آئی جی پولیس ناصر درانی کی سبکدوشی کے ساتھ ہی دہشتگردی کی خوفناک لہر ابھر کر سامنے آگئی

آئی جی پولیس ناصر درانی کی سبکدوشی کے ساتھ ہی دہشتگردی کی خوفناک لہر ابھر کر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کی مدت ملازمت پوری ہوئی،ان کے سبکدوش ہونے کے ساتھ ہی صوبے کے مختلف اضلاع اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں خودکش حملوں سمیت بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی لہر ابھر کر سامنے آئی جسے عام لوگ آئی جی ناصر درانی کو دہشتگردوں کی طرف سے الوداعی سلامی قرار دے رہے ہیں خود کش حملہ آواروں پر مشتمل دہشتگردوں نے مہمند ایجنسی کے علاقہ مچن میں ایف سی کے ایک ٹریننگ سنٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی دہشتگردوں نے حملے کیلئے نماز فجر کے اوقات کا انتخاب کیا دہشتگردوں نے ایف سی کی وردیوں میں ملبوس ہوکر عقبی راستے سے داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو خودکش بمبار فائرنگ کی زد میں آگئے اس دوران دم توڑتے ایک بمبار کی بارودی جیکٹ پھٹ گئی جس کے نتیجے میں ایف سی کے دوجوان رتبہ شہادت پر فائز ہوگئے سیکورٹی اہلکاروں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر قتل عام کا منصوبہ ناکام بنادیا اگر دہشتگردوں کا گروہ ٹریننگ سنٹر کے اندر داخل ہو جانے میں کامیاب ہوجاتا تو یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب اور سیاہ دن کو جنم دے سکتا تھا مگر ایف سی کے بہادر اور محب وطن جوانوں نے دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیئے جس کیلئے شہید اہلکاروں کو جس قدر خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے اس روز دہشتگردی کے دوسرے واقعے میں لنڈیکوتل کے نواحی گاؤں لوئے شلمان میں سرحد پار سے دہشتگردوں نے ایف سی کی چوکی پر حملہ کیا مگر ایف سی کے چوکس جوانوں نے نہ صرف حملہ پسپا کر دیا بلکہ جوابی کاروائی میں 6 دہشتگرد مار ڈالے اس کاروائی میں بھی 2 اہلکاروں کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں پشاور کے علاقہ تہکال میں پولیس موبائل پر دہشتگردوں نے اچانک فائرنگ کردی جس سے پولیس کا ایک اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے پولیس کی جوابی کاروائی میں ا یک حملہ آوار زخمی ہوگیا اس روز نوشہرہ میں ایس ایچ او رسالپور کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی معجزانہ طور پر اس واقع میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جمرود میں خاصہ دار فورس کے ایک اہلکار کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے جو دو روز قبل لاپتہ ہوا تھا سیکورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں شبقدر سمیت مختلف مقامات پر 14 دہشتگرد ہلاک کئے گئے۔
خیبر پختونخوا کی حکومت نے پولیس کی بیش بہا قربانیوں کااعتراف کرتے ہوئے ان کی اپ گریڈیشن کی حتمی منظوری دے دی جس کے بعد اب کے پی پولیس کے پے سکیل پنجاب پولیس کے برابر کردیئے گئے اپ گریڈشن کے اس فیصلے سے پولیس اہلکاروں میں خوشی کی لہر پیدا ہوگئی خیبرپختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا تین روزہ دورے پرافغانستان روانہ ہوگئے گورنر افغانستان میں جشن نوروز کی تقریبات میں شرکت کرینگے تاہم اس بات کا قومی امکان ہے کہ اس دوران وہ افغان حکام سے ملاقاتیں کرکے پاک افغان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرینگے گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے اپنے دورہ افغانستان کیلئے خصوصی طیارہ حاصل کیا جوکہ تین روز تک گورنر کے ہمراہ رہے گا گورنر کے اس فیصلے اور اقدام پر سوشل میڈیا نے تنقید کا طوفان کھڑا کردیا ہے جس میں موقف اختیار کیا جارہا ہے کہ غریب صوبے کے امیر ترین گورنر عوام کے وسائل اپنی سیروتفریح پر خرچ کررہے ہیں بہر حال اب اس بات کا امکان ہے کہ گورنر پاک افغان تعلقات بہتر بنانے کیلئے کچھ نہ کچھ سفارتکاری ضرور کرائینگے۔
چند روز قبل میڈیا میں سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر کی مبینہ کرپشن اور نیب کی طرف سے تحقیقات شروع کرنے کی خبریں اچانک میڈیا کی زینت گئیں جس سے ہرطرف ایک طوفان کھڑا ہوگیا تاہم اسد قیصر نے ایک زور دار پریس کانفرنس میں کرپشن کے الزامات سے متعلق تمام ثبوت اور دستاویزات پیش کردیں جس کے بعد نیب کواپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑ گیا اور کہا کہ انہوں نے اسد قیصر کیخلاف تحقیقات کیلئے کوئی خط نہیں لکھا تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اس سارے عمل کو مسلم لیگ کی سازش قرار دیتے ہوئے موٹو گینگ کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ وہ اس بات کی تہہ تک پہنچیں گے کہ خط اگر نیب نے نہیں لکھا تو پھرکس نے لکھا ؟ اسد قیصر اور عمران خان اپنی جوابی پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت اور مسلم لیگ پر خوب گرجتے اور برستے رہے اس شور شرابے میں تحریک انصاف کے سابق وزیر ضیاء اللہ آفریدی نے اسد قیصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیب اسد قیصر کیخلاف کاروائی کرنے کی بجائے اپنے موقف سے پیچھے کیوں ہٹ گئی کیا نیب صرف سیاسی مخالفین کو حراساں کرنے کیلئے بنائی گئی ہے ضیاء اللہ آفریدی کے اس مزاحمتی بیان کو عمران خان اور اسد قیصرکے شور شرابے کے باعث میڈیا میں کوئی خاص جگہ نہ مل سکی اور چائے کی پیالی میں اٹھنے والا یہ طوفان محض دو روز میں ختم ہوگیا ۔
اس دوران پشاور ہائیکورٹ نے پی کے 54 مانسہرہ سے منتخب مسلم لیگ کے ایم پی اے میاں ضیاء الرحمان کو نااہل قرار دیے دیا ہائی کورٹ نے مذکورہ ایم پی اے کو اسکی تعلیمی اسناد جعلی ثابت ہونے پر نااہل قرار دیا ضیاء الرحمن کی نااہلی سے قبل مہمند ایجنسی نے جمعیت علماء اسلام کے ایک اور بانی رکن نے پارٹی سے استعفی دے کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی مسلم لیگ کے ایم پی اے کی نااہلی اور جے یو آئی کے بانی رکن کی تحریک انصاف میں شمولیت سے عمران خان اور پرویز خٹک کو خاصا سیاسی استحکام ملا تاہم تحریک انصاف کو انتہائی خاموشی کے ساتھ اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب پی ایس ایل کی فاتح ٹیم پشاور زلمی کو گورنر ہاؤس میں مدعو کیا گیا جہاں گورنر اور وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے زلمی کی ٹیم کو غیر معمولی پروٹوگول دیا اس کے سے قبل پشاور زلمی کی ٹیم کو کورکمانڈر پشاور نے بھی مدعو کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی تھی جبکہ صوبائی حکومت اعلان کرنے کے بعد پیچھے ہٹ گئی اور عمران خان نے نہ صرف غیر ملکی کھلاڑیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے بلکہ صوبائی حکومت کی طرف سے 2 کروڑ روپے اعلان پر بھی اپنی سخت برہمی کااظہار کیا اوراب پشاور زلمی گزشتہ ایک ہفتے سے پشاور میں سرکاری مہمان ہے جن کے اعزاز میں مختلف تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -