کی آنکھوں میں سنہرے مستقبل کی چمک در حقیقت جدید، متمدن اور ترقی یافتہ پاکستان کے سہانے مستقبل کی شبیہ ہے اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے والی طالبات ملک کی ترقی و خوشحالی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گی کیونکہ علم نور ہے اور طالب علموں کو علم و حکمت اور دانائی کی دولت سے مالا مال کر کے مستقبل کے چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت عطا کرتا ہے انہوں نے اس ادارے کے قیام کے لئے سابق حکمران ریاست بہاولپور نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کی تعلیمی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا واضح رہے کہ 2012 میں یونیورسٹی کا درجہ پانے والے اس ادارے کا یہ پہلا کانووکیشن تھا جس کے لئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت افزا نے اہم کردار ادا کیا۔گورنر پنجاب نے ملتان میں اکادمی ادبیات کے ریجنل دفتر کا بھی افتتاح کیا جس کے لئے وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی اور چیئر مین قاسم بگھیو بھی خصوصی طور پر یہاں آئے تھے گورنر نے اکادمی ادبیات کے ریجنل دفتر کے قیام پر مقامی ادیبوں اور شعراء حضرات کو مبارکباد دی مگر دوسری طرف یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ گذشتہ دو تین مرتبہ موخر ہونے والی اس افتتاحی تقریب کے تمام تر اخراجات اکادمی ادبیات کے فنڈز کی بجائے مقامی ’’صنعت کار‘‘ سے کرائے گئے جو آج کل ہر تقریب میں کسی نہ کسی بہانے سے کوئی نہ کوئی چیز عطیہ کر دیتا ہے اس آفس کی تزائین و آرائش اور افتتاحی تقریب کے اخراجات بھی موصوف نے ہی ادا کئے ہیں اس لئے افتتاحی تقریب میں بھی وہ سٹیج پر کم از کم اسی دھرتی سے تعلق رکھنے والے ادب کے بڑے ناموں کے ساتھ موجود رہے اب ’’ادب‘‘ کیا ہو گا یہ تو محترم رجوانہ، محترم بگھیو یا پھر اسٹیج پر براجمان ’’نامور‘‘ ادیب، دانشور اور شعراء کرام ہی بتا سکتے ہیں کہ ’’دھنیا‘‘ کیا ہوتی ہے اس پر اظہار دکھ کیا جائے یا خوش ہوا جائے اس کے لئے ایک الگ تحریر کی ضرورت ہے۔
ملک کے سینئر اور بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک مرتبہ پھر ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے بغیر ملک کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور انتظامی طور پر ملک کمزور ہو گا مجلس شہریان کی طرف سے ملتان اخبار فروش یونین کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب سے خطاب میں انہوں نے اس امر کا اظہار بھی کیا کہ وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حامی ہیں لیکن یہ صوبہ انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہیے، تقریب سے اخبار فروش یونین کے نو منتخب عہدیداروں ملک عرفان اترا، ملک مختار احمد اور اخبار فروش فیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری شیخ عمر دین اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام نے بھی خطاب کیا سید فخر امام نے اپنے خطاب میں سیاست کو مفاد پرست قرار دیا اور حکمرانوں پر کڑی تنقید بھی کی اور کہا حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہو گئی ہیں اور موجودہ حالات انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں کہ ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ شیخ عمر دین نے اپنے خطاب میں جنوبی پنجاب کے اخبار فروشوں کے لئے ویلفیئر فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ اخبار فروشوں کے لئے حکومت سے رہائشی کالونی کے لئے مطالبہ بھی کیا جائے گا جس کی تائید تمام مقررین نے کی، اب اخبار فروشوں کو حکومت کیا مراعات دیتی ہے اور کیا رہائشی کالونی کا مطالبہ بھی مانتی ہے کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا ۔
یہ بات بڑی اہم ہے کہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کے قیام کا مطالبہ اب مزید زور پکڑتا جا رہا ہے اور کوئی سیاسی یا سماجی تقریب ایسی نہیں جس میں الگ صوبے کے قیام کے لئے بات نہ ہو، خصوصاً قومی سیاسی جماعتوں نے بھی اب اس مطالبے کو دہرانا شروع کر دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے تو اس مطالبے کو اپنے منشور کا تقریباً حصہ ہی بنا ڈالا ہے جس کے لئے وہ دن رات کام کر رہے ہیں اور اسی مارچ میں بلاول بھٹو زرداری کے ملتان میں منسوخ ہونے والے جلسے کا سلوگن بھی ’’سرائیکی صوبہ ریفرنڈم‘‘ تھا لیکن حکومت کی طرف سے سیکورٹی خدشات پر تمام ایسی تقریبات پر پابندی کی وجہ سے یہ جلسہ نہیں ہو سکا تھا تاہم پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی جنوبی پنجاب کے عہدیداروں مخدوم احمد محمود اور دوسرے رہنماؤں کے ساتھ مل کر جنوبی پنجاب کے عوام کو اگلے عام انتخابات سے قبل یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی ہی واحد سیاسی جماعت ہے جو جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کا درجہ دینے کا عزم اور صلاحیت رکھتی ہے جس کے لئے وہ عوام کے ساتھ ساتھ مقامی سیاسی رہنماؤں کو بھی قائل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اب ان رہنماؤں کی بات پر کون کس حد تک اعتبار کرتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس سلسلہ میں اب تحریک انصاف بھی پیچھے نہیں رہی اور وہ بھی مخدوم شاہ محمود قریشی اور مقامی رہنماؤں کی قیادت میں جنوبی پنجاب کی سیاست پر زیادہ ’’دھیان‘‘ دے رہی ہے خصوصاً آبی وسائل اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے جدوجہد کا ذکر کر رہی ہے جس کے لئے آبی مسائل پر ٹاسک فورس بنا کر انجینئر ممتاز احمد خان کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا ہے جو اب کالا باغ ڈیم بناؤ تحریک بھی چلا رہے ہیں اب اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ جاننے کے لئے انتظار کرنا پڑے گا لیکن ادھر حکمران مسلم لیگ (ن) انتخابات کے قریب آنے کے باوجود جنوبی پنجاب میں مزید دھڑے بندیوں کا شکار ہو رہی ہے لیکن حیرت ہے کہ ن لیگی قیادت اس پر بالکل کان بھی نہیں دھر رہی۔یہ ان کی کیا سیاسی حکمت عملی ہے یہ ن لیگی قیادت ہی بتا سکتی ہے مگر ایک بات واضح ہے کہ اس مرتبہ جنوبی پنجاب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی سیاست جماعت ہی حکومت بنا پائے گی جس کا ادراک شاید ن لیگ قیادت کو نہیں ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -