ٹی ڈی اے اراضی سکینڈل ،نیب نے سابق ایم پی اے رفیق کھر کیکلاف تحقیقات کی منظوری دیدی

ٹی ڈی اے اراضی سکینڈل ،نیب نے سابق ایم پی اے رفیق کھر کیکلاف تحقیقات کی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان(نمائندہ خصوصی)نیب نے اربوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال سرکاری اراضی ہتھیانے کے الزام میں سابق ایم پی اے اور سابق تحصیل ناظم کوٹ ادو ملک رفیق کھر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دے دی ہے۔ملک رفیق کھر نے 2008ء میں اس وقت کے ڈسٹرکٹ آفیسر ر(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )
یونیو غلام اکبر خان کھچی،نائیب تحصیلدار ریونیو فیلڈ سٹاف کی ملی بھگت سے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی4400کنال اور موضع شادی خان منڈا میں1ہزار کنال اراضی ہتھیا لی۔ملک رفیق کھرنے سرکاری اراضی ہتھیانے کیلئے بوگس دستاویزات تیار کیں اور ہزاروں کنال اراضی اپنے بیٹوں اور فرنٹ مین کے نام منتقل کرائی۔معلوم ہوا ہے ملک رفیق کھرنے ایک اور کیس میں اپنے والد کے نام کی بوگس دستاویزات تیار کیں ریونیو آفیسران اور فیلڈ سٹاف کی ملی بھگت سے محکمہ ملا کی دستاویزات میں جعل سازی کی۔بعدازاں اصل اراضی مالک کے دستاویزات کی جگہ اپنے والد کی دستاویزات چسپاں کردیں۔ملک رفیق کھر نے ریونیو ریکارد میں تو تبدیلیاں کردیں لیکن اصل اراضی مالکان سے قبضہ نہ لے سکا۔بعدازاں انہوں نے ٹی ڈی اے کی سرکاری اراضی پر قبضہ نہ لے سکا۔بعدازاں انہوں نے ٹی ڈی اے کی سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے مختلف لوگوں کو فروخت کردی،اس فراڈ کی انکوائری سابق ڈی سی او مظفرگڑھ ابرار احمد مرزا نے کرائی،انکوائری آفیسر انجینئر امجد شعیب ترین حال ڈائریکٹر انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ڈیرہ غازی خان نے اپنی رپورٹ میں فراڈ کی نشاندہی اور سرکاری اراضی واگزار کرانے کی سفارشات پیش کیں۔اس انکوائری کے بعد اب یہ کہیں بورد آف ریونیو پنجاب کی فائیلز میں دفن ہوچکا ہے۔اس حوالے سے معروف ایڈووکیٹ راؤ زاہد شہباز خان نے ڈی جی نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک رفیق کھر اور محکہ مال کے عملہ کے اس فراد کی باقاعدہ انکوائری اور سرکاری اراضی واگزار کروا کر ملزموں کو سزا دلائی جائے۔
ٹی ڈی اے اراضی سکینڈل